Global Editions

ڈی این اے ڈیٹا بیس کوموثر بنانےوالے سائنسدان سے گفتگو

جب ہیومن جینوم پروجیکٹ نے 15 سال پہلے ہمارے ڈی این اے بلیو پرنٹ کو ظاہر کیا تو اس وقت سے لے کر اب تک دنیا بھر کے بہت سے مختلف حصوں سے لاکھوں افراد کا جینیاتی ڈیٹا لیا گیا ہے۔ چارلس ڈی بسٹامنٹےکا کام یہ ہے کہ جینیاتی ڈیٹا سے قدیم انسانی تاریخ کا پتہ لگائے، انسانی ہجرت کے پیٹرن سے لیکر کی مختلف آبائواجداد کے لوگوں میں عام بیماریوں کی طرف مختلف رسپانس کا پتہ چلائے۔

چارلس ڈی بسٹامنٹےکا کیرئیر ہیومن جینیوم پروجیکٹ کے مکمل ہونے کے وقت سے چل رہا ہے۔ اسٹینفورڈ میں جینٹیکس اوربائیومیڈیکل ڈیٹا سائنس کے ایک پروفیسر اور2010 میں میک آرتھر جینس ایوارڈ جیتنے والے بسٹامنٹےنے مختلف آبادیوں میں پیچیدہ جینیاتی تبدیلیوں کو دور کرنے میں مدد کی ہے۔ یہ متغیرات بتاتے ہیں کہ بیماریوں کےاسباب گروپوں کے درمیان بہت مختلف ہوسکتے ہیں۔بسٹامنٹےوینزویلا میں پیدا ہوا تھے اور سات سال کی عمر میں امریکہ منتقل ہوگئے تھے۔بسٹامنٹے ہمارے طبی مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔

یہ دور ادویات کو بہتر بنانے کا ہے تاہم یہ جینیاتی فرق کی وجہ سے تنازعات سے بھرا ہوا ہے۔ یہ دور نسل اور قومیت کے ساتھ بھی بھرا ہوا ہے اور مختلف گروہوں کی خصوصیات کو متعین کرنے میں سائنس کامسلسل غلط استعمال ہو رہا ہے ۔اس سب کے باوجود بسٹامنٹےجدید جینیاتی فرق کو تلاش کرنےکے لئےپر عزم ہے ۔

شاید اس سب کے پیچھے ان کی خوشگوار شخصیت ہےجسے آپ”شاندار” یا “غیر معمولی پرجوش” کے جملے سے بیان کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ان کی شناخت ہے کہ جینیاتی ماہر کے طور پر صحت عامہ کو بہتر بنانے کے لئےا نسانی جینوموں میں فرق کو سمجھنے اور بیماریوں سے لڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے ایڈیٹر ایٹ لارج ڈیوڈ راٹمین نے ان کے ساتھ بات چیت کی کہ کیوں جینیاتی مطالعہ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شامل کرنے اور مختلف آبادیوں کی جینیات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ہم جینومک ڈیٹاکو اکٹھا کرنے میں کس حد تک کامیاب ہیں؟

میں پرامید ہوں لیکن یہ ابھی تک نہیں ہوا ہے۔ہمارے 2011 کے پیپرمیں، جینومک ایسوسی ایشن کے مطالعہ میں 96 فیصد سے زائد شرکاء یورپی نسل کے تھے۔ 2016 کے فالو اپ میں، یہ تعداد 96فیصد سے تقریباً 80 فیصد تک چلی گئی۔ یہ بہتر ہو رہا ہے۔ بدقسمتی سے، یا شاید خوش قسمتی سے، ایسا اس لیے ممکن ہوا ہوا ہے کہ چین جینیات کے مطالعہ میں داخل ہو گیا ہے۔ چینی اور مشرقی ایشیائی آبادی میں بڑے پیمانے پر مطالعہ کی وجہ سے یہ تعداد بڑھ گئی ہے۔  مثال کے طور پر،ہسپانوی لوگوں کی جینوم ایسوسی ایشن کےمطالعہ میں تعداد 1 فیصد سے کم تھی۔ ہمیں اچھا کرنے کی ضرورت ہےکیونکہ ہم صیح دوا بنانا چاہتے ہیں جس سےہم سب کو فائدہ پہنچے۔

جینومک ڈیٹا میں ڈائیورسٹی کیوں اہم ہے؟ اس کے بغیر کس چیز کی کمی رہ جاتی ہے؟

سب سے پہلے، اس کا سیاسی درستی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کا تعلق انسانی حیاتیات کے ساتھ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ انسانوں کی آبادی اور تارکین وطن نے انسانی جینوم پر اپنا نشان چھوڑ ا ہے۔ صحت اور جینیاتی بیماریوں میں قدر مشترک ہے اور کچھ چیزیںمختلف آبادیوںکا امتیاز ہیں۔

ان کا کیسےپتا چلتا ہے؟

ذیابیطس ایک بہترین مثال ہے۔ اگر ہم ذیابیطس کی جینیات کو دیکھتے ہیں، تویہ دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف ہیں۔ 2010 کے آغاز میں، براڈ(ایم آئی ٹی اور ہاورڈ کاانسٹی ٹیوٹ) نے میکسیکو میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جینیومک میڈیسن کے ساتھ ذیابیطس کے جینیات کا مطالعہ کیا۔ یقین سے انہوں نے میکسیکو میں25 فیصد تغیر دیکھا جو کہ یورپی، مشرقی ایشیا یا افریقی آبادی میں نہیں تھا۔ یہ صرف امریکہ میں بڑے پیمانے پر دیکھا جاتا ہے، اور یہ ذیابیطس میں نسلی تفاوت کا ایک بڑا حصہ ہے۔

ہم نے چھوٹی علامات جیسے سنہرے بالوں پر تحقیق کی ہے۔ کوئی زیادہ فینوٹائپ نہیں ہے۔ کچھ لوگ کے سنہرے بال ہیں اور کچھ لوگ کے نہیں ۔ اور ملانئشیا( (Melanesia میں سنہرے بالوں کا سبب یورپ کے سبب سے بالکل مختلف ہے ۔ لہٰذ آپ کیوںکہہ سکتے ہیں کہ ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور دوسری بیماریوں کی تمام انسانوں میں ایک ہی وجوہات ہیں؟ یہ خیال ٹھیک نہیں ہے۔

اس سے پتا چلتا ہے کہ دمہ (امریکہ میں) پورٹو ریکن کے افراد میں سب سے زیادہ ہے، اس کے بعد افریقی امریکی نژاد افراد میں اور اس کے بعد یورپی آبادی میں۔ دمہ کی سب سے کم شرح میکسکو میں ہے۔ہسپانوی آبادی میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔

جینیاتی فرق کی تفصیل دوا کے لئے کیوں مفید ہے؟

اگر بیماری کی جینیات مختلف ہے، تو ہمیں ادویات کے نئے مقاصد کو تلاش کرنے کا موقع فراہم ہوتا ہے۔ یہ ہمیں نئی ​​حیاتیات فراہم کرتا ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے استعمال کی جا سکتی ہے جن کو اس انداز سے بیماری نہیں لگی ہوتی۔ یہ چیزادویات کی دریافت کے لئے ضروری ہے۔ اگر آپ اس کے بارے میں سوچتے ہیں کہ ہم تیل کی تلاش کر رہے ہیں توہم صرف شمال سمندر میں تیل کی تلاش کر رہے ہیں۔ تلاش کرنے کے لئے بہت ساری جگہیں موجود ہیں اور اس کا ہر کسی کو فائدہ پہنچے۔
دوسرا ہم یہ پتہ چلا رہے ہیں کہ یورپی آبادی کے لئے پولی جینک خطرہ کے سکور (جینیاتی ٹیسٹ کی بنیاد پر مرض کے خطرے کی پیشن گوئی) دوسری آبادیوں کے لئے ٹھیک ثابت نہیں ہوتے۔ اگر طبی اور پاپولیشن جینیات میں وسیع نمائندگی نہیں ہو گی ہے تو صحت اور صیح ادویات ٹھونڈنے میں مسائل
ہو نگے۔

تو کیا آپ جینومک ڈیٹا میں زیادہ آبادی کی نمائندگی نہ ہونے سے مایوس نہیں ہوئے؟

میں اصل میں بہت پر امید ہوں۔ ہم نے یورپ میں ٹارگٹ ادویات کے لئے بہت کام کیا ہے۔ آئس لینڈ میں بہت کام ہوا، برطانیہ میں بھی اور اب فن لینڈ میں۔ لہٰذا ہم ان تمام وسائل کو اچھے طریقے سے اکٹھا کر رہے ہیں۔ لیکن لاطینی امریکہ کے بارے میں کیا ہے؟ افریقہ کے بارے میں کیا ہے؟ جنوبی ایشیا کے بارے میں کیا ہے؟ ان تمام جگہوں میں ہمارے لئےصحت اور بیماری کو سمجھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔اگر ہم ان آبادیوں میں کام نہیں کرتے توہم ایک اخلاقی ذمہ داری کھو دیتے ہیں اور سیکھنے کاایک سائنسی موقع بھی۔

بہت سے جینیاتی محققین طویل عرصے سے دلیل دے رہے ہیں کہ نسل کی سائنس میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔ لیکن اس حوالے سےبحث آگے نہیں بڑھ رہی۔

عالمی سیاق و سباق کے حوالے سے تین یا پانچ، یا یہاں تک کہ 10 انسانی نسلوںکا کوئی ماڈل نہیں ہے۔ جینیاتی متغیر ات کاایک وسیع تسلسل ہے اوراس کا ایک ڈھانچہ ہے۔کچھ علیحدہ آبادیاںموجود ہیں۔ تین، پانچ، یا 10 انسانی نسلوں کاصرف ایک درست ماڈل نہیں ہے؛ یہ ایک مسلسل جاری ماڈل کی شکل ہے۔
انسان فینوٹائپ اور جینیاتی طور پر مختلف قسم کی نسل ہیں۔ یہ بہت کلاسک آبادی کی جینیات ہے۔ اگر میں کیپ ہارن سےفن لینڈ کے اوپر چلتا جائوں، تو سارے گاؤں ایک ہی کی طرح کے نظر آتے ہیں لیکن لوگ مختلف ہیں۔

لیکن آبادی میں جینیاتی لحاظ سے ان میں کیا فرق ہے؟
میں لوگوں کو پہچاننے کے لئے نسل کا سہارا نہیں لیتا۔

تاہم آپ ایک مشکل لائن پر چلتے ہیں، کیا آپ نہیں چلتے؟ آپ مختلف آبادیوں کے درمیان متغیرات کی اہمیت کی نشاندہی کر رہے ہیں لیکن آپ نسل کی پرانی درجہ بندی کو ماننا پسند نہیں کرتے؟

ہم اپنی کہانیاں بیان کرنے کے مقصد کے لئے جینیات کا استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔ صحت کے سماجی اثرات عام طور پر صحت کے جینیاتی تخمینوں سے کہیں زیادہ اہم ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جینیات اہم نہیں ہے۔ لہٰذا آپ کو پیچیدگی سے گزرنا پڑتا ہے اور اس کو عام عوام کے لئے آسان بنانا پڑتا ہے۔

میں اصل میں ایک پرامید آدمی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ دنیا میں نسل پرستی کم ہو رہی ہے۔ اگر آپ نئی نسل کے لوگوںسے بات کرتے ہیں تو یہ ان چیزوں کو پسند نہیں کرتے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہم سوچتے ہیں کہ جینیات کو صحت ، بیماریوں اور انسانی ارتقاء میں کس طرح اپناکردار ادا کرنا ہے۔

ہم سیاست کو اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ جینیات کو ہائی جیک کرے۔ آپ سیاست اور دیگر مفادات کو اس کام میں آنے کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ آ کے پانی کو گندا کرے۔ آپ ڈیٹا کو آگے بڑھانے کی بات کرتے ہیں۔ آپ نتائج کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں اور باقی لوگ فالو کریں گے۔
صحت سے متعلق صیح ادویات کچھ لوگوں کے لئے مزید ٹھیک ہو رہی ہیں لیکن کئی لوگوں کو بہت پیچھے چھوڑ رہی ہیں۔جو لوگ صیح ادویات حاصل کرنے میں پیچھے ہیںان میںاکثر لاطینی امریکی، افریقی، مقامی امریکی، اور دیگر آبادیوں کے لوگ شامل ہیں اور یہ لوگ جینومکیک ڈیٹا بیس میں شامل نہیں۔

جینوم وائڈ ایسوسی ایشن کے مطالعہ میں زیادہ تر عام بیماریوں سے منسلک جینیاتی متغیرات کا ڈیٹا یورپی آبادی کے لوگوں سے آتا ہے۔ 2011 میں، کارلوس ڈی بسٹمامنٹےاور اس کے ساتھیوں نے ان تفاوتوں کو دور کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ اس طرح کی جینومومک ادویات صرف چند لوگوں کو فائدہ دیں گی۔آنیوالے سالوں میں جینومک ڈیٹا میں بہت حد تک اضافہ ہو گیالیکن تفاتیں باقی ہیں۔ 2016 میں واشنگٹن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم اور اب بسٹنٹ کی لیب میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کرنے والے الیس پوپی جائے(Alice Popejoy) نے نیچر رسالے میں میں نتائج کو اپ ڈیٹ کیا ہے اور زیادہ تر آبادی کے گروپوں میں تھوڑی ترقی دیکھی ہے۔

ڈیٹا کی اس کمی کی ایک وجہ یہ ہے کہ جینیاتی ٹیسٹ کم نمائندگی والےگروپوں کے لوگوں میں کم متعلقہ اور درست ہوسکتے ہیں۔ بڑھتے ہوئی مقبول صارفین کے جینیاتی ٹیسٹ گمراہی کی طرف لے جا سکتے ہیں یا مکمل غلط ہوسکتے ہیں اور بعض عام بیماریوں کے لئے طبی جینیاتی ٹیسٹ اکثر ٹھیک نہیں ہیں۔ اسی طرح، پوپی جائے کہتے ہیں کہ جینیاتی تشخیص میں جھوٹے مثبت اور جھوٹےمنفی نتائج غیر غیر یورپی آبادی والے لوگوں میں زیادہ عام ہیں کیونکہ نتائج ڈیٹا بیسس کا استعمال کرتے ہوئے لئے جاتے ہیں جو کہ نامکمل ہیںیا یورپی آبادی کے لئے ہیں۔

تحریر: کارلس ڈی بسٹامنٹے(Carlos D. Bustamante)

Read in English

Authors

*

Top