Global Editions

کلین ٹیک توانائی ذرائع کے حصول کےلیے کوششیں

قابل تجدید توانائی ذرائع اور کلین ٹیکنالوجی دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے اور اب قابل تجدید توانائی ذرائع کو دنیا کے تمام بڑے ممالک تیزی سے اپنا رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ توانائی کے حصول کے روایتی ذرائع جن میں کوئلے، فرنس آئل اور قدرتی گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کے بجائے ان ذرائع کے استعمال کے لئے عالمی دباؤمیں اضافہ ہو رہا ہے جو گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کا سبب نہ بننے کے ساتھ ساتھ قابل تجدید ہوں۔کلین ٹیک ایک وسیع البنیاد اصطلاح ہے تاہم یہاں اس سے مراد ایسی ٹیکنالوجیز ہیں جن کو بروئے کار لاتے ہوئے آلودگی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ زیادہ موثر کارکردگی، وسائل کا بھرپور استعمال، بہتر مینجمنٹ اور کاربن کا اخراج کم سے کم حد میں رکھا جا سکے۔ اسی طرح قابل تجدید توانائی ذرائع سے مراد توانائی کے حصول کے ایسے متبادل قدرتی ذرائع ہیں جنہیں بار بار استعمال کیا جا سکتا ہے جیسے ہوا، پانی، سورج کی روشنی، بارش، سمندی لہریں اور زمین کی اندرونی حدت سے توانائی کا حصول وغیرہ شامل ہیں۔ توانائی کے حصول کے لئے مروجہ روایتی طریقوں پر انحصار کم کرنے کی عالمگیر کاوشوں کی بدولت اب توجہ توانائی کے حصول کے لئے متبادل ذرائع پر مرکوز ہو چکی ہے۔پاکستان میں توانائی بحران کو ایک دہائی گزر چکی ہے اور اس کی بدولت ملکی معیشت میں ترقی کی شرح میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے اور اس بحران کی وجہ سے کاروباری طبقے کو توانائی کے حصول کے لئے جنریٹرز وغیرہ پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے کاروباری لاگت بڑھنے کے اثرات صارفین کی جانب منتقل ہو جاتے ہیں کیونکہ جب مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی تو دباؤ صارفین پر آئے گا۔ اس صورتحال میں پاکستان کے توانائی ذرائع میں تنوع لانے کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔اس ضمن میںدنیا کا سب سے بڑا شمسی توانائی کا پلانٹ قائد اعظم سولر پاور پلانٹ پنجاب میں آپریشنل ہو چکا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جام پور میں ونڈ پاور پلانٹ نصب کیا جا چکا ہے اس کے علاوہ بائیس ونڈ پاور پراجیکٹس زیرتعمیر ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کے ایک کثیرالاشاعت روزنامے کی رپورٹ کے مطابق ’’ایک برس کے اندر ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 250 سے بڑھ کر 1530 میگاواٹ ہو سکتی ہے‘‘۔ تاہم ان تمام کوششوں کے باوجود پاکستان ابھی تک توانائی کے حصول کے لئے روایتی طریقوں پر انحصار برقرار رکھے ہوئے ہے۔دنیا بھر میں مختلف سیمنارز، کانفرنسز اور فورمز کے ذریعے توانائی کے حصول کے لئے متبادل ذرائع کے حصول اور ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے۔اسی حوالے سے قازقستان کے شہر آستانہ میں کلین ٹیک اور قابل تجدید توانائی ذرائع کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس 27 اکتوبر کو منعقد کی جا رہی ہے۔ نیو انرجی گلوبل سٹارٹ اپ فیسٹیول میں دنیا بھر سے صف اول کی ایک سو سے زائد نئی کمپنیاں شرکت کرینگی ان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے ماہرین اور سرمایہ کار بھی اس فیسٹیول میں شرکت کرینگے اس ایونٹ میں ماہرین کا پینل تیس کمپنیوں کو منتخب کریگا جو آستانہ ایکسپو 2017 ءمیں شرکت کرینگے۔

تحریر: نشمیا سکھیرا (Nushmiya Sukhera)

Read in English

Authors
Top