Global Editions

اینٹی بائیوٹکس کو بہتر بنانے کے لئے ارتقاء کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے

نام: سیزر دی لا فیونتے (Cesar de la Fuente)
ادارہ: یونیورسٹی آف پینسلوینیا (University of Pennsylvania)
جائے پیدائش: سپین

سائنسدان جس تیزی سے نئے اینٹی بائیوٹکس بناسکتے ہیں، بیکٹیریا اس سے زیادہ تیزی سے ارتقاء سے گزرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیزر دی لا فیونتے نے ایسے الگورتھمز بنائے ہیں جو ڈاروین (Darwin) کے ارتقاء کے قوانین پر چلتے ہوئے مقصد کے لیے موضوع مصنوعی اینٹی بائیوٹکس بناتے ہیں۔  پروٹین کے مرکب پیپٹائیڈز (peptides) کے ماہر کی حیثیت سے، طبی مسائل کو حل کرنے کے لیے انہوں نے ایک ایسا طریقہ ایجاد کیا ہے جو زہریلی پروٹینز، جیسے کنڈی کے اندر پائے جانے والا زہر، کو اینٹی مائکروبیلز (antimicrobials) میں بدلتا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے انسانی جسم کے موجودہ بڑے پروٹین ڈیٹابیس (database) کو کھنگال کہ ایسے سالمے دریافت کیے ہیں جو نقصان دہ مائیکروبز کو مار سکتے ہیں۔

لا فیونتے کو ہمیشہ سے ہی مائیکروبز کے زندہ رہنے کی صلاحیت میں بڑی دلچسپی رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ “میں ہر روز ان لوگوں کے بارے میں سوچتا ہوں جو اس ملک میں بلکہ پوری دنیا میں، قابل علاج انفیکشنز کے نتیجے میں مر جاتے ہیں اور میں کوشش کرتا ہوں کہ اس کا کوئی حل سوچوں۔”

کمپیوٹر کے ذریعے اینٹی بائیوٹکس بنانے کے علاوہ ، دی لا فیونتے جو یونیورسٹی آف پینسلوینیا میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے بھی کام کر رہے ہیں۔ وہ  امید کرتے ہیں کہ  ایسی انجینئرنگ کی حکمت عملیوں کو استعمال کرتے ہوئے ان پروٹینز کو تلاش کر سکیں جو ذہنی دباؤ یا بے چینی جیسی نفسیاتی امراض میں کردار ادا کرتے ہيں تاکہ ان میں ایسی ترامیم کی جاسکیں کہ وہ دماغ کے کردار اور رویوں پر اثرانداز ہو سکیں۔

تحریر: کیرن وینتراب (Karen Weintraub)
مترجم: ماہم مقصود

Read in English

Authors

*

Top