Global Editions

انگرکھے سے آگے: دیسی مصوروں کے ڈیجیٹل فن پارے

فاطمہ بیگ
مقامی مصورین اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر وہ کہانیاں منظرعام پر لارہے ہيں جن کے بارے میں عام طور پر بات نہيں کی جاتی۔

جب ہم جنوبی ایشیائی، خاص طور پر پاکستانی، مصوری کی بات کرتے ہيں تو ہمارے ذہن میں عموماً مغل لباس پہنی دودھ جیسی رنگت رکھنے والی لڑکی کی ایک تصویر آتی ہے۔ بعض دفعہ اس کے ہاتھ میں ایک توتا یا ستار بھی ہوتا ہے، یا وہ ایک رنگ برنگا انگرکھا پہنے بڑی نزاکت سے ناچ رہی ہوتی ہے۔ اکثر جدید پینٹنگز میں بھی مقامی ثقافت کے نام پر اسی قسم کے مناظر نظر آتے ہيں۔

تاہم اب پاکستانی ڈیجیٹل مصورین رفتہ رفتہ اس صورتحال کو تبدیل کرررہے ہيں اور ان کے کام کی بدولت دیسی، بالخصوص پاکستانی، رنگ و روپ کی عکاسی زيادہ عام ہونا شروع ہوگئی ہے۔

میکسیکی مصورہ فریدا کاہلو نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ”میں خود کی تصاویر اس وجہ سے بناتی ہوں کیونکہ میں اکثر تنہا رہتی ہوں اور میں اپنے آپ سے ہی سب سے زیادہ واقف ہوں۔“ جب ہمیں موجودہ دور کی پینٹنگز میں ایک کے بعد ایک انگرکھا پہنی لڑکیاں نظر آتی ہیں، انہیں چاہے کتنا ہی ”ماڈرن“ بنانے کی کوشش کی جائے، ہم نہ چاہتے ہوئے بھی شناخت کے بحران کا شکار ہو ہی جاتے ہيں۔

کراچی بٹ ہانٹڈ (Karachi but Haunted) نامی کامک کی مصورہ کومل اشفاق بتاتی ہیں کہ ڈیجیٹل آرٹ کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ اس شعبے میں قدم رکھنا بہت آسان ہے۔ وہ کہتی ہيں کہ ”لاکھوں ٹیوٹوریلز دستیاب ہيں، آپ کو صرف ایک ٹیبلیٹ اور فوٹوشاپ کی ایک سی ڈی خریدنے کی ضرورت ہے، جس کے بعد آپ بھی آرٹسٹ بن سکتے ہیں۔“

مقامی آرٹسٹ شہزل ملک کے کام میں پاکستانی خواتین کے حقیقی تجربات کی واضح طور پر تصویر کشی کی جاتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ڈیجیٹل ٹولز کے باعث اب مصورین کو ایسے کئی مواقع دستیاب ہوچکے ہيں جو انہيں پہلے میسر نہيں تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ اب انہیں دوسروں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے نیٹ ورکنگ کی ضرورت نہيں پڑتی، اور انٹرنیٹ پر کوئی بھی کچھ بھی لگا سکتا ہے۔

پاکستانی شناخت اور سائنس فکشن کا امتزاج پیش کرنے والے مصور عمر گیلانی اس رائے سے متفق ہيں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بدولت مصورین پر ماضی میں عائد کردہ کئی پابندیاں ختم چکی ہیں اور اب انہيں ”لامحدود“ مواقع دستیاب ہوچکے ہيں۔

ایک ڈسٹوپیائی دنیا میں پاکستان کی تلاش

بین الاقوامی میڈیا میں دکھائے جانے والے پاکستانی کردار اکثر پاکستانی کم اور عرب، افغانی یا عراقی زيادہ لگتے ہیں اور اس بیچ ہماری دیسی، بالخصوص پاکستانی، شناخت کہیں کھوگئی ہے۔

ہمیں اب اس غلط سلط نمائندگی کی اتنی عادت ہوچکی ہے کہ جب میں نے 2008ء میں نکلنے والی فلم آئرن مین (Iron Man) میں ٹونی سٹارک (Tony Stark) کے اغواکاروں کو افغانی ہونے کے باوجود صاف اردو بولتے سنا تو مجھے ذرا بھی حیرت نہیں ہوئی۔

کچھ سال بعد بلڈی نسرین (Bloody Nasreen) کے گرافک ناولز منظر عام پر آئے، اور میں انہيں دیکھ کر دنگ رہ گئی۔ ان گرافک ناولز کی مرکزی کردار ایک لڑکی تھی جو خون میں لت پت شلوار قمیض پہنے ایک ہاتھ میں کتانہ اور دوسرے ہاتھ میں بندوق لیے دہشت گردی کا خاتمہ کررہی تھی، اور اسے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ آئرن مین بھی اس کے سامنے کچھ نہيں ہے۔

جو شناخت فن میں نظر آتی ہے، وہی شناخت زيادہ واضح طور پر بیان ہوتی ہے۔ اس کی مثال عرفات مظہر کی مختصر فلم ”شہر تبسم“ میں ملتی ہے۔ اس فلم میں “دنیا کا سب سے خوش ملک” دکھایا گیا ہے، جہاں بجھتی ہوئی مسکراہٹ کو ایک جرم قرار دے دیا گيا ہے۔ پہلی نظر میں تو یہ ایک ڈسٹوپیائی سائبرپنک قسم کی فلم لگتی ہے، لیکن کئی لوگوں کو ایسا لگا جیسے اس میں ان کی اپنی زندگیوں کی تلخ حقیقتوں کی عکاسی کی گئی ہو۔

عرفات مظہر کی فلم شہر تبسم “دنیا کے سب سے خوش ملک” کی کہانی ہے، جہاں بجھتی ہوئی مسکراہٹ ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ کریڈٹ : عرفات مظہر

شہر تبسم کراچی، لاہور، اور اسلام آباد میں دکھائی گئی تھی، اور ہر بار اس کی سکریننگ کے بعد لوگوں سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی۔ ان سے بات کرکے ایسا معلوم ہوا جیسے کہ ہر کسی نے اس فلم کا مختلف مطلب نکالا تھا۔

عرفات بتاتے ہيں کہ ”ہم نے اپنے ناظرین سے پوچھا کہ انہيں اس فلم میں کیا نظر آیا اور انہوں نے پدرشاہی نظام سے لے کر نفسیاتی مسائل پر پردہ ڈالنے کے لیے دباؤ، سرمایہ داری نظام کے مسائل، ماحولیاتی تبدیلی، والدین کا اپنے بچوں پر دباؤ، اور ہراس تک ہر ایک چیز کا ذکر کر ڈالا۔“

مشین پور کا روبوٹ، سرکٹ، انسانوں کی طرح اپنی زندگی کے مقصد کی تلاش میں ہے۔ کریڈٹ : معذ مودود

شہر تبسم کا نام مرحوم انتظار حسین کی اردو کی کہانی ”شہر افسوس“ سے متاثر ہو کر رکھا گیا ہے۔ عرفات بتاتے ہيں کہ ان کے اور ان کی ٹیم کے لیے، یہ سائبرپنک فلم اپنے بارے میں دوسروں کے نظریات کے بجائے خود کے تاثرات کی عکاس ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”آپ کہہ سکتے ہيں کہ اس پراجیکٹ میں ہم نے خود کے اپنے بارے میں خیالات سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔“

معذ مودود کی مشین پور نامی ڈسٹوپیائی فلم بھی اسی قسم کی ایک کوشش ہے۔ یہ فلم سرکٹ (Circuit) نامی ایک روبوٹ کی کہانی ہے جو اس دنیا میں اپنے مقصد کی تلاش میں نکل پڑا ہے۔ معذ بتاتے ہيں کہ انہوں نے اس فلم میں پاکستانیوں کی نہيں بلکہ ہر ایک انسان کی کہانی بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”اس میں ہر کسی کو اپنی کہانی نظر آتی ہے، لیکن میں نے اسے اس طرح سے پیش کیا ہے کہ خاص طور پر پاکستانیوں کے لیے اس میں اپنی حقیقتیں تلاش کرنا زيادہ آسان ہو۔“ ان کی کہانی بیان کرنے کا انداز ہمارے پچپن کی آڈيو ٹیپس کیسٹ کہانی سے ملتا جلتا ہے۔

مشین پور کو ہر اس شخص کے لیے بنایا گيا ہے جو ایک بامقصد زندگی کی تلاش میں ہے، لیکن اس میں ”پاکستانیت“ کا عنصر بہت واضح ہے۔ معذ نے اردو زبان میں مواد کی عدم دستیابی کو دیکھتے ہوئے اسے انگریزی کے بجائے اردو میں لکھنے کا فیصلہ کیا۔

 

وہ کہتے ہيں کہ ”مشین پور بنانے کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو اپنی زندگیوں کے بارے میں سوچنے اور خود کو کریدنے پر مجبور کیا جائے۔ ان کی سوچ بدلنا محض ایک نتیجہ نہيں، بلکہ اصل مقصد تھا۔“

کریڈٹ : معذ مودود

ڈیجیٹل آرٹ کی بدولت نئے نظریات، نئے آئيڈیاز، اور نئی شناختوں کو جنم لینے کا موقع ملتا ہے۔ آج کل کی ٹیکنالوجی ہمیں اس مابعد جدیدیت کے دور میں ہماری شناخت کی تخلیق نو کے لامحدود مواقع پیش کرتی ہے۔ تاہم جہاں ایک طرف اس قسم کے پراجیکٹس نے مصورین کو اپنی شناخت پیش کرنے کا موقع فراہم کیا، وہیں دوسری طرف وہ مسائل کو ڈسٹوپیائی رنگ دے کر ہمیں ڈر و خوف کے احساسات سے دوچار بھی کرتے ہیں۔

شناخت کے خزانے کی کھوج

ہماری شناخت نژاد، ثقافت، اور نسل سمیت کئی مختلف چیزوں پر مشتمل ہے۔ کچھ مصورین کو ”پاکستانیت“ کے رنگ میں رنگنے کے لیے دوسری ثقافتوں، بالخصوص مغربی ثقافتوں، کے ساتھ اپنے تعلقات کو تھوڑی دیر کے لیے نظرانداز کرنے کی ضرورت پیش آئی۔

عمر گیلانی بھی انہی مصورین میں سے ایک ہیں۔ ان کی مغربی انداز بیاں سے ہٹ کر دنیا دیکھنے کی اس خواہش کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے خود کو ڈیجیٹل مصوری سکھائی اور اس کے نتیجے میں پاکستانی ثقافت اور سائنس فنکشن کا ایک منفرد امتزاج سامنے آيا ہے۔

برطانوی مصور جاناتھن کیئرنی (Jonathan Kearney) نے ایک تحریر میں لکھا تھا کہ ”ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اس بیل سے مشابہت دی جاسکتی ہے جس کی ٹہنیاں آپس میں اس قدر جڑی ہوئی ہیں کہ انہيں علیحدہ کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔“ ڈیجیٹل آرٹ کے باعث عمر جیسے مصورین کے لیے ان عناصر کو مقامی سیاق و سباق میں ڈھالنا ممکن ہوا ہے۔ ان کی تصاویر میں مغربی آئيڈياز کو مقامی رنگ میں پیش کیا گيا ہے، اور کیئرنی کی بیل کی طرح، مقامی ثقافت کو ایک مزيد وسیع حقیقت سے ایک اٹوٹ ڈوری کے ساتھ باندھا گيا ہے۔

اس قسم کی تصاویر میں مغربی آئيڈیاز کا استعمال تو کیا گيا ہے، لیکن یہ ہر زاویے سے پاکستانی ہی نظر آتی ہیں۔ انہيں دیکھ کر خیال آتا ہے کہ ہولی وڈ کی ایکشن فلموں میں اگر پاکستانی گاڑیاں نظر آئيں تو کتنا مزہ آئے۔ کریڈٹ : عمر گیلانی

ان کی ہر تصویر کا ایک ایک عنصر پاکستانی شناخت کی عکاسی کرتا ہے، چاہے وہ ایک آسمانی ڈھابے کے باہر اڑنے والے ایک ٹرک کی شکل میں ہو یا مہنگا عروسی لباس پہنے ایک مہارانی کے ہاتھوں کے درمیان تھرکتی ہوئی بجلی کی شکل میں ہو۔

کریڈٹ : عمر گیلانی

عمر کی تصاویر ہیں تو نہایت دلچسپ، لیکن ان کے مطابق انہوں نے شروع میں اپنے آرٹ کو سنجیدگی سے نہيں لیا۔ وہ بتاتے ہيں کہ ”میں دیکھنا چاہتا تھا کہ سائنس فکشن کے تصورات کو ایک دیسی پس منظر میں کس طرح پیش کیا جاسکتا ہے۔ جب میں نے کام شروع کیا تو مجھے توقع نہيں تھی کہ میں اسے اتنا آگے بڑھا سکوں گا، لیکن مجھے اتنا مزہ آنے لگا کہ میں نے اس کے بعد کبھی پیچھے مڑ کر نہيں دیکھا۔ مجھے پرانے سائنس فکشن کی کتابوں اور فلموں، ناولوں، اور فن دیکھ کر نئے آئيڈیاز آتے رہتے ہیں۔“

ڈیجیٹل آرٹ کی بدولت عمر کے لیے اپنی پاکستانی شناخت کو منظر عام پر لانا ممکن ہوا۔ ایک ایسی دنیا میں جس میں ہر موڑ پر اکثریت کی پسند کو فوقیت دی جاتی ہے، عمر کو اپنے وجود کی گہرائیوں میں جھانک کر دیکھنے کا موقع ملا۔ انہيں اپنے چاروں طرف صرف اور صرف دلبرداشتہ کرنے والی خبریں سنائی دیتی تھیں، لیکن انہيں معلوم تھا کہ اس ملک میں اور بھی بہت کچھ ہے۔

عمر بتاتے ہيں کہ ”سائنس فکشن کی دنیا میں یہ سب کچھ کوئی معنی نہیں رکھتا اور میں اپنی ثقافت کے قریب آنے کے لیے وہ سب کچھ کر سکتا تھا جو ميں کرنا چاہتا تھا۔“

کومل کے کامکس کے پیچھے بھی اسی قسم کی سوچ تھی۔ اپنی شناخت اور اپنے آبائی شہر کراچی کے لیے ان کی تڑپ نے آخرکار کراچی بٹ ہانٹڈ کی شکل لی۔ یہ ویب کامک کراچی کے کارساز روڈ پر نظر آنے والی چڑیل کی کہانی ہے، جو پہلی نظر میں تو بہت خوبصورت لگتی ہے لیکن اپنے قریب آنے والوں کو کھا جاتی ہے۔

کومل کہتی ہيں کہ ”مجھے زیادہ تر یا تو مغربی میڈيا پیش کیا جاتا ہے یا بھارتی۔ مجھے جب نظر آیا کہ پاکستان سے نہ تو زيادہ آرٹ سامنے آرہا ہے اور نہ ہی کہانیاں، تو میں نے خود ہی یہ کمی پوری کرنے کی ٹھانی۔“ ان کے کامکس میں شروع میں تو صرف کارساز روڈ کی مشہور چڑیل کی ہی کہانیاں تھیں، لیکن آہستہ آہستہ ان کے کام میں پاکستانی کہانیوں کے دوسرے خوفناک کردار بھی نظر آنے لگے۔

کومل اشفاق کی کارساز چڑیل بعض اوقات دوست بھی بناتی ہے۔ کریڈٹ : کومل اشفاق

امریکہ میں قیام کے دوران، کومل ایسا کچھ کرنا چاہتی تھی جس سے ان کے ملک میں رہنے والے واقف ہوں۔ وہ اپنے کامک کے ذریعے دوسروں کو پاکستان پیش کرنے کے بجائے پاکستانیوں کو یہ بتانا چاہتی ہيں کہ پاکستانی ہونے کا آخر کیا مطلب ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ”میں دنیا کو یہ نہيں بتانا چاہتی کہ پاکستان کیا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ میرے کام کو اسی طرح دیکھیں جس طرح وہ جاپانی مانگا یا اینیمے کو دیکھتے ہيں۔ ان میں تو نہيں بتایا جاتا کہ جاپان اور جاپانی ثقافت کیا ہیں۔ لوگ ان سے پھر بھی اسی طرح لطف اندوز ہوتے ہيں۔ پاکستان ایک بہت بھرپور ثقافت رکھتا ہے اور اسے کسی کو کسی قسم کی وضاحت دینے کی ضرورت نہيں ہے۔“

شہزل کا سفر کومل سے کافی ملتا جلتا ہے۔ انہوں نے ایک دہائی پہلے ڈیجیٹل مصوری کی دنیا میں قدم رکھا، لیکن اُس وقت ان کا کام مغربی خیالات سے بہت متاثر تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ”ہمیں احساس نہيں ہوتا، لیکن ہمیں ابھی برطانوی سامراجیت سے نکلے زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے، اور ہم اکثر میڈیا پر وہ مناظر دیکھتے ہیں جن کا تعلق دنیا کے دوسرے حصوں سے ہوتا ہے۔“

ہماری شناخت ایک اندرونی نظام ہے، جسے ہم خود منتخب کرتے ہیں اور جو ہماری اندرونی پہچان کو بیرونی دنیا سے جوڑتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ شناخت کے مطلب میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔

کراچی بٹ ہانٹڈ میں شروع میں تو صرف کارساز روڈ کی مشہور چڑیل کی ہی کہانیاں تھیں، لیکن آہستہ آہستہ اس میں پاکستانی کہانیوں کے دوسرے خوفناک کردار بھی نظر آنے لگے۔ کریڈٹ : کومل اشفاق

کومل کے کام میں اس کی بہت اچھی مثال ملتی ہے۔ کومل کی طرح، شہزل کے ابتدائی فن پاروں میں بھی مغربی خیالات نظر آتے ہیں۔ جب وہ امریکہ پڑھنے گئیں تو انہیں احساس ہوا کہ ان کے کام میں ان کے آبائی ملک کی عکاسی نہیں ہو رہی تھی۔  اس کے بعد انہوں نے اس صورتحال کو تبدیل کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے فن پاروں میں پاکستانی تاریخ اور سیاست کے عناصر شامل کرنا شروع کیے۔

خواتین مصور اور ان کی مصوری

فنون لطیفہ میں دیسی، خصوصی طور پر پاکستانی، تو کم نظر آتے ہی ہیں، لیکن اس شعبے میں خواتین کی نمائندگی اس سے کہیں کم ہے۔

آرٹ میں پاکستانی خواتین کے اکثر دو ہی روپ نظر آتے ہیں: یا تو انہیں ایک مغل شہزادی کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے یا ایک مظلوم عورت کے۔ ڈیجیٹل مصورین اب ٹیکنالوجی کی مدد سے انہیں نئے روپ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ شہزل بتاتی ہیں کہ اب خواتین کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے باعث اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع ملا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”میں نے نوٹ کیا ہے کہ خواتین اس شعبے میں بہت کامیاب ثابت ہو رہی ہیں۔ ان ٹولز کی بدولت وہ اپنے تجربات منظر عام پر لا رہی ہیں، جو ماضی میں ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔“ وہ مزید بتاتی ہیں کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی خواتین کو آن لائن کمیونٹیز میں اپنی جگہ بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے، چاہے گمنام ہی سہی۔ اس کے علاوہ، ان کے باعث لوگوں کو ذاتی تعلقات قائم کیے بغیر اپنی مرضی کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا بھی موقع ملتا ہے، اور خواتین اس کا فائدہ اٹھا کر ایسی کمیونٹیز میں داخل ہورہی ہیں جہاں مرد نظر نہيں آتے۔

اپنی خود کی سچائی بیان کرنے میں بھی ایک عجیب سی قوت ملتی ہے۔

شہزل ایسی زیادہ مصوری دیکھنا چاہتی تھیں اور کہانیاں سننا چاہتی تھیں جن میں انہيں اپنے ذاتی تجربات نظر آتے ہوں۔ وہ بتاتی ہيں کہ انہيں ٹیکنالوجی کا جنون کی حد تک شوق ہے، اور وہ مطالعہ جنسیت اور سیاست میں بھی خاصی دلچسپی رکھتی ہیں، اور یہ شعبہ جات ان کے کام کو بہت متاثر کرتے ہيں۔

کریڈٹ : شہزل ملک

ان تمام عناصر سے ایسے فن پارے جنم لیتے ہيں جن میں لوگوں کو اپنا عکس نظر آتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے باعث کسی بھی ثقافت کو بغیر کسی تاخیر کے نئے معنی دے کر دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ جن چیزوں تک کسی زمانے میں رسائی محدود تھی، آج وہ ہر ایک کے لیے دستیاب ہیں۔

یہ کام اس وجہ سے بہت اہم ہے کیونکہ اس نے ایک مقامی ثقافت کے مطابق ایک ایسا روپ اختیار کیا ہے جس میں مغربی خیالات یا نقطہ نظر کا کوئی عنصر شامل نہيں ہے۔ ان میں خواتین کے متعلق دقیانوسی خیالات کو رد کرکے ان کی بہتر طور پر نمائندگی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

شہزل خواتین کے موجودہ حالات کو اجاگر کرتی ہيں، لیکن فاطمہ بیگ ان کے روشن مستقبل کا خواب دیکھتی ہیں۔ انہیں کئی مختلف ثقافتوں کا تجربہ حاصل ہے، اور وہ اس کا فائدہ اٹھا کر ایک پاکستانی عورت ہونے کے متعلق ایک منفرد نظریہ پیش کرسکتی ہيں۔

فاطمہ بیگ کہتی ہیں کہ ” میری رنگت تو سانولی نہيں ہے، لیکن مجھے ہمیشہ ہی دیسی عورتوں کے مختلف رنگ و روپ بہت دلکش لگتے تھے۔ “ فاطمہ کے فن پارے ان کے اطراف موجود خواتین سے متاثر ہوئے ہیں اور ان میں فاطمہ کے علاوہ دوسری عورتوں کے تجربات نظر آتے ہيں۔ کریڈٹ : فاطمہ بیگ

انہی مختلف تجربات کی بنیاد پر فاطمہ بیگ کے لیے اپنے ذہن میں خواتین کے لیے ایک مختلف حقیقت کا نقشہ کھینچنا ممکن ہوا ہے۔ وہ ہنزہ سے تعلق رکھنے والی ایک اسماعیلی ہیں اور ان دونوں باتوں نے ان کی شناخت قائم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے آبائی علاقے میں عورتوں کو بہت آزادی حاصل ہے، اکثر مردوں سے بھی زيادہ۔

فاطمہ کے تجربات اور شناخت ان کے ”دیسی نژاد“ پر نظر ڈالنے کی بہت اہم وجہ بنے۔ ان کی رنگت گوری ہے، لیکن ان کی تصاویر میں کئی مختلف رنگ و روپ رکھنے والی دیسی خواتین نظر آتی ہیں۔ فاطمہ کے لیے ان کے جلد کی رنگ اور ان کی سیاسی شناخت دو مختلف چیزیں ہيں۔

وہ کہتی ہيں کہ ”میری رنگت تو سانولی نہيں ہے، لیکن مجھے ہمیشہ ہی دیسی عورتوں کے مختلف رنگ و روپ بہت دلکش لگتے تھے۔“ فاطمہ کے فن پارے ان کے اطراف موجود خواتین سے متاثر ہوئے ہیں اور ان میں فاطمہ کے علاوہ دوسری عورتوں کے تجربات نظر آتے ہيں۔

 فاطمہ بتاتی ہيں کہ لوگ ان سے اکثر پوچھتے ہيں کہ وہ صرف خواتین کی تصویریں کیوں بناتی ہیں اور ان کے کام میں انہيں درپیش سماجی مسائل کے بجائے سکون سے بیٹھی ”سست“ عورتیں ہی کیوں نظر آتی ہيں؟ فاطمہ کہتی ہيں کہ ”میرا کام تھوڑا مختلف ہے۔ میں ایک ایسی دنیا دکھانا چاہتی ہوں جو مسائل سے بالکل پاک ہو۔“

وہ  مزید کہتی ہيں کہ ”مجھ سے کئی لوگ کہتے ہيں کہ انہيں میرے کام میں صرف ایسی خواتین نظر آتی ہيں جو چائے پینے یا ایک طرف سکون سے بیٹھنے کے علاوہ کچھ نہيں کرتیں۔ ہمیں چاروں طرف بری خبروں کے علاوہ کچھ سننے کو نہيں ملتا، اور میں جب بھی کوئی تصویر بنانا شروع کرتی ہوں، تو میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ میں مزید منفی سوچ نہ پھیلاؤں۔“

فاطمہ کی تصویریں پاکستانی خواتین کو ایک ایسی دنیا دکھاتی ہیں جہاں ان کی زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ ایک طرح سے انہيں ان تصویروں میں اپنی زندگی کی تمام کمیاں پوری ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

غلط تاثرات کا مقابلہ

ان مختلف مصورین سے بات کرنے کے دوران، مجھے احساس ہوا کہ وہ سب ہی پاکستانیوں کے متعلق غلط تاثرات دور کرنے اور اپنی شناخت کی حقیقت بیان کرنے کی کوشش کررہے ہيں۔ ان کے کسی بھی فن پارے کو ”روایتی“ نہيں کہا جاسکتا، لیکن ان سب میں ایک ایسا پاکستان نظر آتا ہے جس کے بارے میں کوئی بات نہيں کرتا۔

بحیثیت ایک مصورہ شہزل نے نوٹ کیا ہے کہ ڈیجیٹل ٹولز کے باعث خواتین کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع ملا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان ٹولز کی بدولت اپنے تجربات منظرعام پر لارہی ہیں جو ماضی میں ان کے لیے ممکن نہيں تھا۔ کریڈٹ : شہزل ملک

عرفات کی ٹیم کو اپنے کام کی نمائش پاکستان کے بجائے بین الاقوامی فلم فیسٹیولز میں کرنے کا مشورہ دیا گيا۔ انہیں کہا گیا کہ پاکستان جیسے ملک میں شہر تبسم جیسا پراجیکٹ دکھانا خطرے سے خالی نہيں ہے، لیکن عرفات کے خیال میں یہی وجہ تھی کہ اس کی پاکستان میں نمائش کرنا نہایت ضروری تھا۔ ان کی فلم کو بین الاقوامی سطح پر کتنا ہی سراہا جائے، عرفات کے لیے اسے پاکستان میں ملنے والی تعریف زیادہ اہم تھی۔ پاکستانی فن پاروں کو عام طور پر بین الاقوامی ایوارڈز صرف اسی وقت ملتے ہيں جب ان میں یہاں رہنے والوں کو منفی انداز میں پیش کیا جائے، اور اسی لیے عرفات کا یہ فیصلہ تھوڑا انوکھا تھا۔

مصوری اور ذاتی کہانیاں حقیقت بیان کر کے غلط تاثرات کا مقابلہ کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہ غلط تاثرات وہ لوگ پھیلاتے ہيں جو اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ڈیجیٹل مصوری اور سوشل میڈیا کی مدد سے ان تاثرات کو بدلنے کی گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے۔

فاطمہ اپنے کام پر تنقید کرنے والوں کو نظرانداز کرنا ہی بہتر سمجھتی ہيں۔ جب ان سے کوئی اور چیز بنانے کو کہا جاتا ہے تو وہ جواب میں کہتی ہیں کہ ”خود بنا لو۔“

 فاطمہ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتی ہیں کہ ”میرے خیال میں یہ بہت اچھی بات ہے کہ لوگ نمائندگی کی اہمیت سمجھ چکے ہيں، لیکن ہمیں اب اس سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا یہ نمائندگی واقعی کوئی معنی رکھتی ہے یا کیا یہ صرف ایک سرسری کوشش ہے؟“ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”جب سامنے آنے والے نظریوں کی تعداد کافی نہ ہو تو صرف ایک ہی نظریہ پیش کرنا زيادہ آسان ہوتا ہے۔“

فنون لطیفہ میں لوگوں کے ساتھ براہ راست تعلقات قائم کیے جاسکتے ہيں، اور ان تعلقات کی بدولت ڈیجیٹل مصوری کے لیے تبدیلی کی وجہ بننا ممکن ہوتا ہے۔ لیکن اس کے لیے کیا صرف آرٹ کافی ہے؟

کومل کا خیال ہے کہ ایسا ممکن نہيں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”اگر آرٹ میں تجارت کا عنصر شامل ہو جائے تو لوگوں اور قوموں کے بارے میں غلط تاثرات فروغ پاتے ہيں۔ اس شعبے میں اکثر نمائندگی یا معیار کے بجائے مقبولیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ پاکستانی ڈراموں کو دیکھیں تو آپ کو وہاں مرد زيادہ نظر آئيں گے۔“ مغربی، خصوصی طور پر سفید فام افراد کے لیے بنائے جانے والے آرٹ کے شعبے میں اسی قسم کی صورتحال نظر آتی ہے۔

کریڈٹ : شہزل ملک

کومل مزید کہتی ہيں کہ ”عجیب بات یہ ہے کہ اس قسم کے آرٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید آرٹ بنانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہيں ہے۔“

معذ کی رائے کومل سے مختلف ہے۔ ان کا خیال ہے کہ آرٹ میں کسی بھی قسم کی جارحیت کا عنصر شامل نہيں ہے اور نہ ہی اس کا مقصد کسی چیز کا مقابلہ کرنا ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ “اس کی نیت صاف ہے اور یہ سخت سے سخت چیز کو بھی موم کرسکتی ہے۔” ان کے مطابق اگر نیت صاف ہو تو کسی کے بھی دل میں جگہ بنائی جاسکتی ہے۔

کئی مصورین اور ان کے شائقین کو ڈیجیٹل مصوری کے ذریعے گھسے پٹے موضوعات اور خیالات کو پیچھے چھوڑنے کا موقع میسر ہوتا ہے۔ عرفات کہتے ہيں کہ ”ہم پر کسی قسم کی پابندی نہيں ہے۔ ہمارے آرٹ میں پاکستانی خلاء کا سفر کر سکتے ہيں، سپر ہیرو بن سکتے ہيں، ایسی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتے ہيں جو آج تک کسی نے نہيں دیکھی، ایک منفرد جادوئی دنیا میں رہ سکتے ہيں۔“ ان کی بات میں دم ہے۔ واقعی، مغل شہزادیوں سے آگے دنیا اور بھی ہے۔

لبت زاہد لاہور میں رہائش پذیر فری لانس صحافی ہیں۔

تحریر: لبت زاہد

مترجم: صوفیہ ضمیر

Authors

*

Top