Global Editions

بریسٹ کینسر کے مریضوں کے لئےخوشخبری۔۔۔۔

کیلیفورنیا کی رہائشی 67 سالہ خاتون سینڈی شنکر (Cindy Shanker) کی سال 2015 ءمیں چھاتی کے کینسر کے مرض کی تشخیص ہوئی اور اس کے بعد اس کو سینے کے دونوں جانب سرجری کرانا پڑی۔ اس آپریشن کے چند ماہ بعد سینڈی کو اس کے سرجن کی جانب سے ایک فون کال موصول ہوئی جس میں سرجن نے اس سے کہا کہ حال ہی میں سینے کے ٹشوز کی افزائش کے لئے ایک طریقہ کار کو وضع کیا گیا ہے اور اس کے لئے اب کلینکل تجربات کا آغاز ہونے والا ہے اور کیا وہ ان تجربات کا حصہ بننے پر آمادہ ہے۔ حالیہ برسوں میں چھاتی کے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے اکثر مریضوں کو چھاتی کے دونوں جانب سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اکثر مریض سرجری کے بعد اس حوالے سے گومگو کی صورتحال کا شکار رہتے ہیں کہ آیا انہیں سینے کی بحالی کے لئے ری کنسٹرشن سرجری کرانا چاہیے یا نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس مقصد کے لئے Saline کے انجیکشن استعمال کئے جا رہے ہیں تاکہ اس دوا کی مدد سے سینے کے ابھاروں کے لئے ٹشوز کی افزائش ہو سکے اور اتنی جگہ بن سکے جہاں مصنوعی چھاتیاں ایمپلانٹ کی جا سکیں۔ یہ طریقہ علاج نہ صرف کافی تکلیف دہ ہے اور اس کے لئے مسلسل دو مہینے تک ڈاکٹروں سے ہفتہ وار معائنے کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ تاہم اب تیار کی جانیوالی نئی ڈیوائس سے اس طویل اور تکلیف دہ طریقہ علاج سے نجات حاصل کرنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ سینڈی شنکر کا کہنا ہے کہ سرجن کی فون کال موصول ہونے کے بعد اس نے اس آپشن کا اپنانے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی۔ یہ تجربات کولمبیا یونیورسٹی کے تحت کئے جا رہے ہیں اور اس میں ایک نیڈل لیس ڈیوائس کو استعمال کیا جا رہا ہے جس کا نام AeroForm ہے۔ یہ ڈیوائس Saline کے بجائے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مدد سے سینے کے ٹشوز کی افزائش کرتی ہے۔ سینڈی شنکر کے مطابق اس طریقہ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آپ اس ڈیوائس کو گھر میں بھی استعمال کر سکتے ہیں اور اس کے لئے آپکو بار بار ڈاکٹرز سے اپوائنٹمنٹ لینے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ میں اپنی اس ریکوری پر بہت خوش ہوں۔ کولمیبا یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف سرجری کے سربراہ جیفری آشرمین (Jeffrey Ascherman) جو اس کلینکل ٹرائل کے سربراہ بھی ہیں کا کہنا تھا کہ اس ڈیوائس کی مدد سے چھاتی کے ٹشوز کی افزائش زیادہ تیزی سے ممکن ہے۔ بریسٹ ایمپلانٹ کے روایتی طریقہ کے تحت چھاتی کے دونوں جانب سرجری کے بعد سلیکون سے تیار کی جانیوالی چھاتیاں ایمپلانٹ کی جاتی ہیں اور اس کے لئے چھاتی کے پٹھوں کے نیچے موجود ٹشوز کی افزائش کا ہونا ضروری ہے اور اس افزائش کے لئے Saline کے ٹیکے ایک نہایت چھوٹے والو کے ذریعے چھاتی کے پٹھوں میں لگائے جانیوالے ایکسپینڈر میں پہنچائے جاتے ہیں۔ جیسے ہی ایکسپینڈر بھر جاتا ہے چھاتی کے ٹشوز کا اس طرح پھیلاؤ ہو جاتا ہے کہ مصنوعی چھاتیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ جبکہ ایروفوم ڈیوائس کی مدد سے ایکسپینڈر کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مدد سے بھرا جاتا ہے جو ڈیوائس کے کارٹریج میں موجود ہوتی ہے۔ ڈیوائس میں موجود ایک اندرونی والو گیس کی مقدار کو کنٹرول کرتا ہے اور صرف اتنی ہی مقدار میں گیس کے اخراج کو یقینی بناتا ہے جتنی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ وائرلیس ڈوز کنٹرولر کی مدد سے مریض اور ڈاکٹر دن میں تین مرتبہ اس ڈیوائس کی مدد سے گیس کی ایکسپینڈر میں اخراج کو یقینی بناتے ہیں۔ اس ڈیوائس کے دوسرے مرحلے کے تجربات میں امریکہ کی 17 ریاستوں میں سے 150 مریضوں کا انتخاب کیا گیا اور ان پر اس ڈیوائس کے تجربات کئے گئے۔ دوسرے مرحلے کے تجربات میں شریک نارتھ کیرولینا کے میڈیکل سینٹر کے پلاسٹک سرجن جیمز ایپل (James Appel) کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ علاج Saline کے استعمال کی نسبت زیادہ بتدریج ہے۔ اس کے استعمال سے مریض کسی قسم کی بے آرامی محسوس نہیں کرتا۔ دوسرے مرحلے میں جن مریضوں پر اس ڈیوائس کے تجربات کئے گئے ان میں چھاتی کے ٹشوز کی افزائش اکیس روز میں ہوئی جبکہ روایتی طریقہ کے تحت ٹشوز کی افزائش 46 روز میں ہوتی ہے۔ اور اس کی مدد سے چھاتی کی ایمپلانٹ بھی جلد ہو جاتی ہے۔ اس ٹرائل کے تجربات رواں برس دسمبر میں پلاسٹک اینڈ ری کنسٹرکشن سرجری کے تازہ شمارے میں شائع کئے جائیں گے۔

تحریر: ایملی مولن (Emily Mullin)

Read in English

Authors

*

Top