Global Editions

ترقی پذیر ممالک میں صاف توانائی کی کوششوں میں کمی آچکی ہے

Vista Wei , Unsplash

ترقی پذیر ممالک میں پچھلے سال صاف توانائی میں کمی آئی تھی، جبکہ کوئلے کے استعمال میں اضافہ سامنے آیا تھا۔

یہ پیش رفت ماحول کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہيں ہے۔ آنے والی دہائیوں میں سب سے زیادہ معاشی ترقی چین، بھارت اور دیگر ابھرتے ہوئے ممالک میں نظر آئی گی اور اگر اس ترقی کے پیچھے قابل تجدید توانائی کے بجائے حیاتیاتی ایندھن کا ہاتھ ہوا تو گرین ہاؤس گیس کے اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

اعداد و شمار: بلوم برگ این ای اف (BloombergNEF) کے 100 ابھرتے ہوئے ممالک پر مشتمل سالانہ سروے کے مطابق 2018ء میں شمسی، ہوائی اور دیگر اقسام کے قابل تجدید توانائی کے پراجیکٹس میں 133 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی تھی، جبکہ اس سال قبل، یعنی 2017ء میں اسی شعبے میں سرمایہ کاری 169 ارب ڈالر تھی۔

چین کا کردار: اس کمی کی سب سے بڑی وجہ چین تھا، جہاں اس وقت دنیا میں سب سے زيادہ کاربن کے اخراجات ہوتے ہیں۔ چین میں 2017ء میں صاف توانائی کے پراجیکٹس میں 122 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی، لیکن ان پراجیکٹس کی بڑھتی ہوئی لاگت پر قابو پانے کے لیے قابل تجدید توانائی کی سبسڈیز میں کمی کے باعث اگلے سال اس شعبے میں سرمایہ کاری محض 86 ارب ڈالر تھی۔

دوسرے ممالک میں: اس رپورٹ کے مطابق بھارت میں صاف توانائی میں 2.4 ارب ڈالر جبکہ برازیل میں 2.7 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔ تاہم اچھی بات یہ ہے کہ دوسرے ممالک میں اس شعبے میں سرمایہ کاری میں چار ارب ڈالر اضافہ سامنے آیا، جس میں سے بیشتر سرمایہ کاری ویت نام، جنوبی افریقہ، میکسیکو اور مراقش میں دیکھنے کو ملی۔

حیاتیاتی ایندھن: دوسری خوش خبری یہ ہے کہ پچھلے سال نئے کوئلے کے پلانٹس کی گنجائش پچھلی دہائی کی کم ترین سطح، یعنی 40 گیگا واٹس تک جاپہنچی۔ 2018ء میں حیاتیاتی ایندھن سے زيادہ صاف توانائی کی گنجائش میں اضافہ ہوا۔

یہ بات طے ہے کہ تعمیر کیا جانے والا کوئلے کا ہر نیا پلانٹ اگلے دس سال بعد بھی چل رہا ہوگا اور گرین ہاؤس گیسز خارج کررہا ہوگا، جس کی وجہ سے گلوبل وارمنگ میں کمی اتنہائی مشکل ثابت ہوگی۔

سب سے بری خبر: ایسا لگ رہا ہے کہ چین کا نئے کوئلے کے پلانٹس کی تعداد میں کمی کا کوئی ارادہ نہيں ہے۔

پچھلے ہفتے غیرمنافع بخش ادارے گلوبل اینرجی مانیٹر (Global Energy Monitor) کی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چین میں جنوری 2018ء اور جون 2019ء کے دوران کوئلے کے پلانٹس کی گنجائش میں 43 گیگاواٹس کے قریب اضافہ ہوا تھا۔ اس کے برعکس اسی دوران دوسرے ممالک میں اس گنجائش میں آٹھ گیگا واٹس کمئی ہوئی۔ نیز، چین میں مزید 150 گیگاواٹس کے پلانٹس زیرتعمیر ہیں، جو پورے یورپی یونین کے کوئلے کے پلانٹس کے برابر ہے۔

آخر میں اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ”پیرس کے ماحولیاتی معاہدے کے ضوابط کے مطابق عالمی سطح پر گلوبل وارمنگ میں دو ڈگری سیلسیس سے زيادہ اضافہ نہيں ہونا چاہیے، لیکن اگر چین اپنے کوئلہ استعمال کرنے والے پلانٹس کی گنجائش میں کمی نہيں کرے گا تو اس ہدف کا حصول ناممکن ہوجائے گا۔ “

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors

*

Top