Global Editions

مشکل ٹیکنالوجیز پر کام کرنے والی کمپنیوں کی مدد کرنے والا ایک وینچر فنڈ

پیش ہے اس وینچر فنڈ کی صدر کے ساتھ ایک انٹرویو جس میں وہ ہمیں ان سٹارٹ اپ کمپنیوں کو انکیوبیٹ کرنے کے مسائل کے بارے میں بتاتی ہیں، جن کی ٹیکنالوجی تیار کرنے میں یا تو کافی زیادہ وقت لگتا ہے یا بھاری بھرکم سرمایہ کاری کی ضرورت پڑتی ہے۔

پیشہ ورانہ سرمایہ کار چاہتے ہیں کہ انھیں جلد ہی اپنی لگائی ہوئی رقم واپس مل جائے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بائیوٹیکنالوجی اور توانائی جیسی کئی صنعتوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کو منافع حاصل کرنے میں بہت وقت لگتا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار ان صنعتوں میں ہاتھ ڈالنے سے گھبراتے ہیں۔

میساچوسٹس کے شہر کیمبرج میں قائم کردہ دی انجن (The Engine) نامی ایک نیا وینچر کیپیٹل فنڈ اسی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ فنڈ ایسی ٹیکنالوجیز کو فروغ دے گا جن کو تیار کرنے میں بہت وقت لگتا ہے اور وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ انھوں نے حال ہی میں اپنے سرمایہ کاری کے پہلے مرحلے کے نتائج کا اعلان کیا ہے، جس میں ایئروسپیس، ایڈاونسڈ میٹریلز، جینیاتی انجنیئرنگ اور قابل تجدید توانائی کی صنعتوں سے تعلق رکھنے والی سات سٹارٹ اپ کمپنیاں شامل ہیں، جن کے نام Analytical Space، Baseload Renewables، C2Sense، iSee، Kytopen، Suono Bio، اور Via Separations ہیں۔

اس کمپنی کی صدر اور مینیجنگ پارٹنر کیٹی رے (Katie Rae) کے مطابق یہ فنڈ سٹارٹ اپ کمپنیوں کو طویل المعیاد سرمایہ، لیب کے آلات، اور ماہر مشاورت تک رسائی فراہم کریں گے۔ اس انٹرویو میں وہ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو ایسی سٹارٹ اپ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے کے مسائل اور سرمایہ کاروں کے لیے انجن کی منفرد حکمت عملی کے فوائد کے بارے میں بتارہی ہیں۔

آپ کے مطابق "مشکل ٹیکنالوجی" کا کیا مطلب ہے، اور عام وینچر کیپیٹل کی کمپنیاں اس میں سرمایہ کاری کیوں نہیں کرنا چاہتی ہیں؟

ہم سیمی کنڈکٹرز، ایڈوانسڈ میٹریلز، توانائی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیک اور انٹرنیٹ آف تھنگز(Internet of Things) پر کام کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم "ڈیپ سافٹ ویئر" پر بھی غور کررہے ہیں، جو ہمارے مطابق اس سافٹ ویئر کو کہا جاتا ہے جسے تیار کرنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں اور جس میں صحیح معنوں میں الگارتھمز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم کنزیومر ایپس کی فنڈنگ نہیں کرتے ہیں، ہماری نظر میں ان کا شمار "مشکل ٹیکنالوجی" میں نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ماضی میں وینچر کیپیٹل فراہم کرنے والی کمپنیاں مشکل ٹیکنالوجی کے چند شعبہ جات میں سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔ یہ وہ صنعتیں ہیں جن میں رقم واپس ملنے میں بہت وقت لگ سکتا ہے، اور ناکامی کی شرح بھی بہت زيادہ ہے۔ تاہم اگر آپ کامیاب ہوجائیں تو آپ 12 سال تک اپنی سرمایہ کاری کا پھل کھا سکتے ہیں۔ یہ سسٹم اسی طرح کام کرتا ہے، اور اس میں کافی سرمایہ کاری بھی کی جاچکی ہے۔ دی انجن ٹیک کے ان شعبہ جات میں کام کرتا ہے جن میں سسٹم کا کردار واضح نہیں ہے لیکن ساتھ ہی ان شعبہ جات کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ان شعبہ جات پر کام کرنے کا خیال کس کو آیا تھا؟

ایم آئی ٹی۔ انھوں نے یہ نوٹ کیا کہ ایسی کئی چیزوں میں سرمایہ کاری کی جارہی ہے جن میں کم وقت لگتا ہے، لیکن ایسے کئی ایجادات ہیں جن پر کسی بھی قسم کا کوئی کام نہیں ہورہا ہے۔ انھوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کی ٹھانی۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ دی انجن کی بنیاد ایم آئی ٹی نے رکھی ہے۔ یہ ادارہ منافع کی غرض سے اور لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے قائم کیا گیا ہے، اور ہمارا فنڈ ایم آئی ٹی سے علیحدہ ہے، لیکن بورڈ کے آٹھ میں سے دو ارکان کا تعلق ایم آئی ٹی سے ہے۔

آپ کے 20 کروڑ ڈالر کے پہلے فنڈ میں ایم آئی ٹی نے 2.5 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ صرف ایم آئی ٹی ہی سے نکلنے والی کمپنیوں کو فنڈنگ فراہم کررہے ہیں؟

ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ ان سات سٹارٹ اپ کمپنیوں میں سے چھ کے بانی ایم ائی ٹی میں زیرتعلیم رہ چکے ہیں، لیکن ہماری ساتویں سٹارٹ اپ کمپنی کا تعلق ہارورڈ یونیورسٹی سے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انجن کو سب سے پہلے ایم آئی ٹی ہی سے لانچ کیا گیا تھا، اور ایم آئی ٹی کو جن شعبہ جات پر عبور حاصل ہے، انہی شعبہ جات پر ہم بھی کام کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ خود کا کاروبار شروع کرنے کے سلسلے میں ایم آئی ٹی کے طلباء کی بہت حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔ لیکن اب دوسری یونیورسٹیوں اور دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیاں بھی اس میں حصہ لینے کی کوشش کررہی ہیں، اور ہم ان کے بھی پراجیکٹس پر غور کررہے ہیں۔ ابھی صرف انجن کی سٹارٹ اپ کمپنیوں کا پہلا مرحلہ ہے، اور اس پہلے فنڈ سے 40 سے 50 کمپنیوں نکلنے والی ہیں۔

آپ اپنی سرمایہ کاری کو کس طرح تشکیل دیتے ہیں، اور آپ کے سرمایہ کار کتنے عرصے تک انتظار کرنے کو تیار ہیں؟

ہم عام طور پر نمایاں سرمایہ کار کا کردار ادا کرتے ہیں، اور ابتدائی سرمایہ کاری ہماری ہی ہوتی ہے، لیکن ہم دوسروں کو سرمایہ کاری کرنے سے روکتے نہیں ہیں۔ عام طور پر ہمارا پہلا چیک ڈھائی لاکھ سے بیس لاکھ ڈالر کے درمیان ہوتا ہے، لیکن اس کا انحصار ہمارے معاہدے پر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آگے چل کر کمپنی کے بانی ہی اس کی ذمہ داری اٹھائیں، لہذا ہم اپنی سرمایہ کاری کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک روایتی وینچر کیپیٹل فنڈ عام طور پر سٹارٹ اپ کمپنیوں کو چار سے سات سال تک کا وقت دیتے ہیں، لیکن ہم اپنی کمپنیوں کو مزيد ایک سے چار سال دینے کو تیار ہیں۔ ایسی کئی سٹارٹ اپ کمپنیاں ہیں جنھیں لیب میں تو نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ (National Institutes of Health) اور نیشنل سائنس فاؤنڈیشن (National Science Foundation) جیسے اداروں سے فنڈنگ مل جاتی ہے، لیکن جب وہ حقیقی دنیا میں قدم رکھتے ہیں اور وینچر فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا اپنی ٹیکنالوجیوں کو مارکیٹ میں لانے کی کوشش کرتے ہیں، تو اس وقت ان کا کوئی ساتھ نہیں دیتا ہے۔ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ ان کمپنیوں کے بانیوں کے خواب صرف اس وجہ سے ادھورے رہ جائيں کہ انھیں سرمایہ کاری نہیں مل سکی یا وہ مشاورت سے محروم رہ گئے۔ کئی کمپنیوں کو اس وقت تک وینچر کیپیٹل کی کمپنیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جب تک کہ ان کی آمدنی کم از کم 10 لاکھ ڈالر تک نہ پہنچ جائے۔ لیکن بعض دفعہ ان سٹارٹ اپ کمپنیوں کو یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہوتا ہے۔

دی انجن دنیا کے پیچیدہ ترین مسائل کے حل کرنے والی کمپنیوں کو فنڈنگ فراہم کرنے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ کسی بھی سٹارٹ اپ کمپنی کے معاشرتی فوائد کی پیمائش کس طرح کی جاسکتی ہے؟

ہم منافع میں کمی کی بات نہیں کررہے ہیں۔ جب ہم "اثراندازی" کی بات کرتے ہیں، اس وقت ہم ان سٹارٹ اپ کمپنیوں کی بات کر رہے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے انسانوں کو یا دنیا کو بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ ان تمام اہداف کو بیک وقت حاصل کرنا ممکن ہے۔ توانائی کے شعبے میں ہم قابل تجدید توانائی کے لیے بیس لوڈ توانائی کے ذخیرے کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ادویات کے شعبے میں ہم ایسی ادویات پر کام کررہے ہیں جن سے انسانوں کی اوسط عمر میں اضافہ ممکن ہے۔ یہ ایسے کاروبار ہیں جن سے بہت مالی فائدہ ہوسکتا ہے۔ ہم صرف پیسہ پھینک نہیں رہے ہیں، ہم زیادہ سے زیادہ فائدے حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور صبر سے کام لے رہے ہیں۔

تحریر: الیزابیتھ ووئک (Elizabeth Woyke)

Read in English

Authors
Top