Global Editions

کارچابی نے ڈیڑھ لاکھ ڈالر کی فنڈنگ حاصل کر لی

گاڑی کے مختلف فنکشنز کو سمارٹ فون ایپلی کیشن کے ذریعے کنٹرول کرنا اب ممکن ہو چکا ہے۔ حال ہی میں کار چابی نامی ایک کمپنی نے اس میدان میں کارہائے نمایاں سرانجام دیا اور اپنے منصوبے کیلئے ڈیڑھ لاکھ ڈالر کی بنیادی فنڈنگ حاصل کر لی ہے۔ کار چابی کی جانب سے تیار کی جانیوالی ایپلی کیشن کی مدد سے گاڑی کی لاکنگ ان لاکنگ سمیت گاڑی کو آن یا آف بھی کیا جا سکے گا۔

کارچابی انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) بیسیڈ کمپنی ہےجو سمارٹ فون ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے گاڑیوں کے مختلف فنکشنز کو آٹو میٹ کرنا چاہتی ہے۔اس حوالے سے کمپنی کے چیف ایگزیکٹو محمد علی راشد کی جانب سے جاری کئے جانیوالے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی کمپنی ٹریٹ کارپوریشن لمیٹڈ کی جانب سے کی جانیوالی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی ٹیم کو وسعت دینا چاہتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنی مصنوعات میں بہتری لانے کیلئے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ ہم جلد ہی اپنی موجودہ پراڈکٹ کو عوام کیلئے پیش کردیں اور باقاعدہ پیداوار کا آغاز کر دیں۔

کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر حماد صدیقی کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے آپریشنز کا دائرہ کار پاکستان کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی تک پھیلانا چاہتی ہے۔ ہماری کمپنی اب اپنے پرانے نام روبو آرٹ پرائیویٹ لمٹیڈ کے نام سے ہی کام کرے گی۔ ہماری ٹیم انٹرنیٹ آف تھنگز کے شعبے میں کام جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ پاکستان میں ایسی مصنوعات تیار کی جاسکیں جو عوام کی اکثریت کی توجہ حاصل کر سکیں۔

ٹریٹ کمپنی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید شہریار علی کا کہنا ہے کہ آٹومیشن پاکستان کا مستقبل ہے۔ اگرچہ یہ ایک طویل عمل ہے تاہم پاکستانی نوجوانوں میں یہ صلاحیتیں موجود ہیں کہ وہ ہر چیلنج سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج سے دو دہائیاں قبل لیپ ٹاپ اور سیل فونز عیاشی تصور ہوتا تھا تاہم اب یہ ہرکسی کی ضرورت بن چکی ہے۔ لہٰذا آٹومیشن بھی آئندہ برسوں میں سب کی ضرورت بن جائیگی۔

چئیرمین پی آئی ٹی بی ڈاکٹر عمر سیف نے اس پیشرفت پر خوشی کا اظہار کیاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارچابی کیلئے بنیادی فنڈنگ سال کی سب سے اہم خبر ہے اور یہ سب سے اہم سرمایہ کاری ہے۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں اور خوش قسمتی سے اب اس ٹیلنٹ کو مقامی سرمایہ کاروں کی توجہ بھی حاصل ہو چکی ہے۔ ملک کا سٹارٹ اپ ایکو سسٹم تیزی سے پھل پھول رہا ہے اور سرمایہ کاروں کو اپنی جانب راغب کر رہا ہے جو خوش آئند ہے۔
کارچابی ٹیم کو گاڑیوں کیلئے ریموٹ کنٹرولر ایپلی کیشن کا خیال انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں تعلیم کے دوران آیا۔ کار چابی نے اپنے آپریشنز کا آغاز جنوری 2016 میں کیا اور اپنی ایپلی کیشن کے ایک ہزار یونٹ فروخت کئے اور تیس ہزار ڈالر کا ریونیو حاصل کیا۔

تحریر: ٹیکنالوجی ریویو پاکستان (Technology Review Pakistan)

Read in English

Authors

*

Top