Global Editions

مکمل راکٹ بنانے والا بڑا تھری ڈی میٹل پرنٹر تیار

نام:     ٹم ایلس (Tim Ellis)

عمر:    29 سال

ادارہ: ریلیٹیوٹی سپیس (Relativity Space)

جائے پیدائش:    امریکہ

راکٹ اور سیٹلائٹس کی تیاری کے لیے ٹم ایلس تھری ڈی میٹل پرنٹنگ، مشین لرننگ اور خودکار   مینوفیکچرنگ کا  استعمال کرتے ہیں۔  ریلیٹیوٹی سپیس  اس تکنیک کی مدد سے صرف ایک ہزار محرک پرزوں استعمال کرتے ہوئے  راکٹ تیار کرتی ہے۔ اس کے برعکس، ایک عام راکٹ میں ایک لاکھ محرک حصے ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے راکٹ بنانا نہ  صرف مہنگا ثابت ہوتا ہے بلکہ اس میں  ناکام ہونے کا امکان بھی زيادہ ہوتا ہے۔

ایلس کے لیے پہلا مرحلہ ایک ایسے بڑے تھری ڈی میٹل پرنٹر کی تیاری تھی جو  20 فٹ یا 6میٹر تک لمبا ہو اور 100 فٹ تک لمبے اور 10 فٹ تک قطر  رکھنے والے 95فیصد تک  حصے تیار کر سکے۔  دوسرا  مرحلہ اس نظام کے زیادہ تر کام کوخودکار کرنے کے لیے کوڈ لکھنا اور مشین لرننگ کی مدد سے پرنٹ ہونے والے پرزے اور ان کے پراسیس کو موثر بنانا تھا۔

ریلیٹویٹی سپیس کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلد اس قابل ہو جائے گی کہ 60 دن یا اس بھی پہلے  نیا ماڈل تیار کرے، جبکہ موجودہ معیارات کے تحت اس کام کو کرنے میں 18 مہینے لگتے ہیں۔ اس طرح راکٹ بنانے کے اخراجات میں واضح کمی  آجائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کینیڈا کے ایک بڑے سیٹلائیٹ آپریٹر، ٹیلی سیٹ (Telesat)، نے 2021ء سے ان کے ساتھ  راکٹ بنانے کا معاہدہ کیا ہے۔

ایلس کہتے ہيں کہ “ہم نے تھری ڈی پرنٹنگ کی بدولت مریخ پر پہلا سیارہ بنانے کے وسیع نظریہ کے تحت ریلیٹیوٹی کی بنیاد رکھی ہے۔ وقت کے ساتھ ہم  فیکٹری کا سائز اتنا چھوٹا کردیں گہ کہ ایک دن ہم کسی دوسرے سیارے پر اسے لانچ کرسکیں گے۔”

تحریر: رس جسکالین (Russ Juskalian)

مترجم: سہیندر لعل

Read in English

Authors

*

Top