Global Editions

پُرعزم والدین جین تھراپی پرموثر طریقے سے اثرانداز ہورہے ہیں

مریضوں کے گھر والے مخصوص امراض کے علاج کو آگے بڑھانے کے لئے حمایتی گروپ شروع کررہے ہیں، تحقیق کے لئے رقم جمع کررہے ہیں اور بائیوٹیک کمپنیاں قا‏ئم کررہے ہیں۔

الینسن فریس (Alison Frase) کو وہ وقت اچھی طرح یاد ہے جب اسے پہلی دفعہ جین تھراپی کے ذریعے اپنے ایکس لنکڈ مائیوٹیوبولر مائیوپیتھی (X-linked myotubular myopathy)نامی پٹھوں کے مخصوص جینیانی مرض کے شکار بیٹے جوشوا (Joshua) کے علاج کے لئے ایکس لنکڈ مائیوٹیوبولر مائیوپیتھی (X-linked myotubular myopathy) کا خیال آیا۔ 2007 میں وہ اپنے گھر کے کمپیوٹر پر ایک معذور چوہے کی ویڈیو دیکھ رہی تھی۔ چار ہفتے قبل، چوہے کو ایک انجنئیر شدہ وائرس کا ٹیکہ لگایا گیا تھا، جس میں ڈی این اے کا ایک نیا اسٹرانڈ شامل تھا جو اس کے پٹھوں کو کمزور کرنے والے جینیائی تبدیلی کی اصلاح کے لئے بنایا گیا تھا۔

فریس بڑے محو ہو کر دیکھ رہی تھی، اور جب چوہے کے اعضاء پھڑکنے لگے تو وہ رونے لگی۔ آخرکار وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور پہلی دفعہ چلنے لگا۔ وہ کہتی ہیں، "میں نے سوچا کہ چوہے کی ویڈيو دیکھ کر کون روتا ہے؟"

اب فریس اور دوسروں کی وجہ سے اسی علاج کی جانچ انسانوں پر ہونے والی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں جین تھراپیاں زیادہ محفوظ ہوگئی ہیں اور ب زیادہ بہتر طریقے سے جسم میں مطلوبہ نشانوں پر پہنچ پاتی ہیں، جس کی وجہ سے کلینیکل ٹرائل میں کئی علاج سامنے آئے ہیں۔ مخصوص
امراض کے مریضوں کے حمیتویں کی، خصوصی طور پر فریس جیسے پرعزم والدین نے، جین تھراپی پروگرام شروع کرنے کی کوششوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ وہ مریضوں کے لئے حمایتی تنظیمیں قائم کررہے ہیں، تحقیق کے لئے رقم جمع کررہے ہيں، اور جب علاج موجود نہ ہو یا کم ہو تو اپنے بائیوٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ بھی قائم کررہے ہيں۔

جین تھراپی ایک ایسی تکنیک ہے جس میں کسی مرض کا سبب بننے والے جین کی جگہ ایک صحت مند جین لگایا جاتا ہے، اور ابھی اس تکنیک پر تجربات جاری ہیں۔ کئی مخصوص امراض مونوجینک ہے، یعنی کہ کسی ایک جین میں تبدیلی کی وجہ سے واقع ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے اس طریقہ کار کو ممکنہ طور پر کسی ایسے مرض کے علاج کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے جس میں جین کی مخصوص تبدیلی معلوم ہو۔

نیشنل آرگنائزیشن فار رئیر ڈس ایس (National Organization for Rare Disease) میں تعلیمی اقدام کی نائب صدر میری ڈنکل (Mary Dunkle)کہتی ہیں "مخصوص امراض کی کمیونٹی میں جین تھراپی کے ذریعے ان جینیاتی غیرفطری خصوصیات کی درستگی کے بارے میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ "کسی مخصوص مرض کے تہہ پر موجود مسئلے کو حل کرکے مرض کے 'علاج' کا تصور بہت پرکشش ہے۔"

جوشوا فریس کی ایکس لنکڈ مائیوٹوبولر مائیوپیتھی کی تشخیص 1994 میں اس کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد ہوئی تھی۔ ہر کیس کی شدت مختلف ہوتی ہے لیکن زیادہ تر متاثر بچے دو سال کی عمر سے پہلے انتقال کرجاتے ہیں۔ الیسن فریس نے اس مرض کے بارے میں تحقیق شروع کی، لیکن اس وقت شا‏ئع شدہ تحقیقوں کی تعداد کافی کم تھی، اور مریضوں کی حمایتی تنظیموں کو اس وقت اس بیماری کے متعلق زیادہ علم بھی نہيں تھا۔ لہذا 1996 میں الیسن نے اپنے شوہر، سابقہ این ایف ایل کے فٹ بال پلئیر پال فریس (Paul Frase) کے ساتھ اس کے متعلق آگاہی میں اضافے کے لئے جوشوا فریس فاؤنڈيشن قائم کیا۔

بالآخر فریس نے ہاورڈ یونیورسٹی کے ایلن بیگس (Alan Beggs) کے ساتھ مریضوں کی رجسٹری قائم کرکے خاندانوں کی طبی تحقیق میں حصہ لینے کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کی۔ 2007 میں جب محققین نے اسے یہ ویڈيو بھیجی، اس وقت بیگس کا لیب فرانس میں نان پرافٹ ادارے جینیتھان (Généthon) کے ایک گروپ کے ساتھ کام کررہے تھے۔ چوہوں کو ایکس لنکڈ مائیوٹیوبولر مائیوپیتھی میں ملوث جین ایم ٹی ایم 1 (MTM1) کی تبدیلی کے لئے انجنئیر کیا گیا تھا۔ اس جین کی تبدیلی کی وجہ سے پٹھوں کے خلیوں کی نشونما میں استعمال ہونے والے مائیوٹیوبولرن (myotubularin) نامی پروٹین کے عمل میں مداخلت ہوتی ہے۔

چوہوں پر تجربے کرنے کے بعد، بیگس اور ان کے رفقاء کار نے 2010 میں ایک تحقیق شائع کی تھی جس میں لیبراڈور ریٹریور میں ایم ٹی ایم 1 کی جینیائی تبدیلی کی شناخت کی گئی تھی، جس کی علامات ایکس لنکڈ مائیوٹیوبولر مائیوپیتھی کے شکار بچوں سے ملتی جلتی تھیں۔ فریس نے کینیڈا میں ایک نبس نامی کتے کے مالک کا کھوج لگالیا۔ امریکہ میں نبس مائیوٹیبولر مائیوپیتھی کے شکار کتوں کی کالونی کا پہلا کتا تھا، جس کے لئے رقم جوشوا فریس فاؤنڈیشن نے فراہم کی تھی۔

یہ کتے یونیورسٹی آف واشنگٹن میں ریہیبیلیٹیشن میڈیسین(rehabilitation medicine) کے پروفیسر مارٹن چائلڈرز (Martin Childers) کی تحقیق کا مرکزی حصہ بن گئے۔ چائلڈرز نبس کی آئیندہ نسلوں میں جین تھراپی کی ترقی اور جانچ کے لئے بیگس اور جینیتھان گروپ کے ساتھ کام کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ نتائج کافی حیرت انگیز ہیں۔ وہ کہتے ہیں “ہم ایک ایسی خوراک نکالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس سے کتوں کا مرض مکمل طور پر پلٹ گیا۔ آپ کو اس بیماری کے شکارکتوں میں اور دوسرے کتوں میں کوئی فرق نظر نہیں آئے گا۔" نتائج فروری میں شائع ہوئے تھے۔

سان فرانسیسکو میں واقع آڈنٹس تھراپیوٹکس (Audentes Therapeutics) نامی کمپنی نے ٹیکنالوجی کا لائسنس حاصل کرلیا ہے اور کہتے ہیں کہ وہ اس سال کلینیکل ٹرائل شروع کر ديں گے۔ یہ ایکس لنکڈ مائیوٹیوبولر مائیوپیتھی کے لئے پہلا انسانی جین تھراپی کا ٹرائل ہوگا۔

جوشوا کا 2010 میں 15 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا، جس کی ڈاکٹروں کو توقع نہيں تھی۔ اسے تو اس تھراپی سے فائدہ نہیں ہوگا، لیکن الیسن فریس امید کرتی ہیں کہ ان کی کئی سال کی حمایتی کوششوں کی وجہ سے دوسرے بچوں کو مدد ممکن ہو۔ 10 سال سے زائد عرصہ پہلے الیسن فریس نے 2000 میں اپنے پانچ سالہ بیٹے جوشوا کے ساتھ جین تھراپی کے بارے میں معلومات حاصل کی تھی۔

علاج کی دوڑ

ڈنکل کے مطابق، ماضی میں مخصوص امراض کی بیشتر تحقیق کے پیچھے مریضوں اور ان کی تنظیموں کا ہاتھ تھا جنہوں نے گرانٹ کے لئے رقم بھی جمع کی، اور طبی محققین سے بھی رابطہ بھی کیا۔ وہ کہتی ہیں، "تباہ کن امراض کے شکار بچوں کے والدین اپنے بچوں کی زندگیاں بچانے کے لئے جو بن پڑتا ہے، کریں گے۔ ان کے پاس وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے۔"

الان گینوٹ (Ilan Ganot) اس احساس سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ اپنے چھ سالہ بیٹے ایٹانی (Eytani) کی پٹھوں کے زیاں کی بیماری ڈیوچین مسکیولر ڈس ٹروفی (Duchenne muscular dystrophy) کا علاج ڈھونڈ نکالنے کے لئے پرعزم ہیں، اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا جین تھراپی کے ذریعے ممکن ہے۔ اس مرض کے ساتھ پیدا ہونے والے بچے 30 سال کی عمر تک ہی زندہ رہ پاتے ہیں۔

گینوٹ ماضی میں جی پی مورگن میں کام کر چکے ہیں، اور انہوں نے لندن سے بوسٹن آکر $17 ملین کی رقم جمع کرنے کے بعد 2013 میں ڈوچین کے علاج کے لئے ادویات کی ترقی کے لئے سالڈ بائیوسائنسس (Solid Biosciences) قائم کی۔ 200 سے زائد مختلف علاج دیکھنے کے بعد اب جین تھراپی اس کمپنی کی اولین ترجیح بن گیا ہے۔

اس کی تھراپی کا مقصد پٹھوں کو سالم رکھنے والے پروٹین ڈس ٹروفین (dystrophin) کی بحالی ہے، جو ڈوچین کے مریضوں میں موجود نہيں ہے۔ ڈس ٹروفین کا جین ایک روایتی انجنئیرشدہ وائرس کے لئے بہت بڑا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس مرض کے لئے جین تھراپی کی ترقی میں کافی مشکلات کا سامنا تھا۔ لہذا یہ کمپنی "مائکرو ڈس ٹرفین" (micro-dystrophin) کا استعمال کررہی ہے۔ یہ ایک ڈی این اے کا ایسا سلسلہ ہے جو بڑے سائز کے جین کی طرح کام کرتا ہے لیکن اتنا چھوٹا ہے کہ وائرس کے اندر فٹ ہوجاتا ہے۔ گینوٹ امید کرتے ہیں کہ وہ اس سال اس تھراپی کے کلینیکل ٹرائل شروع کرنے میں کامیاب ہوجائيں گے۔

جین تھراپی سے بہت توقعات وابستہ ہیں

مریضوں کی حمایتی لارا کنگ ایڈورڈز (Laura King Edwards) جین تھراپی کے بیماری کا جڑ سے علاج کرنے کے امکان سے خوش ہیں، حالانکہ ممکن ہے کہ یہ ان کی 18 سالہ بہن ٹیلر (Taylor) کی جان بچانے میں کامیاب نہيں ہوسکے گا جو بیٹن کے مرض (Batten disease) نامی مخصوص اور جان لیوا اعصابی بیماری سے لڑ رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں “جین تھراپی کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ آپ کسی بھی جین کو وائرل ویکٹر میں ڈال کر اسے اپنے مطلوبہ جین تک پہنچا سکتے ہیں۔"

ٹیلر سات سال کی تھی جب 2006 میں اس کے مرض کی تشخیص ہوئی تھی۔ ایڈورڈز کہتی ہیں کہ کئی سالوں تک وہ اسکول میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی تھی، دوڑوں میں حصہ لیتی تھی اور ٹیلنٹ شو میں بھی شرکت کرتی تھی۔ اب وہ نابینا ہوچکی ہے، اور چلنے پھرنے اور بات کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکی ہے۔

جس سال ٹیلر کے مرض کی تشخیص ہوئی، اسی سال ایڈورڈز اور اس کی والدہ شیرن کنگ (Sharon King) نے اس مرض کے لئے ٹیلرز ٹیل (Taylor’s Tale) نامی حمایتی تنظیم قائم کی۔ 2011 میں کنگ نے چیپل ہل (Chapel Hill) میں یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے محقق اسٹیون گرے (Steven Gray) سے رابطہ کیا، جن کا لیب دوسرے مخصوص امراض کے علاج کے لئے جین تھراپی کے استعمال پر کام کررہا تھا۔ دو سال بعد، ٹیلرز ٹیل اور دیگر تنظیمیں گرے کو بیٹن کے مرض کے علاج کے لئے جین تھراپی استعمال کرنے کے لئے رقم مہیا کرنے میں کامیاب ہوگئيں۔
.
ڈیلاس میں واقع ابیونا تھیراپیوٹکس (Abeona Therapeutics) نے پچھلے ستمبر گرے کے لیب سے اس ٹیکنالوجی کا لائسنس حاصل کرلیا اور اب وہ کلینیکل ٹرائل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

گرے کہتے ہیں کہ دیگر مخصوص امراض کے کامیاب کلینیکل ٹرائل کی وجہ سے مخصوص امراض کے شکار افراد اور ان کے گھر والوں کی جین تھراپی میں دلچپسی بڑھ رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں، "مجھے تبدیلی نظر آرہی ہے، مریض اور ان کے حمایتیوں کو نئے علاج کی ترقی کے لئے تگ و دو کرنے کا اختیار حاصل ہورہا ہے۔" گرے یہ بھی کہتے ہیں کہ جیسے جیسے جینیائی جانچ کی اخراجات میں کمی ہورہی ہے، ان امراض کی کم عمری میں تشخیص ممکن ہورہی ہے، جس کی وجہ سے جلد مداخلت ممکن ہے۔

تحریر: ایملی مولن (Emily Mullin)

Read in English

Authors
Top