Global Editions

صحرا میں ٹماٹر اُگنے لگے۔۔۔ شمسی توانائی کا شکریہ

صحرا میں پھلوں کے اگنے کی بات بظاہر تو بہت عجیب مگر دلچسپ معلوم ہوتی ہےلیکن اگر جائزہ لیا جائے تو دنیا کی آبادی جس تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے اور کرہ ارض جس طرح موسمیاتی تغیرات کا شکار ہو رہا ہے تو ایسا ہونا ناممکن بھی نہیں کیونکہ دنیا کی آبادی کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مستقبل میں ایسے ہی اقدامات کی ضرورت ہو گی۔ صحرا میں پھلوں کو اگانے کی یہ کاوش ساؤتھ آسٹریلیا کے گرین ہاؤس ڈیویلپر سنڈراپ فارمز (Sundrop) کی جانب سے کی گئی ہے۔ سنڈراپ فارمز نے اس کے لئے محض شمسی توانائی کی مدد لی اور سمندری پانی کا کھارا پن دور کر کے اسے آبپاشی کے لئے استعمال کیا اور ٹماٹروں کی پیداوار حاصل کی۔ ہفت روزہ فارمرز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 150 ملین ڈالر سے مکمل ہونے والی اس سہولت کے تحت وہاں 23 ہزار شیشے نصب کئے گئے ہیں جو سورج کی روشنی کو شیشوں درمیان میں نصب ٹاور تک منعکس کرتے ہیں اور پھر حاصل ہونے والی توانائی کو قریب میں ہی موجود سمندری پانی کو صاف کرنے اور پینے کے قابل بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ شمسی توانائی کی بدولت روزانہ ایک ملین ٹن پانی کو صاف اور پینے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ پھر اس پانی کو اب پاشی کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے جس سے ٹماٹر اگائے جاتے ہیں۔ گرین ہاؤس فارم سے روزانہ کی بنیاد پر ٹماٹروں سے بھرے آٹھ ٹرک سپلائی کئے جاتے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ مکمل پیداواری صلاحیت حاصل ہونے پر اس فارم سے سالانہ پندرہ ہزار ٹن اجناس کی سپلائی ممکن ہو سکے گی۔ دوسری جانب ایک سوال یہ بھی ہے کہ وہ علاقے جہاں پانی اور بجلی کی سہولیات موجود ہیں وہاں اس طرح شمسی توانائی کی مدد سے کیا پھل اور سبزیاں اگانے کی ضرورت ہے؟ اس حوالے سے جریدے ’’نیو سائنٹسسٹ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے یونیورسٹی آف نیو انگلینڈ آسٹریلیا کے پال کرسٹینسن کا کہنا ہے کہ یہ اسی طرح ہی ہے کہ جیسے ادرک کو کاٹنے کے لئے بھاری ہتھوڑے کی مدد لی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آسٹریلیا میں ٹماٹروں کی قلت کا سامنا نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کو صاف کرنے کے لئے کئی پلانٹ دنیا بھر میں کام کر رہے ہیں اور یہ تمام پلانٹ سمندری پانی کو صاف کرنے لئے Reverse Osmosis (یعنی منحل کو محلول سے الگ کرنے کا طریقہ: اس میں محلول کو ایک جھلی میں سے معمولی درجہ حرارت سے زیادہ درجہ حرارت پر بہنے دیا جاتا ہے اور پھر اسے غذائی مصنوعات کے ارتکاز یا خشک کرنے کے لیے زیر عمل لایا جاتا ہے )کا طریقہ اپنایا جاتا ہے جو نہ صرف بہت مہنگا ہے بلکہ اس عمل میں توانائی بھی بہت زیادہ استعمال ہوتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سمندری پانی کو صاف کرنے کے پلانٹ صرف ان مقامات پر نصب کئے جاتے ہیں جہاں پینےکے پانی کی شدید قلت ہو اور اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ ان علاقوں میں تمام وسائل اس طرح موجود ہوں کہ یہ پلانٹ چلائے بھی جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے گرین فارمز کے لئے یہ کوئی ایسی ٹیکنالوجی نہیں ہے جسے ہم دنیا کو یہ بتا سکیں کہ یہ ماحول دوست ہے یا یہ آپکے مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے یا اس ٹیکنالوجی کو اپنانے سے صحرا میں یقینی طور پر فصلیں اگائی جا سکتی ہیں۔

تحریر: مشعل رئیلائے اور جیمی کونڈیلفی (Michael Reilly and Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top