Global Editions

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی جاسوسوں کے لئےکار آمد ہو سکتی ہے

ایک جاسوس نے مصنوعی ذہانت سے بنا ہوا چہرہ دھوکہ دہی کے لئے استعمال کیا اور سوشل میڈیا پر ٹارگٹس سے رابطہ میں آیا۔

خبر: ممکنہ طور پر مصنوعی ذہانت کی حامل ایک کیٹی جونز(Katie Jones)کے نام سے لنکڈان کی پروفائل کی شناخت اے پی نے کی ہے اور یہ جاسوسی کے مقصد کے بنائی گئی تھی۔ اس پروفائل کو جاسوسی کے لئےمصنوعی ذہانت سے بنایا گیا ہے۔اس پروفائل کی شناخت اے پی نے کی ہے۔ لنکڈ ان پریہ شخص واشنگٹن میں بہت بڑی قد کاٹھ کی شخصیات سے جڑا ہوا ہے جس میں ایک ڈپٹی اسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ، ایک سینیٹر کا سینئر ساتھی اور ایک ماہر معاشیات جس کو فیڈرل ریزرو کی سیٹ کے لئے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ دلچسپ بات اس پروفائل کی تصویر ہے: بہت سارے ماہرین کے مطابق، اس تصویر میں ڈیپ فیک کی تمام خصوصیات واضح ہیں۔

آسان ہدف: لنکڈ ان طویل عرصہ سےجاسوسوں کے لئے ایک مقناطیس کے طور پر کام کررہا ہے کیونکہ یہ لوگوں کوطاقتور حلقوں میں آسان رسائی فراہم کر رہا ہے۔ ایجنٹس کو ہزاروں افراد کو روٹین میں جڑنے کی درخواست بھیجیں گے اور اپنی مختلف شناخت ظاہر کریں گے۔ صرف پچھلے مہینے، ایک ریٹائرڈ سی آئی اے افسر کو 20 سالہ قید کی سزا سنائی گئی تھی کیونکہ وہ ایک چینی ایجنٹ کو کلاسیفائیڈ معلومات لیک کر رہا تھا۔ چینی ایجنٹ نے اس افسر سے ایک ریکوروٹر بن کر لنکڈ ان پر رابطہ کیا تھا۔

کمزور دفاع: کیٹ جونز نے مصنوعی ذہانت کا فائدہ کیوں اٹھایا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دھوکہ کرنے والوں کی پہچان کے لئے ایک اہم لائن ہٹا دیتی ہے:پروفائل فوٹو پر امیج کی ریورس سرچ۔ اس طرح سےجیسے یہ مین سٹریم میں تیزی سے پھیل رہی ہے، یہ ایک اور طریقہ سے ڈیپ فیک پر ہمارا اعتماد ختم کر رہی ہے۔

تحریر: کیرن ہائو

Read in English

Authors

*

Top