Global Editions

پاکستان کی سائبر لاء کی کہانی

پاکستان میں سائبر سکیورٹی اور انسداد سائبر کرائمز کا تاحال کوئی مستقبل نہیں۔ فی الوقت اس بارے میں یہ کہنا درست ہو گا کہ ” وہی چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔”کیونکہ سائبر کرائم بل تو بن گیا لیکن اس میں موجود خامیاں دور نہیں کی گئیں جس کے سبب یہ بل سول سوسائٹی کے مختلف طبقات کی طرف سے مسلسل تنقید کا شکار ہے۔ پاکستان میں سائبر سکیورٹی کی خلاف ورزی اور سائبر کرائم کے بہت سے کیسز سامنے آچکے ہیں لیکن ابھی تک اس بارے میں کچھ نہیں کیا گیا جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی 8جون 2014ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق ایف آئی اے کے کرائم سرکل نے 30سالہ بابر ظفر نامی شخص کو مبینہ طور پر پاکستان اور برطانیہ دو شہریتوں کی مالک ایک لڑکی کو فیس بک کے ذریعے بلیک میل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا۔وہ اسے بلیک میلنگ کے ذریعے زبردستی شادی کیلئے مجبور کررہا تھا۔ وہ دبئی میں اتاری گئی اس کی نجی اور نیم عریاں تصویریں اس کے خاندان والوں اور دوستوں کوفیس بک کے جعلی اکائونٹ کے ذریعے پوسٹ کرکے بلیک میل کررہا تھا۔ وائس آف جرنلسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سے قبل 17 اگست 2015 ءکو ایف آئی اے نے دو طلباء محمد علی اور سہیل کو سوشل میڈیا پر بھتہ خوری اور بلیک میلنگ کا ریکٹ چلانے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ یہ طلباء جعلی نام گندا گیر خان (Gundageer Khan)استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر فیس بک پر ایک پیج “ایڈورڈین گرلز”(Adwardian Girls)چلا رہے تھے ۔ وہ اس پیج پر نوجوان خواتین کے فون نمبر، ذاتی معلومات اور فوٹوگراف ان کی مرضی کے بغیر پوسٹ کرتے تھے۔ وہ پیج پر یہ معلومات بھتہ لے کر ختم کرتے تھے۔ وہ یہ بلیک میلنگ اور بھتہ خوری پکڑے جانے سےپہلے چار سال تک چلاتے رہے۔ روز نامہ پاکستان کی 2ستمبر 2015ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے جعلی نام ٹائیگر میمن کے نام سے فیس بک پر ایک پیج چلانے والے لڑکے کو گرفتار کیا ۔ جس کی پہچان فرقان حسن کے نام سے ہوئی۔ اس پر ایک نوجوان خاتون کو ہراساں کرنے کا الزام تھا۔ اس کیخلاف سیکشن 25/2015کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ بظاہر وہ اسے باتیں نہ ماننے کی صورت میں خوفناک نتائج کی دھمکیاں دیتا اور غیر اخلاقی پیغامات بھیجتا تھا۔ ایف آئی اے نے مزید تفتیش اور ثبوت حاصل کرنے کیلئے اس کا سیل فون اور کمپیوٹر قبضے میں لے لیا۔ نجی ٹی وی نے 11فروری 2016 کو خبر جاری کی کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے ایک شخص فہد باری کو فیس بک پر خواتین کو ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کیا۔

یہ سائبر کرائم کے بہت بڑے آئس برگ کا بہت چھوٹا سا حصہ ہے جو ہم آپ کو بتا رہے ہیں ۔ مثلاً بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ ، تم جو کوئی بھی ہو، صبا کے نام سے ہونے والے فراڈ کو کون نہیں جانتا۔ کچھ سال قبل ایک پندرہ سالہ لڑکے عثمان غنی کو بے نظیر انکم سپورٹ کا جعلی پیغام ملا کہ اسے کا 10لاکھ روپے کا انعام نکلا ہے۔ اسے کال کرنےکیلئے ایک نمبر دیا گیاجس پر اس نے کال کی تو اسے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کے نمبر کے ساتھ 25000ہزار جمع کرانے کیلئے کہا گیا۔ اس نے یہ ہدایات نظر انداز کردیں لیکن نامعلوم لوگ اس کے پیچھے پڑ گئے تھے وہ اسے کال کرتے رہے اور انعام لینے کیلئے رقم جمع کرانے پر زور دیتے رہے۔

اسی طرح ایک اور چھوٹے درجے کا فراڈ “آپ کوئی بھی ہو” بھی ہے۔ جس میں مخصوص نمبر پر لوڈ کروانے کی درخواست کی جاتی ہے۔ “صبا “بھی اسی طرح کا فراڈ ہے۔ فون کال کرنے والا بظاہر حقیقی معنوں میں بہت ضرورت مند معلوم ہوتا ہے جو آپ کو سیل فون پر مخصوص رقم بھیجنے کی اپیل کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے جسے بنیاد بنا کر وہ رقم بھیجنے کیلئے آپ پر زور دیتا ہے۔

ای میل کے فراڈ بھی عام ہو چکے ہیں۔شہریار رضوان نے 7ستمبر 2014ء کو ڈان کے سنڈے میگزین میں سائبر کرائم پر ایک مضمون سکیم بیم، تھینک یو میم (Scam Bam, Thank You Ma’am)لکھا جس میں انہوں نے نائجیریا سے ملنے والی بنکنگ فراڈ سے متعلق ای میل کا ذکر کیا کہ ایک خاص قسم کی ای میل آپ کے اِن باکس میں بھیجی جاتی ہے جس میں آپ کو پورے نام سے مخاطب کیا جاتا ہے اور بڑی جذباتی قسم کی کہانی لکھی جاتی ہے جس کا اختتام اس پیش کش پر ہوتا ہے کہ اگر آپ ای میل بھیجنے والے کی مدد کریں تو وہ آپ کو اچھی خاصی رقم دے گا یا دے گی۔ ای میل بھیجنے والا یا والی اپنا نام، پتہ، ٹیلی فون نمبر اور بنک اکائونٹ کی تفصیلات بھی بھیجتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ تمام کام قانونی ہے جبکہ ایسا نہیں ہوتا۔

ای میل کا صرف یہی فراڈ نہیں ہے بلکہ کچھ اور بھی فراڈ ہوتے ہیں۔سائبر مجرم زیادہ ماہر ہو گئے ہیں انہوں نے ایک نئی تکنیک تیار کی جسے فشنگ (phishing)کا نام دیا گیا ہے۔ جس میں آپ کے ای میل اکائونٹ ذاتی معلومات چرائی جاتی ہیں جن میں آپ کی بنک اکاؤنٹ معلومات، پاس ورڈاور کریڈٹ ڈیبٹ معلومات شامل ہیں۔ امریکہ میں شمالی کیرولینا کی یونیورسٹی میں طلباء کو بتایا گیا کہ فشنگ حملے زیادہ تر ای میل سے جڑے ہوتے ہیں اور یہ اس وقت متحرک ہوتے ہیں جب آپ کسی آن لائن کنٹنٹ پر کلک کرتے ہیں۔ عموماً یہ ایک ویب فارم ہوتا ہے جس پر آپ اپنی معلومات ایسے ہی فراہم کرتے ہیں جیسے فیس بک یا پے پل کا فارم بھرتے ہوئے دیتے ہیں۔

فراڈ کی ایک قسم لاٹری بھی ہے،اسی طرح جعلی یونیورسٹی ڈگری فراڈ ہیں، پاکستان میں ایزیکٹ کا معاملہ جس طرح مشہور ہوا سب جانتے ہیں۔ تاہم اسی طرح کینیڈا اور امریکہ میں ایک کمرے پر مشتمل یونیورسٹیاں بھی ہیں جو ڈگری کی ملوں کے طور پر مشہور ہیں لیکن آپ پاکستان میں بیٹھ کر ان کی شہرت نہیں جان سکتے ۔آن لائن شاپنگ فراڈ بھی کئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر مشہور شاپنگ ویب سائیٹس وال مارٹ یا ٹارگٹ، ہیکروں کا نشانہ بنتی ہیں۔ ہیکرز ان کے گاہکوں کے کریڈٹ کارڈ کی معلومات چوری کرتے ہیںیا کسی اور کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں۔ پاکستان اس لئے خوش قسمت قرار دیا جاسکتا ہے کہ یہاں پر ای کامرس ابھی اتنی کامیاب نہیں ہوئی اس لئے پاکستان نسبتاً محفوظ ملک ہے۔ اگر آپ کے پاس وائی فائی یا انٹرنیٹ کنکشن، سمارٹ ٹی وی یا سمارٹ فون موجود ہے تو خبردار ہو جائیںکیونکہ آپ کو ہدف بنایا جاسکتا ہے۔

زبیر محی الدین ایریکسن پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے صدر اور سی ای او ہیں۔ وہ اپنے آرٹیکل “پاکستان میں سائبر قوانین ” میں لکھتے ہیں کہ سائبر تنازعات مختلف وجوہات کی بنا پر پیچیدہ ہیں۔جن میں صورتحال کا تجزیہ کرنااورآگے راستہ تلاش کرنا ہے۔ دنیا اس وقت ایک بہت بڑے کمرے میں بدل گئی ہے جبکہ سائبر کرائمز جغرافیائی سرحدیں عبور کرگئےہیں۔ انٹرنیٹ کی بین الاقوامی نوعیت کے باعث عدالتوں کے پاس خصوصی دائرہ کار ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ مختلف ممالک میں قانونی نظام مختلف اور قانونی چارہ جوئی انتہائی مہنگی ہوسکتی ہے۔ اگرچہ روائتی جرائم مثلاً بلیک میلنگ، بھتہ خوری ، بدنام کرنا، فراڈ کے حوالے سے خاصے قوانین موجود ہیں لیکن پاکستان کو پیچیدہ سائبر کرائمز کی وجہ سے الگ سے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ اگرچہ بیورو نے 2015ء میں سائبر کرائم کے 150مقدمات درج کئے۔ نیشن کی 23فروری 2016 ءکو شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق جامع قوانین کی عدم موجودگی میں زیادہ تر ملزموں کو فائدہ پہنچا۔ ایف آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس سے ایف آئی اے کی کارکردگی پر اثر پڑتا ہے۔

“فی الحال، ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈیننس (ETO) صرف بینکاری لین دین کے ساتھ نمٹنے کے لئے تیار کیا گیا ہے جس کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔ نیشن کی رپورٹ کے مطابق اب جبکہ فیس بک اور ٹویٹر جیسی سوشل نیٹ ورک کی وجہ سے صارفین کی تعداد اب اربوں تک پہنچ چکی ہے ، سائبر کرائم پر قوانین میں ترامیم کئے جانے کی ضرورت ہے۔

ایف آئی اے کے اعدادوشمار کے مطابق، سائبر کرائم کیلئے قومی رسپانس سینٹر (NR3Cs)کو 2015ء میں 2100شکایات موصول ہوئیں جبکہ 2014 ء میں 434شکایات پہلے سے ہی زیر التوا تھیں۔ ان میں سے 371شکایات کو انکوائری میں بدل دیا گیا اور 1604شکایات کو ختم کردیا گیاجبکہ 559شکایات تاحال زیر التوا ہیں۔ اسی طرح این آر 3سیز کو کو 2014ء میں 298انکوائریز وصول ہوئیں جبکہ 758انکوائریز میں سے 460رجسٹر ہوئیں۔ ان میں سے 46کو مقدمات میں بدل دیا گیا جبکہ 441انکوائریز کو ختم کردیا گیا ، 271انکوائریز زیر التوا ہیں۔ 2015 ءکے دوران 150مقدمات آگے بڑھائے گئے جن میں سے 128رجسٹر کئے گئے، 270مقدمات میں سے صرف 142کیسز عدالت میں پیش کئے گئے۔ ان میں سے بھی 5کیسز ختم کردیئے گئے جبکہ 123مقدمات زیر التوا ہیں۔ 2015ء میں 46میں سے چھ افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 40افراد مفرور ہے۔

انسداد الیکٹرانک کرائم بل 2015ء

سائبر کرائم کے ساتھ اہم مسئلہ اس کی گمنامی اور سرحدوں سے ماورا ہونے کی وجہ سے اس کا پتہ لگانا اور پراسیکیوشن ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ملکی اور بین الاقوامی نوعیت کے سبب سائبر مجرموں کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کیلئے مناسب سائبر قوانین موجود ہی نہیں ہیں۔ پاکستان میں صرف ایک قانون زیر غور ہے اور وہ انسداد الیکٹرانک کرائم بل 2015ء ہے جسے 17ستمبر 2015ء کو پیش کیا گیا۔ نظر ثانی شدہ بل کا مسودہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ پر موجودہے جبکہ 22اپریل 2015ء کو پیش کیا گیا بل کا اصل مسودہ بھی ڈرافٹ پالیسز کے ٹیگ میں دیا گیا ہے۔ میری طرح عام آدمی کیلئے بھی بل کو سمجھنا مشکل ہے۔ بل میں مبہم اصطلاحات اور وضاحتیں موجود ہیں۔

مثال کے طور پر، بل کی شق 3کے مطابق “جس کسی نے بھی جان بوجھ کر کسی بھی معلومات کے نظام یا ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی تو اسے تین ماہ کی قید کی سزا اور جس مدت میں توسیع کی جاسکتی ہے یا 50ہزار جرمانے کی سزا ہوگی یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح سیکشن 4میں کہا گیا ہے کہ ” جو شخص جان بوجھ کر اور بلا اجازت کسی بھی ڈیٹا کو کاپی کرتا ہے یا منتقل کرتا ہے تو سزا دی جاسکتی ہے جس کی مدت چھ ماہ تک بڑھائی جاسکتی ہے یا ایک لاکھ کا جرمانہ ہو گا یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔ “یہ الفاظ کو عملی طور پر کسی کیلئے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ اگر فیس ویلیو کو دیکھا جائے تو آپ اپنے دوست کا ہوم ورک نقل کرکے اسے آن لائن کردیتے ہیں تو آپ ایک جرم کررہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آپ کو اپنے دوست کی ہوم ورک چوری کیلئے مقدمہ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈیٹا غلط ہاتھوں میں استعمال ہو رہا ہے۔

اکتوبر 2015ء میں فلئیر میگزین (Flare Magazine)میں چھپنے والی زبیر قصوری کی کور سٹوری میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ جب سے قانون بنا ہے اس پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جبکہ اس پر جب شدید تنقید کی گئی تو اسے روک لیا گیا۔ بل عوامی رائے اور تجاویز کے بعد پیش کیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی نے مندرجہ ذیل تبدیلیوں کے ساتھ بل کی منظوری دی ہے۔ کم سن کی عمر اب 10کی بجائے 13سال ہو گی۔ آئی ایس پیز میں کیفے اور انٹرنیٹ سہولتیں فراہم کر نے والی جگہوں کو خارج کردیا گیا ہے۔ ماضی میں، انٹرنیٹ کیفے اور حتیٰ کہ وائی فائی ہاٹ سپاٹ فراہم کرنے والوں کو بھی آئی ایس پیز قرار دیا گیا تھا اور انہیں استعمال شدہ ڈیٹا اور لاگز کو ضائع کرنے سے پہلے ایک سال تک محفوظ رکھنے کا پابند کیا گیا تھا۔ سائبر شکاریوں کی سزا دو سال سے کم کرکے ایک سال کر دی گئی ۔بل کا باقی حصہ وہی رہنے دیا گیا۔

قصوری نے تصدیق کی کہ نظر ثانی شدہ مسودے میںیہ شق بھی شامل کی گئی کہ جو شخص غیر قانونی سموں کی خریدو فروخت میں ملوث ہو گا اسے دو سال قید کی سزا ملے گی۔ قائمہ کمیٹی کے منظور کردہ بل میں سائبر دہشتگردی پر زیادہ سے زیادہ سزا 14سال اور 50ملین روپے جرمانہ کی دی گئی ہے اگر مجرم 13سال عمر سے زیادہ کا ہے تو اسے جیل بھیج دیا جائے گا۔ یہ بل سات ابواب پر مشتمل ہے اور “پاکستان کے ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو یا اس شخص پر جو پاکستان میں جرم کے وقت موجود ہو ، لاگو ہو گا۔”

بل کا بنیادی مقصد ملک کے اندر بڑھتے ہوئے سائبر جرائم سے نمٹنے کیلئے ایک پالیسی فریم ورک اور طریقہ کار متعارف کرانے کا ہے۔ سائبر بل سائبرسکیورٹی کے بہت سے پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ یہاں سائبر بل پر اہم مسائل کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

باب نمبر 1میں بل میں استعمال کیےگئے الفاظ کی تعریفوں اور ان کی قانونی حدود کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر”ڈیٹا تک رسائی” (Access to Data)کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ کوئی ڈیٹا جو پڑھنے، نقل کرنے ، استعمال کرنے، ترمیم کرنے یا ان آلات سے ڈیٹا ختم دیا جائے جہاں ڈیٹا محفوظ کیا گیا ہو ۔

باب 2 جرائم اور اس کے نتیجے میں دی جانے والی سزا کی وضاحت کرتا ہے۔ جرائم میں معلومات کے نظام یا ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی، غیر مجاز کاپی یا ڈیٹا کی منتقلی،کسی جرم یا نفرت پر مبنی تقریر کی تعریف و تحسین کرنا ، سائبر دہشت گردی، الیکٹرانک جعلسازی، الیکٹرانک فراڈ، سم کارڈ کی غیر مجاز اجراء اور سائبر تعاقب وغیرہ شامل ہیں ۔ قانون توڑنے والے افرادکو سزا دینے کیلئے بل میں درج ہے کہ ایکٹ میں “سیاق و سباق کے اندر کوئی بھی بیانیہ جس کی ایکٹ میں وضاحت نہ کی گئی ہو اسے پاکستان پینل کوڈ(XLV1860) کا قانون ، کوڈ آف کریمینل پروسیجر(V 1898)، قانون شہادت آرڈر (X 1884) کے تحت بیان کیا جائے گا۔

باب 3 کی تفصیلات میں تفتیش اور پراسیکیوشن ٹیموں کی تشکیل اور اختیارات کے استعمال کے بارے میں ہے۔ بل کے اس حصے میں وارنٹس، تفتیش کیلئے ڈیٹا کو قبضہ میں لینے، ڈیٹا کی تلاش کیلئے وارنٹس، تفتیش کے اختیارات، کاپی ڈیمانڈ حتیٰ کہ کسی شخص کو ڈیٹا یا کیس میں پوچھ گچھ کیلئے طلب کرنا شامل ہے۔ اگر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہو تو خدمات فراہم کرنے والے سے بھی پوچھ گچھ کی جاسکتی ہے۔
باب 4 بین الاقوامی تعاون سے متعلق ہے جس کے تحت وفاقی حکومت معاونت کیلئے دوسرے ممالک کو درخواستیں بھیجنے اور جواب دینے کی ذمہ دار ہو گی ۔ حکومت کسی جرم سے متعلق غیر ملکی حکومت، ایجنسی یا بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے دی گئی درخواست کو قبول کرنے سے انکار کرسکتی ہے اگر یہ درخواست ملکی مفادات کے منافی ہو۔

باب 5 مقدمات کی سماعت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کیخلاف مقدمہ چلانے، جرمانہ ، معاوضے کی ادائیگی اور ایک ماہر کی رائے کی صورت میں “عدالتی معاونت”کیلئے عدالت میں ایک جزوی مشیر مقرر کیا جا سکتا ہے اور اپیل کی صورت میں کیس30 دن کے اندر بنایا جائے گا۔
باب 6 سائبر جرائم کے خلاف ضروری احتیاطی اقدامات کی وضاحت کرتا ہے۔ حکام نے اس کے تحت جرائم کو روکنے کیلئے رہنما خطوط جاری کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ ایک ایمرجنسی رسپانس ٹیم دھمکیوں اور حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے قائم کی جائے گی۔ ٹیم دونوں سرکاری اور نجی شعبے کے ماہرین پر مشتمل ہو سکتی ہے۔

آخر میں، سائبر بل کے باب 7میں کچھ بے ترتیب معاملات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔یہ وفاقی حکومت کے افسر کی تربیت، اختیارات اور تحقیقاتی ادارے کے حکام، اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی)، مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں، ٹیموں کے اصل وقت کے انٹیلی جنس میں کام کرنے وغیرہ شامل ہیں ۔
سائبر جرائم کی آن لائن سرگرمیوں کی درج ذیل درجہ بندی کی گئی ہے۔

چوری(ڈیٹا، پیسہ، دستاویزات، ملکیت دانش، سافٹ ویئر کی نقل،قانون کی خلاف ورزی، ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی)، دھوکہ دہی، منی لانڈرنگ، انٹر نیٹ پر غیر قانونی اور جعلی اشیا کی فروخت، فحاشی، جوا، ای میل سپوفنگ( جعلی سورس، جو اصل معلوم ہو، بنا کر ای میل بھیجنا) ، جعلسازی، پاپیگنڈہ، ہتک عزت، توہین آمیز مواد کی اشاعت، سائبر تعاقب(کسی کوآن لائن ہراساں کرنا)، کمپیوٹر سسٹم کے نیٹ ورک تک غیر مجاز رسائی، ہیکنگ، الیکٹرانک فارم میں موجود معلومات کی چوری وغیرہ، ای میل کی بھرمار( ایک بڑی تعداد میں ای میلز بھیجنا جس سے ای میل اکاؤنٹس یا سرور کریش ہو جائے ) ڈیٹا میں غیرمجاز ترمیم، مالوئیر، وائرس، ورمز، ٹروجن حملوں، ویب جیکنگ(ویب سائٹس پر کنٹرول چوری) وغیرہ وغیرہ ۔

یہ کسی طرح سے بھی سائبر جرائم کی حتمی فہرست نہیں ہے۔ تاہم، ہمارا بل پی ای سی بی 2015 ایک قدم اور آگے جاتا ہے اور مثال کے طور پر، سپیمنگ اب ایک جرم ہے “جو شخص ارادتاً ، وصول کنندہ کی قطعی اجازت کے بغیر دھوکہ دہی پر مشتمل، گمراہ کن، غیر قانونی یا غیر مطلوبہ معلومات کسی بھی شخص کو منتقل کی جائیں تو وہ شخص بل کی دفعہ 22کے تحت سپیمنگ کے جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس شق سے صرف براہ راست مارکیٹنگ کرنے والوں کو استثناء دیا گیا ہے تاہم انہیں فہرست سے خارج کرنے کی پیش کش کرنے کی ضرورت ہے۔ سپیمنگ قابل سزا جرم ہے اور مجرم کو 50ہزار تک جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے اور بعد میں ہر خلاف ورزی پر تین ماہ کی قید یا ایک ملین روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جاسکتی ہیں۔

بل میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو انٹرنیٹ سنسر کرنے کا اختیار دے کر ہمارے حق آزادی تقریر کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ “اتھارٹی کسی کو معلومات ہٹانے، معلومات تک رسائی مسدود کرنےکی ہدایت دے سکتی ہےاگر یہ معلومات اسلام یا پاکستان کی سالمیت، سلامتی یا دفاع یا اس کے کسی بھی حصے، غیر ملکی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ، عوامی سطح پر امن و امان میں خلل ، شرافت یا اخلاقیات سے ہٹ کر یا توہین عدالت پر مبنی ہوں۔
سیکشن (2) : اتھارٹی معلومات مرتب کرنے، رسائی مسدود کرنے اور شکایات کے ازالے کیلئے معیارات اور طریقہ کار کو اپنانے کیلئے تجاویز دے سکتی ہے۔
سیکشن(3) : جب تک اس طرح کا طریقہ کار اور معیار طے نہیں ہو جاتا اتھارٹی اس ایکٹ یا وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت اختیارات استعمال کرسکتی ہے جو ایکٹ سے متصادم نہ ہوں۔

دفعہ 38 (2) ایک ذاتی پسندپر مبنی ہے۔ جس کے تحت “وفاقی حکومت اپنے طور پر مستقبل کے حوالے سے غیر ملکی حکومت، کسی غیر ملکی ایجنسی یا کسی بین الاقوامی ایجنسی یا تنظیم کسی بھی طرح کی معلومات مدد فراہم کر سکتی ہے جو اس کی اپنی تحقیقات پر مبنی ہوں۔ وفا بن حسین اپنے آرٹیکل میں کہتی ہیں کہ یہ تصور مشکل ہے کہ پاکستان کس طرح 14صفحوں پر مشتمل پاکستان الیکٹرانک کرائمز بل کے ذریعے اپنے ڈیجیٹل مستقبل کو سبوتاژ کرسکتا ہے۔ وہ بین الاقوامی ادارے ای ایف ایف کی ٹیم کے ساتھ سائبر جرائم اور دہشتگردی کی روک تھام کے قوانین پر کام کرچکی ہیں۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے منتخب عرب ممالک

تیونس، اردن، سعودی عرب، اور مصر کو چنا۔

“قانون سازی میں انسانی حقوق کی سب سے بنیادی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ الیکٹرانک کرائم بل سنسر شپ، نگرانی، اور آزادی اظہار کا گلا گھونٹ کر ان الفاظ کو نئے معنی دیتا ہے۔ نگہت داد اور عدنان چوہدری متذکرہ بالا موقف سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پی ای سی بی خوفناک بل کی معذرت خواہانہ کہانی ہے۔

نوٹ : مندرجہ بالا وردہ منیر کی تحریر سائبر کرائم بل کی منظوری سے قبل شائع کی گئی تھی۔

تحریر:وردہ منیر (Verda Munir)

Read in English

Authors

*

Top