Global Editions

جرائم کی بیخ کنی کیلئے پولیس کا ڈیٹا پر انحصار

امریکہ میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ٹیکنالوجی اور ڈیٹا تجزیہ سے موثر انداز میں جرائم کی بیخ کنی کررہے ہیں۔جس سے امریکہ میں جرائم میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔ ریاست فلوریڈا کےشہر فورٹ لاڈرڈیل (Fort Lauderdale ) کی پولیس نے ایک سال قبل آئی بی ایم کے تعاون سے جرائم کی پیش گوئی کرنے والا سافٹ ویئر بنایا ہے جو مختلف علاقوں میں جرائم کے اعداد وشمار اور میسر ڈیٹا کا تجزیہ کر کے ایسے علاقوں کی نشاندہی کرتا ہے جو جرائم سے زیادہ متاثر ہیں۔ لاڈر ڈیل کے پولیس چیف ویڈ برابل (Wade Brabble) اس تجزیئے کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں اور اپنے افسران کو مختلف متاثرہ علاقوں کی نگرانی کرنے کے احکامات دیتے ہیں۔

نیویارک پولیس بھی کامپ سٹیٹ (CompStat)نامی سافٹ ویئر پر انحصار کررہی ہے جس کی مدد سے جرائم کا کمپیوٹرائزڈ تجزیہ نئی سطح پر آگے بڑھ رہا ہے۔ اس نے جرائم کے اعدادو شمار سے باخبر رہنے کیلئے ایک نقشہ تیار کروایا ہے ۔ اس نقشے کے مطابق جن علاقوں میں جرائم بڑھتے ہیں اس علاقے کے پولیس انچارج کا احتساب کیا جاتا ہے۔ اب اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ 2,50,000مربع فٹ پر پھیلے وسیع علاقے کے جرائم کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جائے اور ایسے علاقوں کی پیشن گوئی کی جائے جہاں پر مستقبل قریب میں جرائم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ رینڈ کارپوریشن کے والٹ پیری کہتے ہیں کہ تجارتی بنیادوں پر دستیاب تجزیہ کار، بڑے ڈیٹا سیٹ ، پیش گوئی کرنے والے سافٹ وئیرز اور تیز تر کمپیوٹرز مستقبل کے تجزیئے میں بہتری لانے کی کوشش رہے ہیں۔ تاہم الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن جیسے ناقدین کاکہنا ہے کہ ایسے منصوبوں سے نسلی تعصب کو فروغ ملے گا۔

کمپنی پریڈ پول (PredPol) کے شریک بانی جیف برانٹنگھم (Jeff BranTingham)کہتے ہیں کہ کچھ محکمے مثلاً لاس اینجلس پولیس ماضی کے جرائم کے مقامات، وقت اور جرم کی قسم کے اعداد وشمار کی بنیاد پر پیش گوئی کرتی ہے۔ ان کی کمپنی ایل اے پی ڈی (LAPD)کیلئے سافٹ وئیر بھی بنایا ہے۔ اس کی دوسری انتہا پر شکاگو شہر ہے جہاں پر پولیس اس بات کا تجزیہ کرتی ہے کہ کیا ڈیٹا کے استعمال سے پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ کس قسم کے تشدد کے واقعات میں کون سے مخصوص ممکنہ مجرم ملوث ہو سکتے ہیں۔ جبکہ فورٹ لاڈرڈیل کا پولیس ڈیپارٹمنٹ ایک درمیانی راستہ اختیار کرتے ہوئے جرائم کی تاریخ میں مختلف عوامل کا تفصیلی تجزیہ کرتا ہے۔ تاہم ڈیٹا کے تجزیہ کار یہ نہیں بتاسکتے کہ کونسا مخصوص سٹور منگل کو جرم کا نشانہ بنے گاتاہم وہ یہ پیش گوئی کرسکتے ہیں کہ کس علاقے میں چوری کا 70فیصد امکان ہےاور کن علاقوں میں ڈکیتی کا 40فیصد امکان ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ طریقہ کار کام کررہاہے لیکن ایک متحرک زندہ شہر میں یقین سے کہنا مشکل ہے کہ جرائم کی شرح کس وجہ سے نیچے آ رہی ہے مثلاً فورٹ لاڈرڈیل میں 2014ء کے دوران قتل، ڈکیتی، چوری اور جنسی تشدد جیسے جرائم کی شرح میں 6فیصد کمی آئی ہے۔ اسسٹنٹ پولیس چیف مائیکل گریگوری (Micheal Gregory) کہتے ہیں کہ کمپیوٹر تجزیئےکے علاوہ چوری کیخلاف بہت سے احتیاطی اقدامات بھی کرتے ہیں۔ شکاگو میں شدید جرائم میں ایک سال میں 13فیصد کمی آئی ہے جبکہ یہ شرح 1965ء کے بعدسے اب تک ہلاکتوں کی سب سے کم شرح ہے۔ شکاگو پولیس نےجرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی سےمتعلق حکمت عملی کیلئے جو فہرست بنائی ہے اس میں 400افراد کے نام درج ہیں۔ ان تمام کا پہلے گرفتاریوں کا ریکارڈ ہے اور ان کے جرائم پیشہ افراد سے تعلق ہے۔ کمپیوٹر ماڈل یہ تو پیش گوئی کرسکتا ہے کہ جرم کا ارتکاب ہونے والا ہے اورکسی کو تشدد کا نشانہ بنایا جانے والا ہے لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ کون جرم کا ارتکاب کرنے والا ہے یا کون تشدد کا نشانہ بننے والا ہے۔

پبلک سیفٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ کمانڈر جوناتھن لیون کہتے ہیں کہ یہ 400 افراد ایک یا اس سے زیادہ بار جرائم میں ملوث پائے گئے۔ فہرست کی تیاری میں زیادہ تر جو کمپیوٹر ڈیٹا استعمال کیا گیا وہ مجرموں کے باہمی رابطوں پر مشتمل ہے۔ اس میں کچھ مسائل بھی ہیں کہ نابالغ مجرموں کے نام بھی اس فہرست میں شامل کردیئے گئے ہیں۔ لاس اینجلس میں پولیس نے مجرموں کی شناخت کو ماڈل کے طور پر پیش کرنے سے معذرت کرلی ہے۔براٹنگھم نے خبردار کیا ہے کہ پولیس کے پاس کسی کےسرچ وارنٹ کیلئے امکانات کی نہیں بلکہ ثبوت اور دلیل کی ضرورت ہوتی ہے اور سب سے آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ دنیا کا بہترین نظام انسانی فیصلے کی صلاحیت سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ ڈیٹا کے تجزیہ کیلئے زیادہ تر ویڈیو اور سوشل نیٹ ورک ٹوئٹر جیسے ذرائع استعمال ہو رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ممکن ہے کہ سسٹم فیصلوں کی بہتری کے ساتھ سامنے آئےاور شاید ان پر عملدرآمد بھی کیا جائے کیونکہ آفیسرز کو موبائل آلات اور گاڑی کے کمپیوٹر کے ذریعے زیادہ سےزیادہ ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے۔ اس تمام نظام کے قائم ہونے کے باوجود ایک بات کا تنازعہ تو رہے گا کہ جرائم کی پیش گوئی کیلئے کیا یہ ڈیٹا قابل قبول ہے؟

تحریر : ٹم ملینی Tim Mulleney

Read in English

Authors
Top