Global Editions

کیا ڈیٹا سائنس سماجی مسائل کے حل کیلئے معاون ہو سکتی ہے؟

ڈیٹا سائنس سماجی مسائل حل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے دنیا کو درپیش بے شمار سماجی مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ڈیٹا سائنس کے ماہرین اس پر کام کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سماجی مسائل پر ڈیٹا سائنس کی مہارتیں ضائع کرنے کے مترادف ہے لیکن جب سے امریکی صدر بارک اوباما نے ڈیٹا سائنس کو سیاست میں اپنی انتخابی مہم کیلئے کامیابی سے استعمال کیا ہے، ماہرین سماجی مسائل کے مختلف پہلوئوں پر اس کی افادیت کے بارے میں سوچنا شروع ہو چکے ہیں۔ اور اس پر سوشل سائنس ہی نہیں بلکہ ڈیٹا سائنس کے ماہرین نے بھی کام کرنا شروع کردیا ہے اوباما کی انتخابی مہم کا ماڈل ان کیلئے مشعل راہ ہے۔ اب ڈیٹا سائنس سے صرف سیاست ہی نہیں بلکہ جرائم سے لے کر ٹریفک کے مسائل تک کو حل کرنے میں مدد لی جارہی ہے۔

ڈیٹا سائنس کی مدد سے امریکی صدر اوباما کی انتخابی مہم ان کی ٹیم کے چیف ڈیٹا سائنٹسٹ راعد غنی (Rayid Ghani) نے چلائی۔ اس دوران انہوں نے سیاسست میں ڈیٹا سائنس کے استعمال پر انقلابی تجربات کئے جو آگے چل کر سماجی مسائل حل کرنے میں بہت معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے آخری 18ماہ کے دوران اعدادو شمار اور سافٹ وئیرز کے ماہرین کی ایک بہت بڑی ٹیم نے ووٹرز کے بارے میں ٹکڑوں میں بٹی ہوئی چھوٹی چھوٹی معلومات کو جمع کرکے ان کا تجزیہ کیا اور فنڈ ریزنگ کے اشتہارات اور اپیلوں کیلئے ان ووٹرز کو ہدف بنایا جو امکانی طور پر ان کا جواب دے سکتے تھے۔

اوباما کے اوول آفس میں پہنچنے کے بعد ان کی ٹیم میں شامل بعض ڈیٹا سائنسدانوں نے انتخابی مہم سے حاصل ہونے والے تجربات کو سماجی ایشوزمثلاً تعلیم اور صحت کے مسائل کو حل کرنے کیلئے استعمال کیا۔ غنی نےانتخابی مہم کے دودیگر ساتھیوں کے ساتھ ایج فلپ (Edgeflip)نامی سٹارٹ اپ کمپنی قائم کی اور انتخابات میں اوباما کی اشتہاری مہم کیلئے ایڈ ہاک بنیادوں پر استعمال ہونے والے سافٹ وئیر کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا۔ صرف غنی ہی نہیں اوباما کی انتخابی مہم چلانے والے دیگر ڈیٹا سائنسدان شکاگو میں جرائم کے اعدادشمار جمع کرنے کیلئے سافٹ وئیر بنانے میں مدد کررہے ہیں۔ مختلف سماجی نظاموں کو انجینئرکرنے کا خیال بہترین ہےجس میں پیچیدہ ٹریفک سے لے کر انسانی سمگلنگ تک تمام دنیاوی سرگرمیاں شامل ہوں۔ اس کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں مثلاً سٹارٹ اپ کمپنی ڈیٹا کائنڈ (Data Kind)انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر مسائل حل کرنے کیلئے کام کرتی ہے۔ آئی بی ایم (IBM)کی کمپنی آئیوری کوسٹ (Ivory Coast)میں بس کا روٹ بتانے کی خدمات سرانجام دیتی ہےجبکہ گوگل زکام کی علامات کے بارے میں خبردار کرتا ہے۔

غنی کو ہمیشہ سماجی مسائل میں دلچسپی رہی ہے۔ انہوں نے 10سال تک سماجی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ایکسنچر (Accenture)میں بطور ڈائریکٹر تجزیہ کار کے کام کیا۔ وہ ایکسنچر میں اشیاء کی فروخت کے حوالے سے پیش بینی کرتے ، صارفین کے مصنوعات کے بارے میں روئیے کے ماڈلز بناتے تھے۔ اوباما کی انتخابی مہم کیلئے کام کرنے سے پہلے غنی کو اتنا یقین نہیں تھا کہ ڈیٹا سائنس کا سماجی زندگی کو بہتر بنانے پر بھی کوئی اثر ہوتا ہے لیکن انتخابی مہم میں ان کی سرگرمیوں سے اوباما کو کامیابی ملی۔ غنی کہتے ہیں کہ میں نے دو باتیں سیکھیں کہ ہماری سرگرمیوں سے انتخابی مہم پر دُگنا اثر پڑا اور اس سے ہم دیگر سماجی مسائل کے حل میں بھی مدد لے سکتے ہیں۔

اوباما کی مہم میں غنی نے اعدادوشمار پر مبنی ماڈل بنایا جو ہر ووٹرز کوسوچنے کیلئے پانچ سوال فراہم کرتا تھا جن میں صدر کیلئے حمایت، صدر کیلئے جذباتی وابستگی، صدارتی مہم میں عطیہ کرنا، رضاکارانہ خدمات سرانجام دینا اور حقیقت میں ووٹ کاسٹ کرنا شامل تھے۔ غنی کے ماڈل میں ہر ووٹر کے دروازے تک رسائی حاصل کرنا، متوقع ووٹرز کو فون کالزکرنا ، ٹی وی اور آن لائن اشتہارات دیئے جاتے تھے۔ انتخابی مہم کے دوران غنی نے ڈیٹا سائنس کے بارے میں اہم تصورات کو فروغ دیا جن میں مخصوص ہدف کو طے شدہ مقاصد کے تحت نشانہ بنانا بھی شامل تھا جو بعد میں ایج فلپ کمپنی کی پہلی پراڈکٹ کی بنیاد بنا۔ اوباما کی انتخابی مہم میں فیس بک کی ایک ایپلی کیشن استعمال کی گئی جس میں لوگوں کو معلومات شیئرکرنے ، انتخا بی مہم میں مددفراہم کرنے یا رقم عطیہ کرنے کی طرف مائل کیا جاتا تھا۔اوباما کی فیس بک مہم نے کام کردکھایا۔

اب ایج فلپ کمپنی اپنے مستقبل کے منصوبوں کیلئے اس ایپلی کیشن کو استعمال کرتے ہوئےلوگوں سے ان کے دوستوں کے ناموں کی فہرست، عمر، ذاتی تفصیلات کے بارےمیں معلومات حاصل کرے گی۔ اگر جنوب مشرقی امریکہ میں سمندری طوفان آتاہے تو فیس بک ایپلی کیشن اپنے صارفین سے درخواست کرے گی کہ وہ اپنے دوستوں میں ، جوسمندری طوفان سے متاثرہ علاقوں میں رہتے ہیں، ریڈ کراس کا پیغام پھیلائیں کہ کیا وہ سمندری طوفان سے متاثرہ علاقوں میں رضاکارانہ طور پر مزدوری اور صفائی کرنا پسند کریں گے۔

غنی سماجی پس منظر میں ٹیکنالوجی کا کہیں بڑا کردار دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معلوم نہیں کہ سیاستدان ٹیکنالوجی کے حوالے سے پالیسیاں بنانے کیلئے تیار ہیں یا نہیں۔ میں صرف تصور کرسکتا ہوں کہ ٹیکنالوجی کے اداروں کے اشتراک عمل سے پالیسیاں بنائی جارہی ہیں۔ ان کے خیال میں ابھی بگ ڈیٹا کیلئے بچپن میں ہی موٹاپے کی بیماری، گروہی رکنیت، بچوں کی اموات کی معلومات کو منظم نہیں کیا گیا۔ اس تمام معاملے میں ایک ہی خامی ہے کہ سماجی مسائل حل کرنے کیلئے ڈیٹا سائنسدانوں کا فقدان ہے۔ اس موسم بہار میں غنی شکاگو یونیورسٹی میں “سماجی بہتری کیلئے ڈیٹا سائنس کا استعمال “کے موضوع پر فیلوشپ پروگرام شروع کریں گے۔افسوس کی بات یہ ہے جو لوگ ڈیٹا سائنس میں مہارت رکھتے ہیں انہوں نے سماجی مسائل کیلئے گوگل، فیس بک پر کام کرنا بند کردیا ہے۔ غنی کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں پر ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ اعدادوشمار کے ذریعے سماجی مسائل حل کرنے کا اثر دوگنا ہوتا ہے۔

تحریر: ٹیڈ گرینوالڈ (Ted Greenwald)

Read in English

Authors

*

Top