Global Editions

زلزلہ سے خبردار کرنے والی ایپ تیار

جب زلزلے آتے ہیں تو ہر منٹ شمار ہوتا ہے۔جب یہ پتہ چل جائے کہ ایک جگہ زلزلہ آیا ہے اور اس جگہ کا پتہ چل جائے تو اس سے بڑا فرق پڑ سکتا ہے یعنی لوگ عمارت کے اندر رہ کے کچلے نہ جائیں بلکہ وہ باہر بھاگ جائیں اور زندہ رہیں۔ اس قسم کی بروقت معلومات زلزلہ کی صورت میں رسپانس کرنے والے اداروں کے لئے بھی اہم ہو سکتی ہیں۔

تاہم ابتدائی طور پر انتباہ کرنے والے نظام کی رفتار ہر ملک کے لئے مختلف ہوتی ہے۔ جاپان اور کیلیفورنیا میں سینسر اور زلزلے کے اسٹیشنوں کے بڑے نیٹ ورک زلزلے سے شہریوں کو خبردار کر سکتے ہیں۔ لیکن ان نیٹ ورکس کو انسٹال کرنااور بعد میں ان کا خیال رکھنا مہنگا کام ہے۔ میکسیکو اور انڈونیشیا جیسے زلزلے کے شکار ممالک ایسے جدید یا وسیع پیمانے پر نظام نہیں رکھتے ہیں۔

ممالک کے درمیان اس فرق کوختم کرنے کے لئے سستا اور مؤثر طریقہ کرائوڈ سورس رپورٹس ہیں اور بعد میں اس کو سیسمک مانیٹرنگ سٹیشن سے آنے والے روایتی ڈیٹا سےملایا جا سکتا ہے۔ یہ نقطہ نظر سائنس ایڈوانسز کے ایک پیپر میں بیان کیا گیا ہے۔

کرائوڈ سورسڈ رپورٹس تین ذرائع سے آتی ہیں: یورو میڈٹرینین سیمالوجیکل سینٹر کی طرف سے تیار کی گئی ایپ لاسٹ کویک(LastQuake)؛زلزلے کے حوالے سے آنے والے ٹویٹس سے؛ اوریورو میڈٹرینین سیمالوجیکل سینٹر یا ای ایم ایس سی کے آئی پی ایڈریس سے۔

جب یہ طریقہ 2016 ء اور 2017 میں واقع ہونے والے زلزلوں پر لاگو کیا گیا تو کرائوڈ سورس رپورٹس 85 فیصد درست تھیں۔ روایتی زلزلے کے ڈیٹا کو روایتی سیسمک ڈیٹا کے ساتھ ملانے پر نتائج 97فیصد درست نکلے۔ کرائوڈ سورسڈ کا نظام تیز بھی تھا۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً 50 فیصد مقامات کو دو منٹ سے بھی کم وقت میں ڈھونڈ لیا گیا، روایتی سینٹر سے ملنے والی ڈیٹا سے پورا ایک منٹ پہلے۔

جب ای ایم ایس مشتبہ زلزلے کی نشاندہی کر لیتا ہے تو یہ لاسٹ کویک ایپ کے ذریعے صارفین کو مزید معلومات کے لئے مزید الرٹس بھیجتا ہے: تصاویر، ویڈیوز، زلزلے کے لیول کی تفصیلات اور اسی طرح کا بہت کچھ۔اس چیز سے ابتدائی رسپانس کرنے والوں کو مددملتی ہے۔

اس تازہ ترین اپروچ سےای ایم ایس سی ویب سائٹ اور لاسٹ کویک ایپ پر ٹریفک بڑھتی ہے۔

ای ایم سی سی کے سیکرٹری جنرل ریمی باسو(Remy Bossu) کے مطابق انڈونیشا کے شہر بالی میں ٹیم نے اگست2018میں چند منٹوں میں ایک ہزار رپورٹس موصول کیں۔ ایپ صارفین کے مقام کی موجودگی(ان کی اجازت کے ساتھ) ٹریک کرتی ہے جبکہ ٹیم پراکسی کے ذریعے زلزلہ کے مقامات کا تعین کرتی ہے۔ ای ایم ایس سی میں سائنسی پروگرامر اور اس مطالعہ کے شریک مصنف رابرٹ سٹیڈ کا کہنا ہے،”یہ ایک مؤثر اور کافی صاف سگنل ہے۔زلزلہ ایک وقت میں ایک مقررہ مرکز پر ہوتا ہے اور پھر لوگ اس کی معلومات کی تلاش میں اضافہ کر دیتے ہیں۔

باسسو کہتے ہیں، “لوگ مؤثر طریقے سے ہمارے حقیقی وقت میں سینسر ہیں۔”

زلزلہ کے ڈیٹا کو تبدیل کرنے کے بجائے،اس پیپر کے مطالعے سے محسوس ہونیوالا زلزلہ کی حقیقت کو جانچنےکی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس چیز سے بھی رسپانس کرنے والوں کوجلدی ریلیف شروع کرنے میں مدد ملتی ہے۔

باسو کہتے ہیں یہ ایک شہری کی طرف سے زلزلہ کے مرکز کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کا ایک بہتر کیس ہے۔ سکاٹ لینڈ میں یونیورسٹی آف سٹرالائیڈ(University of Stratchylyde) میں زلزلہ کے ماہر جان ڈوگلاز جو کہ اس مطالعہ میں شامل نہیں تھے، کا کہنا ہے، ” یہ ٹیکنالوجی میں ہونیوالی پیش رفت کی ایک اچھی مثال ہے اور وسیع تعداد میں سائنسی نتائج میں اضافہ کرتی ہے”۔

جان ڈوگلاز مزید کہتے ہیں اس چیز سے زلزلہ آنے کی صورت میں اہل اقتدار کی توجہ اس ناگہانی کی طرف کروانے سے اموات میں کمی ہو سکتی ہے اور ٹیمز نقصانات میں کمی لا سکتی ہیں۔ اگلا کام یہ ہے کہ اس سسٹم کو اگلے حقیقی زلزلہ کے آنے پر ٹیسٹ کیا جائے۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

Read in English

Authors

*

Top