Global Editions

جین ایڈیٹنگ کی تکنیک کا انسانوں پر پہلا تجربہ

چین کے سائنسدانوں نے جین ایڈیٹنگ کی تکنیک CRISPR کا انسانوں پر پہلا تجربہ کیا ہے۔ شینگ ڈو Chengdu کی سچوان یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے جگر کے سرطان میں مبتلا مریضوں کو ایڈٹ شدہ جین کے انجیکشن لگائے ہیں۔ اس تجربے کو انسانوں پر CRISPR کے اولین تجربات کی کڑی کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ کینسر کی آخری سٹیج کے مریضوں پر ہونے والے اس تجربے میں جین ایڈیٹنگ کی سب سے سستی اور موثر تکنیک CRISPR کے ذریعے ڈی این اے میں تبدیلی کر کے زندہ خلیوں کو ٹی سیلز کے خلاف مدافعتی قوت کے طور پر استعمال کرنے کے تجربات کئے جا رہے ہیں۔ کینسر کے مریضوں میں یہ ٹی سیلز مدافعتی نظام اور ان کے ردعمل کو دباؤ میں رکھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ درست انداز میں کام نہیں کر پاتے۔ معروف جریدے نیچر کے مطابق اس تجربے کے حوالے سے ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس انجیکشن کو دس مریضوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خلیے کینسر کے خلیات کو تباہ کرنے کےلئے استعمال کئے جائیں گے۔ اس علاج کے اب تک کئی مضر اثرات بھی سامنے آئے ہیں جس میں مریض کے مدافعتی نظام میں اتھل پتھل اور اس کے جینیاتی لیول میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ اس طریقہ علاج کو محدود کینسر کے علاج کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم زیر بحث طریقہء علاج میں ایک درست جین سے خلیے حاصل کر کے انہیں ایڈٹ کیا جاتا ہے اور پھر انہیں جسم میں داخل کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ خلیے کینسر کے خلیوں کو مارنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ جین ایڈیٹنگ کی تکنیک تحقیق کاروں کو یہ سہولت بھی فراہم کرتی ہے کہ وہ PD-1 پروٹین تیار کرنے والے جین کے کوڈز کو بند کر دے۔ اس کی مدد سے مریض کا مدافعتی نظام کینسر کو شکست دینے کے قابل ہو سکتا ہے۔ جین ایڈیٹنگ کی تکنیک کے انسانی تجربات امریکہ میں بھی تجویز کئے گئے ہیں تاہم ابھی تک اس ضمن میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے تحقیق کار کارل جون (Carl June) نے ’’نیچر‘‘ کو بتایا ہے کہ اس حوالے سے امریکہ میں تجربات جلد شروع ہوں گے۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors

*

Top