Global Editions

جین ایڈیٹنگ کے ماہرین قابل وراثت جین کی ترمیم پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کررہے ہيں

جین ایڈیٹنگ کے کچھ مقبول نام سیلز میں وہ تمام ترامیم روکنا چاہتے ہیں جو آنے والی نسلوں کو متاثر کریں گی۔

دسمبر 2015ء میں منعقد ہونے والی انسانی جین ایڈیٹنگ کے پہلے بین الاقوامی اجلاس میں ایک بیان جاری کیا گيا تھا، جس میں اجلاس کے منتظمین نے متفقہ طور پر کہا تھا کہ جینیاتی طور پر ترمیم شدہ بچوں کی پیدائش کے سو فیصد محفوظ ہونے کی یقین دہانی حاصل ہونے تک اس عمل کو “غیرذمہ دارانہ” ہی تصور کیا جائے گا۔

تاہم، اس اعلان سے کچھ خاص فائدہ نہيں ہوا۔ پچھلے سال چینی سائنسدان ہی جیان کوئی جنینی بچوں کو ترمیم کرکے دو جینیاتی طور پر ترمیم شدہ بچے پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کے علاوہ، کئی گروپس اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے انسانوں کو بہتر بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

اس پیش رفت کے بعد جین ترمیم کے چند ماہرین نے (جن میں سے کچھ افراد نے 2015ء کے بیان پر بھی دستخط کیا تھا) تمام انسانی جرم لائن ترمیم، یعنی سپرم یا انڈوں کے سیلز کی قابل وراثت ترمیم پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس ہفتے نیچر میں شائع ہونے والے ایک خط میں سات مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کرسپر ٹیکنالوجی کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے ماہرین نے، جن میں ایمانویل چارپینٹیر، ایرک لینڈر اور فینگ زہینگ اور ان کے رفقاء کار شامل ہیں، ایک بین الاقوامی معاہدہ طے ہونے تک انسانی جرم لائن ترمیم پر ممانعت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق پانچ سال کی میعاد مناسب ہے، اور امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ نے بھی اس مطالبے کی تائید کی ہے۔

یہ سائنسدان امید کرتے ہيں کہ ایک رضاکارانہ عالمی پابندی سے ہی جیان کوئی جیسے سائنسدان کے کسی قسم کے غیرمتوقع اور غیرمطلوبہ اقدام کی روک تھام ممکن ہوگی۔

اس گروپ کا کہنا ہے کہ عارضی پابندی عائد کرنے سے انہیں اس تکنیک کے تکنیکی، سائنسی، طبی، سماجی اور اخلاقی مسائل پر غور کرنے کا وقت مل جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ جرم لائن ترمیم کی اجازت دینے کا فیصلہ کرنے والے ممالک کو سب سے پہلے عوام کو اس کے متعلق مطلع کرنے، بین الاقوامی مشاورت سے فائدہ اٹھانے، اور اپنے ملک میں وسیع پیمانے پر اتفاق رائے حاصل کرنا چاہیے۔

وہ مزید کہتے ہيں “ممکن ہے کہ پوری دنیا اس نتیجے پر پہنچے کہ جرم لائن ترمیم سے گریز کرنا چاہیے۔ دوسری طرف وہ یہ بھی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ خود کی اولاد پیدا کرنے سے قاصر والدین کو جینیاتی اصلاح دے دی جائے، لیکن جینیاتی بہتری کی کوشش نہ کی جائے۔ یا بھی ہوسکتا ہے کہ برتری کے محدود استعمال کی حمایت کی جائے۔”

اس خط پر دستخط کرنے والوں کے مطابق جرم لائن ریسرچ کو صرف اسی صورت میں اجازت دینی چاہیے اگر جنینی پچے اور جیتے جاگتے بچے پیدا کرنے کا ارادہ نہ ہو۔ کرسپر کی مدد سے افزائش نسل میں کردار ادا نہ کرنے والے سومیٹک سیلز (جن میں تبدیلیاں قابل وراثت نہيں ہوں گی) میں بھی کوئی قابل اعتراض بات نہيں ہونی چاہیے، بشرطیکہ شرکت کرنے والے بالغ افراد نے باخبر رضامندی کا اظہار کیا ہو۔ اس وقت کسی بھی صورت میں جینیاتی برتری کی اجازت نہيں نہیں دینی چاہیے، اور اس وقت تک کوئی بھی کلینیکل ایپلیکیشن چلانی نہيں چاہیے جب تک انفرادی اور مجموعی طور پر طویل المیعاد نتائج واضح نہ ہوں۔

اس وقت ہمیں معلوم نہيں ہے کہ ہمارے بیشتر جینز کیا کرتے ہیں، لہٰذا غیرمطلوبہ نتائج کے امکانات بہت زیادہ ہيں۔ مثال کے طور پر، ہی بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے جس سی سی آر 5 جین کے نقصان پر کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں، وہ چند وائرل انفیکشنز میں مزید پیچیدگیوں اور موت کا باعث بن چکی ہے۔

ممکن ہے کہ کسی جینوم میں تبدیلی سے آنے والی نسلیں بھی غیرمتوقع طریقوں سے متاثر ہوسکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری موجودہ معلومات کی بنیاد پر تمام انسانیت کو تبدیل کرنے کی کوشش بہت بڑی بے وقوفی ہوگی۔

تجویز کردہ عارضی پابندی اور عالمی فریم ورک صرف رضاکارانہ طور پر عملدرآمد کیے جائيں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس پابندی سے غلط ارادے رکھنے والے سائنسدانوں کی روک تھام ممکن نہیں ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر پابندی عائد کرنا ایک بہت “سخت” فیصلہ ہوگا، اور انہیں امید ہے کہ ان کی تجویز سے انسانی نسل کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے ارادوں میں کم از کم رکاوٹ ضرور پیدا ہوگی۔

ہی کے تجربوں کے بعد چین کی وزارت صحت بھی جینیاتی ترمیم کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اب نئے قوانین کے مطابق چینی سائنسدانوں کو جرم لائن ترمیم جیسے خطرناک اقدام کرنے کی کوشش کرنے سے پہلے حکام سے اجازت حاصل کرنی ہوگی۔

تحریر: نیال فرتھ (Niall Firth)

Read in English

Authors

*

Top