Global Editions

سیکل سیل کی بیماری کے شکار افراد جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی اپنانے کو تیار کیوں نہيں ہيں؟

اس مرض کا علاج کس حد تک قابل رسائی ہوگا؟

ماضی میں سیکل سیل کی بیماری کے لیے امیدافزا ثابت ہونے والی جین ایڈیٹنگ کی ایک ٹیکنالوجی کو اب انسانوں پر ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔ لیکن اگر یہ علاج کامیاب ثابت ہو بھی جائے تو سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا اس بیماری کے شکار افراد واقعی اس علاج سے مستفید ہوپائيں گے؟ نیشنل ہیومن جینوم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (National Human Genome Research Institute) کے ڈائریکٹر کے سینیئر مشیر وینس بونہم (Vence Bonham) کا کہنا ہے کہ اب جب ایک علاج سامنے آگیا ہے تو یہ سوال مزید اہمیت اختیار کرچکا ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں لاکھوں افراد سیکل سیل کی بیماری کا شکار ہیں۔ یہ خون سے وابستہ ایک جینیاتی مرض ہے جس میں سرخ خون کی خلیوں کی تعداد میں خلاف معمول طور پر اضافہ ہوتا ہے جو شدید درد، فالج اور اعضاء کے نقصان کی وجہ بنتا ہے۔

بونہم نے حال ہی میں منعقد ہونے والی ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کی ایم ٹیک کی کانفرنس میں بتایا کہ سائنسی اعتبار سے یہ نئی پیش رفت سیکل سیل کی بیماری کے شکار افراد کے لیے بہت خوش آئین ہے۔ محققین اب ایک ایسے تکنیک کی ٹیسٹنگ کررہے ہيں جس میں کرسپر (CRISPR) نامی جین ایڈیٹنگ کے ٹول سے اس مرض کی وجہ بننے والے جین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تاہم بونہم کہتے ہيں کہ سماجی اعتبار سے بہت کام باقی ہے۔ سیکل سیل کی بیماری خصوصی طور پر افریقی نژاد افراد میں زيادہ پائی جاتی ہے۔ وہ مزید بتاتے ہيں کہ اس بیماری کے شکار زیادہ تر افراد ذیلی صحارائی افریقہ اور بھارت میں رہتے ہيں، جبکہ امریکہ میں صرف 10،000 لوگ ہی اس مرض میں مبتلا ہیں۔

ان کی ٹیم نے حال ہی میں سیکل سیل کی بیماری کے شکار افراد، ان کے گھر والوں، اور ان کے ڈاکٹروں کی اس تکنیک کے متعلق رائے جاننے کے لیے ایک مطالعہ کیا تھا، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ ان افراد میں اس تکنیک کے کم قیمت ہونے کے متعلق کافی شک و شبہات پائے جاتے ہيں۔ ان لوگوں کی امیدیں بڑھیں تو تھیں، لیکن کئی دہائیوں سے نظرانداز ہونے کے باعث انہيں ان امیدوں پر پانی پھرنے کا بھی خوف تھا۔

اس مطالعے کے دوران انٹرویو کیے جانے والے ایک ڈاکٹر کو اس بات کا بھی ڈر تھا کہ ”زیادہ وسائل رکھنے والے افراد“ کو لاحق نایاب امراض کو زيادہ توجہ اور فنڈنگ حاصل ہوگی، جس کی وجہ سے سیکل سیل کی بیماری کے شکار افراد کو ایک بار بھر نظرانداز کردیا جائے گا۔ وہ کہتے ہيں کہ ”ان افراد کو ماضی میں اتنا نظرانداز کیا جاچکا ہے کہ اب انہيں ہر بات پر شک ہی ہوتا ہے۔“

بونہم کا کہنا ہے کہ علاج کے علاوہ، ہمیں اس نئی ٹیکنالوجی کے فوائد کو عام کرنے کے بہتر اور کم قیمت طریقے تلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”اس کے فائدے تو بہت ہيں، لیکن ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ فائدہ آخر کس کو پہنچ رہا ہے؟“

تحریر: مائیک آرکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors

*

Top