Global Editions

بیماریوں کے علاج کیلئے گائے میں انسانی جنین کی پیوند کاری

مغربی افریقہ کے متعدد ممالک میں خوفناک مرض ایبولا کے مریضوں کا علاج ان کے جسم میں پلازما داخل کر کے کیا گیا۔ مریضوں کے جسم میں داخل کئے جانیوالا پلازما ان افراد کے جسم سے حاصل کیا گیا تھا جو اس مرض سے شفایاب ہو چکے تھے۔ واضع رہے کہ پلازما سے مراد خون کا بے رنگ سیال ہے ، ہیمو کانسنٹریشن پلازما کے مقابلے میں خون کے سرخ ذرات کی کثرت کے لیے بطور عرق استعمال ہوتا ہے ۔ خشک پلازما زرد پاؤڈر کی صورت میں ملتا ہے جس کے استعمال میں احتیاط برتنی ضروری ہے ۔ اس پاؤڈر کے متعدد نعم البدل استعمال کئے جاتے ہیں۔ ایبولا کے علاج کے لئے کسی منظور شدہ دوا کی عدم موجودگی کے سبب مریضوں کے جسم میں پلازما داخل کرنے کا فیصلہ اس امید کے ساتھ کیا گیا کہ اس مرض سے بچنے والے شخص کے پلازما میں موجود پروایکٹو پروٹینز مریض کے جسم میں مرض سے لڑنے کے لئے مدافعت پیدا کر سکیں گے اور وہ صحت یاب ہو سکے گا۔ اب ایک بائیو ٹیک کمپنی نے مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے اسی تکنیک کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس ضمن میں اس بائیو ٹیک کمپنی کی جانب سے علاج کے لئے اپنائی جانیوالی تکنیک میں ایک تبدیلی کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ بیماریوں کے علاج کے لئے پلازما انسانوں کے جسم سے نہیں بلکہ گائے کے جسم سے حاصل کیا جائیگا۔ ساؤتھ ڈیکوٹا کی بائیو ٹیک کمپنی SAB Biotherapeutics نے انسانی اینٹی باڈیز کے حصول کے لئے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ گائے کو تیار کیا ہے تاکہ گائے سے حاصل ہونے والے پلازما کی مدد سے وہ انسانی جسم میں موجود نقصان دہ پتھوجنز (Pathogens) یعنی وہ عوامل جو انسانی جسم میں بیماریوں کو بڑھاوا دیتے ہیں،ان کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ کمپنی کئی طرح کے متعدی امراض جن میں ایبولا، انفلوئنزا یعنی وبائی زکام (یہ ایک شدید متعدی مرض ہے جو سانس کی نالی کو متاثر کرتا ہے) اور مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سینڈروم وغیرہ شامل ہیں،ان کا اس طریقہ کے تحت علاج کرنا چاہتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی حال ہی میں کمپنی اور دنیابھر میں بیماریوں کے تدارک کے لئے ابھرنے والی چھ بہترین ٹیکنالوجی پلیٹ فارم کے طور پر انکی اپروچ کی توثیق کی ہے۔ SAB Biotherapeutics چیف ایگزیکٹو ایڈی سیلیوان (Eddie Sullivan) کا کہنا ہے کہ انکی جانب سے اپنائے جانیوالی آئیڈیئےکا بنیادی تصور اس امر پر ہے کہ انسانی جسم میں موجود اینٹی باڈیز ہی دراصل بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا قدرتی ذریعہ ہیں۔ سیلیوان اور انکی ٹیم نے گائے میں موجود کئی طرح کے جینز کو مصنوعی انسانی کروموسومز کے ذریعے تبدیل کیا اور ان میں انسانی اینٹی باڈیز کے حصول کے لئے جنیٹک انفارمیشنز داخل کیں تاکہ گائے مصنوعی کروموسومز کے ذریعے انسانی اینٹی باڈیز تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکے۔ بعدازاں انکی ٹیم نے جنیٹک طور پر تبدیل شدہ گائے میں مخصوص بیماری کے علاج کے لئے اینٹی جین کی ویکسئین دی۔ اب جیسے ہی گائے مطلوبہ مقدار میں انسانی اینٹی باڈیز تیار کرنے کے قابل ہوتی ہے تو سائنس دان اس کے جسم سے حاصل ہونے والے پلازما میں سے اینٹی باڈیز الگ کر کے دوا تیار کر سکتے ہیں۔ اس تمام عمل کو مکمل ہونے میں اڑھائی ماہ کا عرصہ لگتا ہے۔ سائنس دانوں نے ماضی میں بھی جانوروں کے جسم سے اینٹی باڈیز حاصل کر کے انسانوں میں موجود بیماریوں کے علاج کی کوشش کی تاہم خطرناک سائیڈ ایفکٹس کے بعد ان کا استعمال روک دیا گیا۔جبکہ SAB’s antibodies کا ماننا ہے کہ ان کی اپنائی گئی تکنیک کے مضراثرات نہیں ہونگے کیونکہ ان کی جانب سے اپنائی گئی تکنیک سے حاصل ہونے والی اینٹی باڈیز مکمل طور پر انسانی خصوصیات ہی کی حامل ہونگی لہذا ان کے استعمال سے مضر اثرات سامنے نہیں آئینگے۔ حال ہی میں متعدی مرض ایبولا کے پھوٹ پڑنے کے بعد تحقیق کاروں کی جانب سے بتائے جانیوالے نتائج کے مطابق صحت یاب ہونے والے افراد میں پلازما کے استعمال کے باوجود مریضوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں تاہم ان کا تناسب مرض کے سبب ہلاک ہونے والوں سے نسبتاً کم ہے۔لہزا اس کا مطلب یہ نہیں کہ پلازما کو داخل کرنے کا تجربہ ناکام رہا کیونکہ افریقہ میں موجود ہیلتھ ورکرز کے پاس یہ جانچنے کا وقت نہیں تھا کہ ایبولا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریض سے حاصل ہونے والے پلازما میں اینٹی باڈیز کی شرح کیا ہے۔ اب نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ SAB Biotherapeutics کی جانب سے گائے کے جسم میں نشوونما پانے والے انسانی پلازما کا انسانوں پر تجربہ کرنے جا رہی ہے اور اس ضمن میں پہلا سیفٹی ٹرائل MERS کے مریضوں پر کیا جائیگا۔ اگر یہ تجربہ محفوظ ثابت ہوا تو پھر دوسرے مرحلے میں اس دوا کا تجربہ دیگر ممالک میں MERS کے مریضوں پر کیا جائیگا۔ اس کے ساتھ ساتھ SAB آرمی میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف انفکیشس ڈیزیز کے ساتھ اشتراک عمل کے ذریعے پیتھوجنز پر تجربات کرنے جا رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اگرچہ اس طریقہ علاج کو عمدہ قرار دیا ہے لیکن اس کے باوجود یہ طریقہ علاج بہت ہی مہنگا ثابت ہو گا کیونکہ اس کے ذریعے بننے والی دوا کی قیمت دو ہزار ڈالر فی گرام تک متوقع ہے۔ دوسری جانب SAB کے مطابق ایک گائے سے ماہانہ 150 سے 600 گرام اینٹی باڈیز حاصل کئے جا سکتے ہیں جو بیماریوں سے متاثر ہونے والوں کی شرح کے مطابق بہت کم ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق اس طریقہ علاج کے انتہائی مہنگا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں بسنے والے اس طریقہ علاج سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہونگے اور نہ وہ خود اس طرح گائے میں انسانی اینٹی باڈیز کی نشوونما کرنے کے قابل ہیں۔

تحریر: ایملی ملن (Emily Mullin)

Read in English

Authors

*

Top