Global Editions

کرونا وائرس کو وبا قرار دیا جاچکا ہے

عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ تیزی سے پھیلنے والا کرونا وائرس اب وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ کرونا وائرس بیک وقت متعدد ممالک میں پھیل رہا ہے۔ اس اعلان کے ذریعے اس بات کا بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ اس وائرس کو کنٹرول کرنے کی کوششیں ناکام ثابت ہورہی ہيں۔

لڑائی جاری رکھیں: عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر کے تمام ممالک سے ہسپتالوں اور معاشروں کو حرکت میں لانے کی درخواست کی ہے او ڈٹ کر اس وائرس کا مقابلہ کرنے کی ہدایات جاری کی ہيں۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اڈھانوم غیبریسس (Tedros Adhanom Ghebreyesus) کہتے ہيں کہ یہ تاریخ کا پہلا کرونا وائرس ہے جس نے وبا کی شکل اختیار کی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ پہلا کرونا وائرس ہے جس کی روک تھام ممکن ہے۔ ان کے مطابق، ”ہمیں اس کے خلاف زیادہ جارحانہ کوششیں کرنی چاہیے۔“

عالمی پیمانے پر پھیلا ہوا مسئلہ: کرونا وائرس پچھلے سال چین میں شروع ہوا تھا اور وہاں 80،000 سے زائد افراد اس کا شکار ہوچکے ہيں۔ بیرون ملک سفر کرنے والوں کے باعث یہ وائرس جلد ہی دوسرے ممالک تک پہنچ گيا۔

کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے نمونیا کو Covid-19 کا نام دیا گیا ہے اور جان ہاپکنز یونیورسٹی (John Hopkins University) کے مطابق امریکہ سمیت آٹھ ممالک میں ایک ہزار سے زائد کیسز سامنے آچکے ہيں۔ اس کے علاوہ 10 ممالک ایسے ہیں جہاں سو سے زيادہ کیسز ہوچکے ہيں۔

فوری اقدام: عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہيں کہ ممالک خود اس وبا کو روکنے کی کوشش کریں۔ تاہم وہ اعتراف کرتے ہيں کہ کئی ممالک ہیلتھ کیئر کے سسٹمز پر بوجھ کم کرنے کے لیے وائرس کے اثرات اور اس کے پھیلاؤ کو کم کررہے ہيں۔

ٹیڈروس کہتے ہيں کہ ”اس صورتحال کو وبا کا نام دینے کا ہرگز یہ مطلب نہيں ہے کہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے بجائے اس کے اثرات پر توجہ دی جائے۔ ہم مشورہ دے رہے ہيں کہ دونوں کو ساتھ لے کر چلیں اور وبا کو روکنے کو بنیادی ہدف بنایا جائے۔“

عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 81 ممالک ایسے ہیں جہاں اب تک کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے اور ٹیڈروس کا کہنا ہے کہ انہیں وائرس کو ”موقع“ بھی نہيں دینا چاہیے۔ 57 ممالک میں دس یا دس سے کم کیسز سامنے آئے ہيں اور ممکن ہے کہ وہ اسے جلد روکنے میں کامیاب ہوجائيں۔

کئی ممالک اس وقت بہت پیچھے ہیں: عالمی ادارہ صحت نے کسی ملک کا نام تو نہيں لیا، لیکن کچھ افسران نے یہ ضرور کہا ہے کہ ایسے کئی ممالک ہیں جن میں صحیح طریقے سے ٹیسٹنگ نہیں کی جارہی اور وہ کرونا وائرس کا مقابلہ نہيں کرپارہے ہيں۔ ان ممالک میں امریکہ کا شمار بھی ہوتا ہے۔

کونسے ممالک کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے ہيں؟ چین اور جنوبی کوریا میں نئے کیسز کی تعداد کافی کم ہوگئی ہے۔ تاہم اگر وائرس پوری دنیا میں تیزی سے پھیلتا رہا تو ممکن ہے کہ ان ممالک میں کیسز کی تعداد دوبارہ بڑھنا شروع ہوجائے۔

تحریر: اینٹونیو ریگالیڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors

*

Top