Global Editions

پاکستان میں کرونا وائرس: تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد کیسز کی تعداد میں بتدریج اضافہ

کیسز کی تعداد میں آہستہ آہستہ اضافہ ہونے کے باوجود ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر اب تک شروع نہيں ہوئی۔

اعداد و شمار: جمعہ کی دوپہر تک، پاکستان میں covid-19 کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 309,015 تک جا پہنچی تھی۔ اب تک 6,444 افراد کی اموات واقع ہوچکی ہيں، جس میں سے پچھلے 24 گھنٹوں میں سات اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔ اب تک 294,740 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔ بظاہر تو ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس پر قابو پایا جاچکا ہے، لیکن پچھلے 24 گھنٹوں میں 798 کیسز کی رپورٹیں سامنے آئی ہیں۔ اب تک صوبہ سندھ سے 135,246، پنجاب سے 98,864، خیبر پختنونخواہ سے 37,525، بلوچستان سے 14,838، اسلام آباد سے 16,324، گلگت بلتستان سے 3,608، اور آزاد جموں و کشمیر سے 2,610 کیسز کی اطلاعات موصول ہوچکی ہيں۔

تعلیمی اداروں کی بحالی: پچھلے ہفتے سیکنڈری اور اعلیٰ تعلیم کے ادارے بحال کردیے گئے، اور اس کے بعد پنجاب، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں چھٹی سے آٹھوں جماعت کے طلباء کو بھی نیشنل کمانڈز اینڈ آپریشنز سینٹر (National Command and Operations Centre) کے رہنما اصولوں کے مطابق سکول واپس جانے کی اجازت دے دی گئی۔ صوبہ سندھ کی حکومت نے سکولز کی بحالی 28 ستمبر تک موخر کردی ہے۔ سندھ میں سکول کھلنے کے فیصلے کے بعد سرکاری اداروں سے 96 سے زائد جبکہ نجی اداروں سے 54 سے زائد کیسز کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تاہم اس وقت تمام ٹیسٹس کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں بھی کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ شروع ہوگیا ہے۔ اب تک 2،400 سے زائد ٹیسٹس کروائے جاچکے ہیں، جن میں سے مثبت ٹیسٹس کی شرح 11.85 فیصد ہے، جو کہ بہت زيادہ ہے۔

دوسری لہر کے متعلق خدشات؟ حال ہی میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس جرنل آف پبلک ہیلتھ (Oxford University Press Journal of Public Health) میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈزیزز (National Institute of Blood Diseases) کی ایک تحقیق شائع ہوئی، جس کے مطابق پاکستان میں covid-19 کی دوسری لہر کے سنگین ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اس سروے کے دوران جولائی میں مختلف افراد کے اجسام میں کرونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز کی موجودگی کا سروے کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا کہ پاکستانیوں میں covid-19 کے خلاف اجتماعی مدافعت پیدا ہونے کا امکان بہت زيادہ ہے۔

ویکسینز: پاکستان میں ویکسینز تیار کرنے کی صلاحیت، افرادی قوت، اور ٹیکنالوجی موجود ہونے کے باوجود دوا ساز صنعت مختلف وجوہات کی بنا پر پوری دنیا سے بہت پیچھے ہے۔ اب تک پاکستان میں بیشتر ویکسینز بھارت اور چین سے درآمد ہوتی ہیں۔ کرونا وائرس کے بعد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (National Institute of Health)، کین سائینو بائیو اور بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی چائنہ (CanSinoBio and Beijing Institute of Biotechnology China) کے درمیان پارٹنرشپ قائم ہوئی، جس کے نتیجے میں چین میں بنائی جانے والی ویکسینز کے ٹرائلز پاکستان میں شروع ہوچکے ہیں۔ ان ٹرائلز میں 40،000 افراد شرکت کریں گے، جس میں سے آٹھ سے دس ہزار افراد کا تعلق پاکستان سے ہوگا۔ ان کے ابتدائی نتائج اگلے چار سے چھ مہینوں میں دستیاب ہوں گے۔

تحریر: ٹی آر پاکستان

تصویر: اے اے

Read in English

Authors

*

Top