Global Editions

پاکستان میں کرونا وائرس کے انفیکشنز میں کمی کے باوجود عید کے دوران احتیاط جاری رکھنے کی ضرورت ہے

AP
ملک بھر میں کرونا وائرسز کے کیسز میں کمی جاری رکھنے کے لیے حکومت عوام کو سماجی دوری کے قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کی تلقین کررہی ہے۔

 اعداد و شمار: پانچ مہینوں سے کرونا وائرس کی وبا کا مقابلہ کرنے کے بعد، پاکستان میں ہفتہ کی صبح تک 271،490 کیسز اور 5،778 اموات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں سے سب سے زيادہ اموات صوبہ پنجاب میں واقع ہوئی ہیں۔ اس وقت سب سے زيادہ کیسز، یعنی 116,800، صوبہ سندھ میں سامنے آئے ہیں، جبکہ صوبہ پنجاب سے 91،423، خیبرپختونخواہ سے 33،071، بلوچستان سے 11،523، اسلام آباد سے 14،766، گلگت بلتستان سے 1،918، اور آزاد جموں و کشمیر سے 1،989 کیسز کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

کیسز کی اطلاعات میں کمی: پچھلے پانچ مہینوں کے دوران پاکستان میں covid-19 کے کیسز میں اونچ نیچ سامنے آرہی ہے۔ تاہم جون میں کیسز کی تعداد میں متواتر کمی ہونا شروع ہوئی، جس کی وجہ سمارٹ لاک ڈاؤنز بتائی جارہی ہے، اور یہ کمی جولائی میں بھی جاری رہی۔ اس ہفتے، پاکستان میں سامنے آنے والے انفیکشنز کی تعداد پچھلے تین مہینوں کی سب سے کم شرح ہے۔ اس کے علاوہ، دارالحکومت اسلام آباد میں کیسز کی تعداد میں 95 فیصد کمی ہوئی ہے۔ وزير برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدام اسد عمر کا کہنا ہے کہ covid-19 کے پھیلاؤ کے اعتبار سے اگلے دس دن بہت زیادہ اہم ہوں گے۔ انہوں نے عوام کو سماجی دوری کے قواعد پر عمل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ لوگوں کی کوتاہی کے باعث مثبت کیسز کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ممکن ہے۔

صوبہ پنجاب: پنجاب میں نئے کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں 85 فیصد کمی ہوئی ہے۔ وزير اعظم کے خصوصی معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کرونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے حکومت پنجاب کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں مثبت کیسز کی شرح کم ہو کر پانچ فیصد ہوچکی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کرونا وائرس کو مکمل طور پر مات نہيں دی گئی ہے، اور شہریوں کو عید کے دوران احتیاط جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

صوبہ سندھ: صوبہ سندھ میں کرونا وائرس کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہاں زيادہ تر کیسز کی اطلاعات صوبائی دارالحکومت کراچی سے موصول ہورہی ہیں۔ پچھلے چند ہفتوں کے دوران کراچی میں یومیہ انفیکشنز کی تعداد میں کمی ہورہی تھی، لیکن بدھ کو متاثرہ افراد کی تعداد میں دو گنا اضافہ سامنے آیا۔ اب تک پاکستان بھر کے ایک تہائی متاثرہ افراد کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔

صوبہ خیبرپختونخواہ: یہاں انفیکشنز کی تعداد میں کمی کے ساتھ شرح اموات میں بھی کمی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں اس کمی کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تفتیش شروع ہوچکی ہے۔ شرح اموات کی کمی ایک خوش آئين پیش رفت ہے، لیکن یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ covid-19 کے متعلق افواہوں میں اضافے کے باعث مریض ہسپتال یا ڈاکٹروں کے پاس جانے کے بجائے اپنے گھروں میں ہی علاج کرنے کی کوشش کررہے ہيں۔ مقامی حکومت اور یونین کونسلز کو ان اموات کے متعلق ڈیٹا کی جمع کاری اور تفتیش کی ذمہ داری سوپنی گئی ہے۔

صوبہ بلوچستان: حکومت بلوچستان کے نمائندے لیاقت شاہوانی کے مطابق یہاں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں 50 فیصد کمی ہوئی ہے اور 80 فیصد مریض صحتیاب ہوچکے ہيں۔ تاہم لیاقت شاہوانی نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی کوتاہی برتنے کا وقت نہيں ہے اور عوام کو سماجی دوری کے قواعد کی پیروی جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ کوئٹہ میں منعقد ہونے والی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (National Command and Operation Center) کی ایک میٹنگ میں بلوچستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں کمی کو بہت سراہا گیا۔

تصویر: اے پی

تحریر: ٹی آر پاکستان

Read in English

Authors

*

Top