Global Editions

پاکستان میں کرونا وائرس: کیسز کی تعداد میں کمی، حکومت اگلے ہفتے سے پابندیاں ختم کرنا شروع کرے گی

pakistantoday.com.pk
کروناوائرس کی دوسری لہر کی روک تھام کے لیے سماجی دوری کے قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کی تلقین کی جارہی ہے۔

 اعداد و شمار: ہفتہ کی صبح تک، پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 283،487 تک جا پہنچی تھی، جبکہ 6،068 افراد کی اموات واقع ہوچکی ہيں اور 259،604 افراد صحتیاب ہوچکے ہيں۔ صوبہ سندھ سے 123،246، پنجاب سے 94،223، خیبر پختونخواہ سے 34،539، بلوچستان سے 11،835، اسلام آباد سے 15،214، گلگت بلتستان سے 2،301، اور آزاد جموں و کشمیر سے 2،129 کیسز کی اطلاعات موصول ہوچکی ہیں۔

 لاک ڈاؤنز: کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے، نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی (National Coordination Committee) لاک ڈاؤنز اور دیگر احتیاطی تدابیر کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کرنے والی ہے۔ وفاقی وزير برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدام اسد عمر کے مطابق کاروباروں اور نقل و حمل پر عائد کردہ پابندیوں کو 10 اگست سے ختم کردیا جائے گا۔ تاہم اس کے لیے حکومت کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔ پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کی روک تھام کے لیے ٹریسنگ، ٹیسٹنگ، اور قرنطینہ کی پالیسی جاری رہے گی۔

 صوبہ خیبرپختونخواہ: خیبرپختونخواہ میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں قابل قدر کمی آئی ہے، جس کے باعث ہسپتالوں میں زیراستعمال بستروں کی شرح بھی کافی کم ہوچکی ہے۔ صوبے بھر کے سکولز اساتذہ اور انتظامی کارروائیوں کے لیے کھول دیے گئے ہيں۔ نجی اور سرکاری سکولوں کی انتظامیہ کو حکومت کی ہدایات کے مطابق اگلے مہینے کھلنے کے لیے تیاری کرنے کا مشورہ دیا گيا ہے تاکہ وہ اس دوران طلباء اور اساتذہ کے لیے احتیاطی تدابیر متعارف کرسکیں۔ طلباء ستمبر 15 سے واپس سکول جانا شروع کریں گے، لیکن ایک وقت میں سکول کی عمارت میں صرف مخصوص تعداد میں طلباء اور اساتذہ کو داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ ان ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں حکام سکولوں کو فوری طور پر بند کردیں گے۔

 صوبہ پنجاب: پنجاب میں تعمیرات سمیت متعدد صنعتوں کو دن میں 24 گھنٹے، ہفتے میں سات روز، حسب معمول کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ برآمدات میں اضافہ کرنے والی بڑی صنعتیں پچھلے چند مہینوں سے بغیر کسی پابندی کے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف صوبے بھر میں ریٹیل دکانوں اور مارکیٹوں کو پہلے سے بتائے گئے شیڈول کی پابندی کرنی ہوگی۔ تمام کاروباروں کے لیے حکومت کی طرف سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے۔ پنجاب کے وزیر برائے تعلیم مراد راس کے مطابق صوبے میں کرونا وائرس کی صورتحال مستحکم ہونے کی صورت میں سکولوں کو 15 ستمبر سے کھول دیا جائے گا۔

 صوبہ سندھ: صوبہ سندھ پاکستان کا سب سے زيادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 14 اموات کی رپورٹیں موصول ہوچکی ہیں، جس کے باعث صوبے میں اموات کی مجموعی تعداد 2،245 تک پہنچ گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آنے 357 میں سے 213 مریضوں (یعنی 59.7 فیصد مریضوں) کا تعلق صوبائی دارلحکومت کراچی سے ہے۔ حکومت کے افسران نے اعتراف کیا ہے کہ سندھ میں کیسز کی یومیہ تعداد میں کمی آئی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ شہری احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چھوڑ دیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے بھر کے سکولوں کو 15 اگست سے کھولنے کی اجازت نہيں دی گئی ہے۔

 صوبہ بلوچستان: بلوچستان کی صوبائی حکومت نے مزید 15 دنوں کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن میں توسیع کردی ہے۔ مارکیٹوں، کاروباروں اور شاپنگ مالز صبح 7 بجے سے رات 9 بجے تک جبکہ دوا کی دکانیں، بیکریاں اور تندور 24 گھنٹوں تک کھلے رہ سکتے ہيں۔ دوسری طرف، ماہرین صوبہ بھر میں کرونا وائرس کے ڈیٹا کے متعلق خدشات کا اظہار کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار میں کیسز اور اموات کی تعداد کم کرکے بتائی جارہی ہے۔

تحریر: ٹی آر پاکستان

تصویر: پاکستان ٹوڈے (Pakistan Today)

Read in English

Authors

*

Top