Global Editions

پاکستان میں کرونا وائرس: حکومت دوسری لہر کے متعلق خدشات کا اظہار دہرا رہی ہے

ملک پھر میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ جاری ہے۔ دوسری طرف حکومت احتیاط برتنے پر زور دینے کے علاوہ مزید پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں بات کررہی ہے۔

اعداد و شمار: جمعہ کی دوپہر تک، پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی کل تعداد 321,877 تک پہنچ چکی تھی۔ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 659 کیسز سامنے آئے ہيں۔ اب تک 6,621 افراد کی اموات واقع ہوچکی ہيں جبکہ 305,835 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔ صوبہ سندھ سے 141,249، پنجاب سے 101,367، بلوچستان سے 15,621، خیبر پختنونخواہ سے 38,521، اسلام آباد سے 17,781، گلگت بلتستان سے 4,016، اور آزاد جموں و کشمیر سے 3,322 کیسز کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اعداد و شمار میں اضافے کو دیکھتے ہوئے حکومت کرونا وائرس کی دوسری لہر کے متعلق انتباہ دے رہی ہے۔

 دوسری لہر کے متعلق خدشات: پچھلے چھ ہفتوں کے دوران حاصل کردہ ڈیٹا سے یہ بات واضح ہے کہ پاکستان میں covid-19 کے کیسز میں قابل قدر اضافہ ہورہا ہے۔ نیشل کوآرڈینیشن کمیٹی (National Coordination Committee) نے ملک بھر کے 103 اضلاع میں 3،497 سمارٹ لاک ڈاؤنز کی بات کی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ بھی طے کیا گيا ہے کہ جن غیرضروری سرگرمیوں سے معیشت اور تعلیمی شعبہ جات متاثر نہيں ہوتے، انہيں وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے بند کردیا جائے گا۔ اجتماعی سرگرمیوں پر پابندی کا مشورہ دیا گيا، لیکن ساتھ ہی وزیر اعظم عمران خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سردی کے مہینوں میں وائرس کی دوسری لہر سامنے آسکتی ہے، جس کے باعث ماسکس پہننا اور حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا اور بھی ضروری ہے۔ وزیر برائے مصنوبہ بندی اور ترقی اسد عمر نے بھی کرونا وائرس کی دوسری لہر سے بچنے کے لیے خطرات میں کمی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں حفاظتی تدابیر پر عمل کرنے کے باعث ہی پچھلے چند مہینوں کے دوران وائرس پر قابو پانا ممکن ہوا ہے۔

 تعلیمی ادارے: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (Pakistan Medical Association) کے مطابق کرونا وائرس کی دوسری لہر سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے باعث پھیلے گی۔ انہوں نے مزيد بتایا کہ بھارت، ایران، اور امریکہ جیسے ممالک میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ پاکستان میڈيکل ایسوسی ایشن نے یہ بھی کہا کہ تعلیمی اداروں میں حفاظتی تدابیر کی تعمیل نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت کا تعلیمی اداروں کو دوبارہ بند کرنے کا کوئی ارادہ نہيں ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی سکولوں سے وابستہ اعداد و شمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں وائرس کی موجودگی کی پیمائش کرنے کے لیے طلباء کی ٹیسٹنگ میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ، عالمی ادارہ صحت نے وائرس کی دوسری لہر کی روک تھام کے لیے اقدام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

تحریر: ٹی آر پاکستان

تصویر: اے اے

Read in English

Authors

*

Top