Global Editions

کرونا وائرس:متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ، پاکستانی حکومت کے مطابق صورتحال قابو میں ہے

عوام احتیاطی تدابیر کو مستقل نظر انداز کررہی ہے۔ تاہم وزیر اعظم کے خصوصی اسسٹنٹ برائے صحت کا کہنا ہے کہ ‏لاک ڈاؤن دوبارہ نافذ کرنے کا امکان بہت کم ہے۔

 اعدادوشمار: پاکستان میں کرونا وائرس شروع ہوئے تین ماہ ہو چکے ہیں اور ہفتے کی صبح تک 66,457 کیسز سامنے آچکے ہیں، جبکہ 1,395 افراد کی موت واقع ہو چکی ہے اور 24,131 افراد کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحتیاب ہوچکے ہیں۔ اس وقت صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ یعنی 26,113 کیسز ہیں، جبکہ صوبہ پنجاب سے 24,104، خیبر پختونخواہ سے 9,067، بلوچستان سے 4,087، اسلام آباد سے 2,192، گلگت بلتستان سے 660 اور آزاد جموں و کشمیر سے 234 کیسز کی اطلاعات موصول ہوئیں ہیں۔

 سماجی دوری: عید کے دوران، عوام حکومت کی تجویز کردہ احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرتی رہی اور ہمیشہ کی طرح مسجد میں باجماعت عید کی نماز کی ادائیگی اور ایک دوسرے سے ملنے جلنے کا سلسلہ جاری رہا۔ وزیراعظم کےخصوصی اسسٹنٹ برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کہتے رہ گئے کہ کرونا وائرس کے باعث اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ آخرکار پیر کے روز ڈاکٹر مرزا نے عوام کو انتباہ کیا کہ سماجی دوری کے متعلق ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں لاک ڈاؤن دوبارہ نافذ کردیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس وائرس کو روکنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ گھروں سے باہر نہ نکلا جائے۔ تاہم کچھ روز بعد ڈاکٹر مرزا بھی اپنی بات سے پھر گئے اور  انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی صورتحال  اطمینان بخش ہے اور حکومت کا دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔  ان کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ سامنے آیا تھا۔

علاج کی تلاش: صوبہ سندھ نے ماضی کے دوسرے امراض کی طرح کرونا وائرس کے علاج کے لئے بھی ایک مہم شروع کی ہے۔ اس مہم میں اینٹی باڈیز پر مشتمل ویکسینز پر بھی کام کیا جائے گا جو اب تک پاکستان میں بہت کامیاب ثابت ہو چکی ہیں۔ ماضی میں ملیریا کے علاج کے لیے استعمال کیے جانے والے ہائیڈروکسی کلوروکوئین (hydroxychloroquine) پر بھی تجربات کیے جارہے تھے۔ تاہم ان ٹرائلز میں حصہ لینے والے مریضوں کی اموات میں تیزی سے اضافہ ہونے کی وجہ سے انہیں معطل کر دیا گیا ہے۔

عالمی صورتحال: عالمی ادارہ صحت کے مطابق کرونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں 6,035,792 افراد متاثر ہوئے ہیں اور 366,928 اموات واقع ہو چکی ہیں۔ جرمنی اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد کیسز کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہونے کے باوجود کاروباروں کو کھلے رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ برازیل جیسے ممالک میں بھی کرونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے، لیکن لاک ڈاؤن کا نفاذ نہیں ہوا ہے۔ امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہونے کے باوجود کاروباروں پر عائد پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اٹلی، سپین اور ایران میں بھی آہستہ آہستہ پابندیاں ختم ہو رہی ہیں۔ اس کے برعکس، برطانیہ میں جون تک لاک ڈاون جاری رکھنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔

تحریر: ٹی آر  پاکستان

تصویر: اے ایف پی

Read in English

Authors

*

Top