Global Editions

پاکستان میں کرونا وائرس: کیسز کی تعداد 52,000 سے تجاوز

ملک بھر میں کیسز کی تعداد تیزی سے بڑھنے کے باوجود حکومت نے مارکیٹس اور دیگر کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی۔

اعدادوشمار: پاکستان میں کرونا وائرس کی تعداد 52,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہفتے کی صبح تک پاکستان میں1،101 افراد کی موت واقع ہو چکی تھی، جبکہ 16،653 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔ اس وقت سب سے زیادہ یعنی 20،883 کیسز صوبہ سندھ میں سامنے آئے ہیں، جبکہ صوبہ پنجاب سے 18،730، خیبر پختونخواہ سے 7،391، بلوچستان سے 3،198، اسلام آباد سے 1،457، گلگت بلتستان سے 607 اور آزاد کشمیر سے 171 کیسز کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

پلازما تھراپی: اپریل کی ابتدا میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (Drug Regulatory Authority of Pakistan) نے پلازما تھراپی کی اجازت دے دی جس کے بعد آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں ٹرائلز شروع ہوگئے ہیں، جن کا مقصد یہ جاننا ہے کہ کیا پلازما تھراپی سے کرونا وائرس کے شکار افراد صحتیاب ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ ان ٹرائلز کے دوران صحتیاب ہونے والے افراد کے خون سے اینٹی باڈیز حاصل کرکے کرونا وائرس کے مریضوں کے جسم میں متعارف کرنے کے بعد ان کی نگرانی کی جائے گی۔

سماجی دوری: عید سے ایک ہفتہ پہلے سپریم کورٹ نے قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کی شرط پر شاپنگ مالز اور مارکیٹس کھولنے کے احکامات جاری کر دیے۔ اس سے پہلے، صرف صوبہ پنجاب میں دکانیں کھولنے کی اجازت تھی۔

صبح پنجاب میں عید سے پہلے صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک شاپنگ مالز، کاروبار اور مارکیٹس کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک پہننا ضروری قرار دے دیا گیا ہے اور ریستورانوں کو عید کے بعد کھول دیا جائے گا۔

دوسری طرف صوبہ سندھ میں عید کی نماز اور دیگر عبادات کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن میں عارضی کمی کی گئی ہے۔ صوبہ سندھ میں عید سے پہلے پبلک ٹرانسپورٹ بحال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور صوبائی حکومت نے پاکستان میں ریلوے کی سہولت کی بحالی کی بھی سخت مذمت کی ہے۔ بلوچستان میں عید کے بعد دکانوں اور شاپنگ مالز کو صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک کھولنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کی گئی ہے اور شہریوں کو کوئٹہ میں کیسز کی بہت بڑی تعداد کی وجہ سے شہر میں آنے اور جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ دوسری طرف صوبہ خیبر پختونخواہ میں 22 سے 24 مئی تک شام پانچ بجے تک دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم یہاں طبی عملے کے لیے حفاظتی سامان کا بحران ابھی تک جاری ہے۔

ٹیلی سکول: وزارت وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت  نے طلبا اور ان کے والدین کے لیے ایک موبائل ایپلیکیشن متعارف کی ہے، جس کے ذریعے کرونا وائرس کی وجہ سے اسکولز نہ جانے والے بچوں کے لیے لانچ کردہ ٹی وی چینل کے متعلق فیڈبیک حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ والدین 8228 پر بذریعہ ایس ایم ایس بھی اپنی رائے دے سکتے ہیں۔

تحریر: ٹی آر پاکستان

Read in English

Authors

*

Top