Global Editions

پاکستانی حکومت کے مطابق انفیکشنز کی تعداد میں کمی میں انتظامی اقدام کا بہت بڑا ہاتھ ہے

ایکسپریس
جیسے حیسے عید قرباں قریب آرہی ہے، حکومت سمارٹ لاک ڈاؤنز کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

اعداد و شمار: پاکستان میں کرونا وائرس کو شروع ہوئے پانچ مہینے ہوچکے ہيں۔ جمعہ کی دوپہرتک ملک پھر میں کیسز کی تعداد 221,896 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 4،551 اموات واقع ہوچکی ہیں۔ اس وقت سب سے زيادہ، یعنی 89,225 کیسز صوبہ سندھ میں سامنے آئے ہيں، جبکہ صوبہ پنجاب میں 78,956، بلوچستان سے 10,666، خیبر پختوانخواہ سے 27,170، اسلام آباد سے 13,195، گلگت بلتتستان سے 1,524، اور آزاد جموں و کشمیر سے 1،160 کیسز کی اطلاعات موصول ہوئی ہيں۔

سماجی دوری: ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤنز کا سلسلہ جاری ہے، اور کیسز کی تعداد میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے۔ تاہم صوبہ سندھ کے محکمہ صحت نے کراچی میں نافذ کردہ سمارٹ لاک ڈاؤنز کے حوالے سے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور حکومت کو کرفیو نافذ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ شہر میں covid-19 کے کیسز میں اضافے کو دیکھتے ہوئے، حکومت نے انفیکشز کی زیادہ تعداد رکھنے والے 180 یونین کونسلز میں ناکہ بندی کی بھی تجویز پیش کی۔ اسلام آباد میں حکام نے وائرس کے پھیلاؤ کا زیادہ خطرہ رکھنے والے 10 کچی آبادیوں اور غیررسمی آبادیوں میں کرونا کے ٹیسٹنگ کی مہم شروع کی ہے۔

کیسز کی تعداد میں کمی: حکومت نے جون کے اختتام تک 300،000 کیسز تک پہنچنے کے متعلق پیشگوئی پر نظرثانی کی ہے۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوامی کے احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے، گھروں میں رہنے اور سماجی دوری کے اصولوں پر پابندی کرنے کے باعث اب تین لاکھ کے بجائے 250،000 کیسز متوقع ہیں۔ انہوں نے مزيد بتایا کہ حکومت کو انتظامی تدابیر کرنے کی ضرورت ہے اور شہری یہ بات اچھے سے سمجھتے ہيں کہ حفاظتی اقدام کرنے کے باعث covid-19 کے کیسز میں کمی ممکن ہوئی ہے۔

بجلی کی لوڈ شیڈنگ: حکومت کے محکمہ توانائی نے ان علاقہ جات میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں سمارٹ لاک ڈاؤنز نافذ کیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے گھر میں بیٹھے افراد کی سہولت کے لیے لیا گیا ہے۔

بکرا منڈیوں سے وابستہ اقدام: حفاظتی اقدام نہ کرنے کی صورت میں عید الاضحٰی سے پہلے جانوروں کی خرید و فروخت کے لیے قائم کردہ منڈیاں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں بہت بڑی وجہ بنیں گی۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت نے ان منڈیوں کے لیے جگہ مختص کی ہے اور ان کے حوالے سے سماجی دوری کے اصولوں کا بھی اعلان کیا ہے۔ تاہم، کئی علاقہ جات میں غیرقانونی منڈیاں قائم ہونا شروع ہوگئی ہیں، جہاں ان قواعد کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ بعض ضلعی حکام نے مویشیوں کی خرید و فروخت پر ٹیکسز کے خاتمے کا اعلان کیا ہے اور مختص کردہ مقامات کے علاوہ کسی اور جگہ پر منڈی قائم کرنے پر سخت پابندی عائد کی ہے۔

اب تک ویکیسن تیار نہیں ہوا ہے: یہ وائرس 2019ء کے آخری حصے میں چین میں سامنا آیا، اور اس وقت سے اب تک SARS-CoV-2 وائرس کے لیے ویکسین کی تلاش جاری ہے۔ اس وقت covid-19 کے علاج کے لیے اینٹی وائرل ادویات اور تھراپیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ مثال کے طور پر، متحدہ عرب امارات میں سٹیم سیل تھراپی covid-19 کے شکار افراد کے علاج میں بہت مفید ثابت ہورہی ہے۔ پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں کرونا وائرس کے لیے پہلے سے دستیاب اینٹی وائرل ادویات کا استعمال جاری ہے۔ تاہم ابھی بھی covid-19 کے لیے کوئی ویکسین دستیاب نہيں ہے۔

تحریر: ٹی آر پاکستان

Read in English

Authors

*

Top