Global Editions

پاکستان میں کرونا وائرس: عید قرباں کے بعد کیسز میں اضافے کے باوجود ملک کی مجموعی صورتحال مثبت روس میں کرونا وائرس کے ویکسین کا اعلان

پاکستانی حکومت احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی تلقین کررہی ہے۔

اعداد و شمار: جمعہ کی صبح تک پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 286,673 تک پہنچ چکی تھی، جس میں سے 264،060 مریض صحتیات ہوچکے ہیں۔ اس وقت صوبہ سندھ میں سب سے زيادہ یعنی 124،929 کیسز ہیں، جبکہ صوبہ پنجاب سے 94،865، خیبرپختونخواہ سے 34،947، صوبہ بلوچستان سے 12،044، اسلام آباد سے 15،323، گلگت بلتستان سے 2،402، اور آزاد جموں و کشمیر سے 2،164 کیسز کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

صحتیابی کا سفر: صوبہ پنجاب میں عیدالاضحیٰ کے بعد کرونا وائرس کے کیسز میں عارضی طور پر اضافہ سامنے آیا۔ تاہم پاکستان میں صحتیابی کی شرح اضافے کے بعد 91 فیصد ہوگئی۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدام اسد عمر کے مطابق پاکستان کی صحتیابی کی شرح اور شرح اموات، دونوں ہی دوسرے ممالک سے کہیں بہتر ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو خوش آئين قرار دیا، لیکن ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام کی بے احتیاطی کی صورت میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا جاسکتا ہے۔ انہیں نے مزيد کہا کہ احتیاطی تدابیر کی عدم تعمیل صحت کے شعبے کو ہی نہيں بلکہ دیگر کاروباروں اور لوگوں کے ذرائع معاش کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ عمر نے حکومت کے “عالمی معیار” کے ٹریس ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کے سسٹم کو بھی سراہا۔

لاک ڈاؤن کا خاتمہ: پاکستان میں کرونا وائرس کے پہلے کیس کی اطلاع کے چھ ماہ بعد وفاقی حکومت نے اب ملک کی سابقہ صورتحال بحال کرنے کی کوششیں شروع کردی ہيں۔ مارکیٹس، ریستوران، سیاحت اور بیوٹی پارلرز سمیت تمام کاروباری سرگرمیوں کو بغیر کسی پابندی کے دوبارہ کھلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ تاہم وائرس کی دوسری لہر کی روک تھام کے لیے عوام اور کاروبار کے مالکان کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ملک پھر میں سکولز اور شادی ہال 15 ستمبر تک بند رہيں گے۔

 عالمی صورتحال: دنیا بھر میں کرونا وائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد دو کروڑ تک پہنچ چکی ہے، اور توقع کی جارہی کہ جانبحق ہونے والوں کی تعداد جلد ہی 750،000 سے تجاوز کرجائے گی۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈھانوم غیبریئسس (Tedros Adhanom Ghebreyesus) کا خیال ہے کہ کیسز کی تعداد میں اضافے کے باوجود بھی اس وبا پر قابو پانا ممکن ہے۔ انہيں نے ایک ورچول پریس کانفرنس میں کرونا وائرس کا کامیابی سے مقابلہ کرنے والے ممالک کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ covid-19 پر قابو پانے کی صورت میں معیشت اور روزمرہ زندگیاں دوبارہ بحال ہوسکتی ہيں۔ دوسری طرف، روس نے کرونا وائرس کے ایک ویکسین کا اعلان کیا ہے جو چند ہفتوں میں طبی شعبے میں کام کرنے والے افراد کے لیے دستیاب ہوجائے گا۔ اس وقت اس ویکسین کے صرف 10 فیصد کلینیکل ٹرائلز کامیاب ثابت ہوئے ہیں، لیکن اسے ضابطہ کار حکام کی طرف سے منظوری مل چکی ہے اور دسمبر یا جنوری تک ماہانہ 50 لاکھ خوراکیں تیار کرنے کے منصوبہ جات تیار کیے جاچکے ہيں۔

تحریر: ٹی آر پاکستان

تصویر: اے نیوز (A News)

Read in English

Authors

*

Top