Global Editions

کرونا وائرس: عالمی ادارہ صحت کی تنقید، حکومت کا سمارٹ لاک ڈاؤن اور کیسز کی تعداد میں اضافہ

مخصوص علاقہ جات کو بند کیا گيا ہے اور نئے قواعد و ضوابط کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن دوسری طرف طبی سامان کی چوری جاری ہے۔

اعداد و شمار: جمعہ کی رات تک پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 167،956 تک پہنچ چکی تھی، جبکہ 3،378 افراد کی موت واقع ہوچکی تھی۔ اس وقت، سب سے زيادہ یعنی 65،163 کیسز صوبہ سندھ میں جبکہ پنجاب میں 61،678، بلوچستان میں 8،998، اور خیبر پختونخواہ میں 20،182 کیسز سامنے آئے ہيں۔ دوسری طرف، اسلام آباد میں 9،941، گلگت بلتستان میں 1،225 اور آزاد جموں و کشمیر میں 769 کیسز کی اطلاعات موصول ہوئی ہيں۔

عالمی ادارہ صحت کی تنقید: پچھلے مہینے ملک بھر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی، جس کے بعد کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ شروع ہوگیا۔ اس کے بعد، عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ سامنے آئی جس کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کی دس سب سے زيادہ متاثرہ ممالک میں ہوتا ہے۔ صوبائی حکومتوں کو لکھے گئے ایک خط میں عالمی ادارہ صحت نے مثبت کیسز کی 24 فیصد شرح کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستانی حکومت کی اس وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو پرزور تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ ان خطوط کے مطابق، پاکستان کی صورتحال ایسی تھی ہی نہيں کہ لاک ڈاؤن میں کسی بھی قسم کی نرمی لائی جاسکے۔ پاکستانی حکومت کو دو ہفتے تک لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے علاوہ، عوامی ہیلتھ کیئر کی سہولیات کی گنجائش میں اضافہ کرنے اور روزانہ 50،000 ٹیسٹس کروانے کی تلقین کی گئی۔

سمارٹ لاک ڈاؤن: نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (National Command Operation Centre) نے کرونا وائرس کے سب سے زيادہ کیسز رکھنے والے 20 شہروں کی نشاندہی کی ہے۔ دوسری طرف، صوبائی حکومتوں نے بھی کراچی، لاہور، اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کے متعدد اضلاع اور سب سے زيادہ متاثر ہونے والے علاقہ جات میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے۔ پنجاب کے چیف سیکریٹری نے ڈپٹی کمیشنرز کو ملتان، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، راول پنڈی، سیالکوٹ اور گجرات جیسے شہروں میں، جہاں کرونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، دو ہفتے لمبا لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اختیار دیا ہے۔ پلوچستان میں صوبائی لاک ڈاؤن میں مزید 15 روز کی توسیع کی گئی ہے۔

مارکیٹس کے حوالے سے نئے قواعد و ضوابط: بازار، شاپنگ مالز اور دیگر کاروباروں کو ہفتے سے جمعرات تک صبح 9 بجے سے شام 7 بجے تک، جبکہ دوا کی دکانوں، تندوروں، دودھ کی مصنوعات کی دکانوں، اور درزیوں کو 24 گھنٹے تک قواعد و ضوابط کی سخت تعمیل کی شرط پر کاروبار کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تعلیمی ادارے، شادی ہال، اور سیر و تفریح کے مقامات بند رہيں گے۔

یونین کونسلز کو سیل کردیا گيا ہے: سندھ اور خیبرپختونخواہ کی ضلعی انتظامیہ نے وائرس کے پھیلاؤ کے مطابق پورے کے پورے یونین کونسلز اور چھوٹے علاقوں کو سیل کردیا ہے۔ صوبہ سندھ میں، حیدرآباد، کراچی، اور لاڑکانہ کو، جبکہ خیبرپختونخواہ میں سوات، لوئیر دیر، ایبٹ آباد، اور مانسہرہ کے علاوہ، چار دیگر اضلاع کو بھی سیل کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں سیکٹرز I-8 اور  I-10 کو مارکیٹس سمیت مکمل طور پر بند کروادیا گیا ہے۔ صرف دوا کی دکانوں، کریانے کی دکانوں، اور بیکریوں جیسی ضروری سہولیات کو کھلا رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسلام آباد کے دیگر علاقہ جات، بشمول سیکٹز G، E، اور F، چک شہزاد، بھارا کہو، تارلئی، سوہن، اور کھنا کو اس وقت بند نہيں کیا گیا ہے، لیکن ان پر سخت نظر رکھی جارہی ہے۔

ادویات کے لیے بھگدڑ: پچھلے چند ہفتوں سے covid-19 کا کامیابی سے مقابلہ کرنے والوں نے غیرقانونی طور پر اپنا پلازما انتہائی مہنگے داموں فروخت کرنا شروع کردیا ہے۔ تاہم صحت کی گائيڈلائنز کے مطابق، پلازما تھراپی ابھی بھی صرف تجرباتی مراحل ہی میں ہے، اور اسے کنٹرول شدہ ماحول کے باہر استعمال کرنے کا مشورہ نہيں دیا جاتا۔ منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز (Ministry of National Health Services) نے بھی انتباہ دیا ہے کہ پلازما کرونا وائرس کے لئے آزمودہ علاج نہيں ہے۔ وزير اعظم کے خصوصی معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ پاکستان میں جن covid-19 کے مریضوں کی حالت تشویشناک ہوگی، ان کا ڈیکسامیتھازون (dexamethasone) سے علاج کیا جائے گا۔ انہوں نے مزيد بتایا کہ عالمی ادارہ صحت پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا تعین کرنے کے لئے پاکستان کو ایک مطالعے میں معاونت فراہم کرے گا اور حکومت پاکستان اس مطالعے کے نتائج کی بنیاد پر اپنا اگلا لائحہ عمل تیار کرے گی۔

تحریر: ٹی آر پاکستان

Read in English

Authors

*

Top