Global Editions

انسانوں کے کام، روبوٹس کے نام

کیا کرونا وائرس کے باعث انسانی ملازمتيں زيادہ تیزی سے روبوٹس کے حصے میں جانا شروع ہوجائيں گی؟

امریکی ریاست مسوری کے شہر سینٹ لوئینس کی ایک سپرمارکیٹ کا ایک منظر بیان کرتے ہيں۔ ایک حصے میں کچھ خالی شیلف نظر آرہے ہیں، اور ان کے درمیان ایک روبوٹ لڑھکتا ہوا گزر رہا ہے۔ آگے سے ایک انسان ماسک پہنے ڈبل روٹی خریدتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

یہ روبوٹ ایک ویکوم کلینر پر لگے بڑے سے سپیکر کی طرح دکھتا ہے۔ اس کی بڑی گول مٹول آنکھیں ادھر سے ادھر گھومتی نظر آتی ہیں اور اس کے سر پر ظاہر ہونے والے سرخ رنگ کے الفاظ اس کا تعارف بیان کرتے ہيں: ”میرا نام ٹیلی (Tally) ہے اور میرا کام سامان کا حساب کتاب رکھنا ہے۔ “ ٹیلی خریدار کو دیکھ کر کچھ دیر کے لیے رک جاتا ہے اور وہ بھی تھوڑی دیر کے لیے ہکا بکا رہ جاتا ہے۔ انسانی خریدار کی شکل سے صاف ظاہر ہے کہ اسے سمجھ نہیں آرہا کہ وہ کیا کرے۔ کیا وہ گھوم کر آگے بڑھ جائے؟ یا روبوٹ کے راستے سے ہٹ جانے کا انتظار کرے؟ آخر میں یہ انسان آگے بڑھ جاتا ہے اور اپنی شاپنگ جاری رکھتا ہے۔

ٹیلی بھی اپنا کام جاری رکھتا ہے۔ سپرمارکیٹ میں شاپنگ کرنے والے باقی افراد (جن میں سے کچھ نے ماسک پہنا ہے اور کچھ نے نہيں) اسے عمومی طور پر نظرانداز کررہے ہيں۔

ٹیلی کو اس سپرمارکیٹ میں ایک سال پہلے متعارف کیا گيا تھا، اور اب یہاں آنے والے اس کے عادی ہوچکے ہیں۔ کرونا وائرس کے بعد، لوگوں کو ٹیلی سے زيادہ دکان میں چلنے پھرنے والے انسانوں کے باعث درپیش خطرات کی زيادہ پڑی ہے، اور ان کی توجہ کا مرکز اس روبوٹ کے بجائے ان کا اپنا ذاتی تحفظ اور سپرمارکیٹ میں سامان کی کمی ہے۔

ٹیلی جیسے روبوٹس اب صرف سپرمارکیٹس میں ہی نہيں بلکہ ہر جگہ نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ٹیکسس اے اینڈ ایم یونیورسٹی اور سینٹر فار روبوٹ ایسسٹڈ سرچ اینڈ ریسکیو (Robot-Assisted Search and Rescue) میں روبوٹ کے ماہرین نے حال ہی میں ایک سروے کے ذریعے کرونا وائرس کی وبا کے دوران روبوٹس کے استعمال کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ دنیا بھر سے ایک سو بیس اطلاعات حاصل کرنے کے بعد، انہيں یہ معلوم ہوا کہ روبوٹس کو ڈس انفیکٹینٹ سپرے کرنے کے لیے، پالتو جانوروں کو چہل قدمی کروانے کے لیے، اور ریئل ایسٹیٹ ایجنٹس کو زمینیں دکھانے کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔ تاہم ان روبوٹس سے سب سے زیادہ فائدہ طبی شعبے کو پہنچے گا، جہاں انہیں ہسپتالوں میں ڈس انفیکشن، مریضوں کی رجسٹریشن، اور سازوسامان کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کسی بھی ہسپتال کے covid-19 کے وارڈ کا منظر کسی سائنس فکشن کی ڈسٹوپیائی دنیا سے کم نہيں ہے۔ کھڑکیوں میں نصب نالیوں کے ذریعے گندی ہوا کو کمرے سے باہر نکالا جاتا ہے۔ انفیکشن کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے کرونا وائرس کے شکار افراد کے بستروں کے چاروں طرف پلیکسی گلاس سے بنی دیواریں کھڑی کی جاتی ہيں، اور گاگلز، ٹوپیاں، دستانے، ماسکس اور ڈزپوز ایبل گاؤن پہنی نرسیں انہیں دوائيں دیتی اور دیگر نگہداست فراہم کرتی نظر آتی ہیں۔ مریض کے گھر والوں کو اندر آنے کی اجازت قطعی نہيں دی جاتی، اور بعض دفعہ نرسیں آئی پیڈز اٹھا اٹھا کر مریضوں کی اپنے عزیز و اقارب سے بات کرواتی بھی نظر آئيں گی۔

موکسی (Moxy) کا کام یہاں شروع ہوتا ہے۔ صحت کے شعبے کو معاونت فراہم کرنے والے اس روبوٹ کو کرونا وائرس سے پہلے ٹیکسس کے دو ہسپتالوں میں استعمال کیا جارہا تھا اور وبا شروع ہونے کے بعد اس کا لیب کے نمونے، پمپس، ادویات اور حفاظتی سامان پہنچانے کے لیے فائدہ اٹھایا جانے لگا۔ لیکن موکسی کو اب تک انتہائی نگہداشت کے وارڈز یا covid-19 کے یونٹس میں بروئے کار نہيں لایا گیا ہے اور اسے بنانے والی کمپنی، ٹیکسس کے شہر آسٹن میں واقع ڈیلیجنٹ روبوٹس (Diligent Robots)، اب اسے ان حالات میں بھی استعمال کرنے پر غور کررہی ہے۔

مئی میں ڈيلیجنٹ روبوٹس کی شریک بانی ویوین چو (Vivian Chu) نے مجھے ایک ویڈیو کال پر موکسی سے ملوایا۔ سفید رنگ کے گول مٹول اور پیارے سے اس روبوٹ کے سر پر ایک کیمرہ نصب ہے، جو دیکھنے والوں کو پریشانی سے بچانے کے لیے پوری طرح نہيں مڑ سکتا۔ اس کی چمکتی ہوئی نیلی آنکھیں عین وقت پر گلابی رنگ کے دل کی شکل اختیار کرسکتی ہیں۔ موکسی ہسپتالوں کی راہداریوں میں پہیوں پر لڑھکتا ہوا اپنے کام کرتا رہتا ہے اور ہر کسی کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتا جاتا ہے۔ موکسی کو جان بوجھ کر زیادہ بڑا نہيں بنایا گیا ہے۔ چو کا قد صرف پانچ فٹ چار انچ (یعنی 163 سینٹی میٹر) ہے اور موکسی کا قد ان سے بھی چند انچ کم ہے۔ تاہم چو بتاتی ہیں کہ ضرورت پڑنے پر موکسی کا قد بڑھایا جاسکتا ہے۔

موکسی کسی ریستوران کے میکانیکی ویٹر کی طرح کام کرتا ہے۔ اس میں ”لاک ٹیوبز “ کی ٹرے اٹھانے کی صلاحیت موجود ہے، جس میں ادویات یا دیگر سامان رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے سر پر لگی پٹی لاک ہونے پر لال اور ان لاک ہونے پر ہرے رنگ کی ہوجاتی ہے۔

چو بتاتی ہيں کہ موکسی بات نہیں کرسکتا، لیکن کام کرنے کے دوران پیاری سی آوازیں نکالتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”یہ بالکل سٹار وارز کے R2D2 کی طرح ہے۔ جب وہ کوئی چیز صحیح جگہ پہنچانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے اور جب وہ غلطی کرتا ہے تو وہ ناخوش ہوتا ہے، اور دونوں صورتوں میں مختلف قسم کی آوازيں نکالتا ہے۔ “

چو مزيد بتاتی ہيں کہ ان کے ڈیزائنرز نے موکسی کو ایک خوشگوار شخصیت دینے کے لیے بہت محنت کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”ہم نے اسے انسانوں سے مختلف بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ہم نے اسے پیاری سی شکل صورت بھی دی ہے تاکہ لوگوں کو یہ اچھا بھی لگے۔ “

چو اور ان کی کمپنی کی دوسری شریک بانی اینڈریا تھامز (Andrea Thomaz) سوشل روبوٹس میں مہارت رکھتی ہيں اور دونوں ہی مریضوں کو آگے بڑھ بڑھ کر نگہداشت فراہم کرنے والے ڈاکٹروں اور ہسپتال کے عملے کو معاونت فراہم کرنے کا خواب دیکھتی ہيں۔ چو اور تھامز نے نرسوں کے ساتھ وقت گزارنے، انٹرویو کرنے، اور مریضوں کو نگہداشت فراہم کرنے کے دوران ان پر نظر رکھنے میں ڈھائی سال گزارے، جس کے بعد انہيں معلوم ہوا کہ نرسوں کا زيادہ تر وقت مریضوں کی دیکھ بھال کرنے کے بجائے سامان اور ادویات لانے اور لے جانے میں ضائع ہوجاتا ہے۔

تھامز آسٹن میں کام کرنے والی ایک نرسنگ اسسٹنٹ کا قصہ سناتی ہیں جس نے اپنی شفٹ شروع ہونے سے پہلی اپنی کافی ادھوری چھوڑی، لیکن اسے دوبارہ ہاتھ لگانے کا موقع نہيں ملا۔ تھامز کہتی ہيں کہ ”ہم نرسوں کی شفٹیں ختم ہونے تک ان کے ساتھ رہتے تھے، اور ہمیں احساس ہوا کہ انہيں اکثر بارہ، بارہ گھنٹوں تک بیٹھنے کا موقع نہيں ملتا تھا۔ “

جب عملے کو معلوم ہوا کہ تھامز اور چو ہستالوں کے لیے روبوٹس بنانے کی کوشش کررہی ہیں، انہيں بہت شک ہوا۔ تھامز کہتی ہيں کہ ”مجھ سے ایک نرس نے پوچھا کہ کیا میں اس کی نوکری ختم کرنے کی کوشش کررہی ہوں؟ “

چو کہتی ہیں کہ ”روبوٹ نرس کی جگہ نہيں لے سکتا۔ ہم ایک روبوٹ نرس نہيں بنارہے۔ لیکن وہ ایک تھکی ہاری نرس کا ہاتھ تو بٹا سکتا ہے۔ “

تھامز کہتی ہيں کہ جب واشنگٹن، نیو یارک، اور نیو جرسی کے ہسپتالوں میں covid-19 کا بوجھ برداشت کرنے کی گنجائش ختم ہوگئی، تو ”مجھے ایسا لگا جیسے وہ چیخ چیخ کر ہم سے مدد مانگ رہے ہوں۔ نرسز ہمارے کام کا بہت اہم حصہ رہی ہيں اور جب ہم نے کرونا وائرس کے باعث ان کو درپیش مشکلات کے بارے میں سنا تو ہم دونوں نے یہی سوچا کہ انہیں ہماری پہلے سے بھی زيادہ ضرورت پڑ رہی ہے۔ “

جانز ہاپکنز یونیورسٹی (Johns Hopkins University) میں لیباریٹری فار کمپیوٹیشنل سینسنگ اور روبوٹکس (Laboratory for Computational Sensing and Robotics) کے سربراہ رسل ٹیلر (Russell Taylor) کہتے ہيں کہ روبوٹس کا استعمال نرسنگ کے شعبے میں ہی نہيں بلکہ انتہائی نگہداشت کے وارڈز، سرجریوں اور گھریلو نگہداشت میں بھی نظر آئے گا۔ کرونا وائرس کے شروع ہوتے ہی ان کے لیب میں مریضوں کے کمروں میں معاونت فراہم کرنے والے روبوٹ پر کام شروع ہوگیا۔

ٹیلر کہتے ہيں کہ ”اکثر نرس کو مریض کے کمرے میں صرف وینٹی لیٹر کے کچھ بٹنز دبانے کے لیے جانا پڑتا ہے۔ “ اس کے لیے انہيں حفاظتی لباس پہننا پڑتا ہے، اور کچھ ہسپتالوں میں اس مسئلے کے حل کے لیے کمرے کے باہر انفیوژن پمپس لگا دیے گئے ہیں جنہيں باہر سے ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ٹیلر کہتے ہیں کہ اگر ان ہسپتالوں کو روبوٹس فراہم کردیے جائيں تو نرس کے بجائے روبوٹ کو کمرے میں بھیجا جاسکتا ہے۔

تھامز اور چو اب ہسپتالوں سے بات کرکے یہ جاننے کی کوشش کررہی ہيں کہ روبوٹس کے استعمال سے طبی عملے کو کس طرح فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، کیا ان سے مریضوں کے کمروں میں زیادہ خطرناک کام کروائے جائيں؟ یا انہيں لیب کے نمونوں کی نقل و حمل میں استعمال کیا جائے؟ یا ان سے صفائی یا ڈس انفیکشن کا کام کروایا جائے؟ اس سے نرسز کا بہت وقت بچے گا اور وہ مریضوں کی نگہداشت پر زيادہ توجہ دے سکیں گی۔ تھامز کہتی ہیں کہ ”اگر ہمیں خطرناک کاموں کو آٹومیٹ کرنے کا موقع مل رہا ہے تو ہمیں اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ روبوٹس اسی کام کے لیے بنائے گئے ہيں۔ “

ایک طرف تو روبوٹس ہسپتالوں اور طبی مراکز میں کام آسان کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہيں، لیکن دوسری طرف انسانوں کی ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہيں۔

برائن ٹیسزن (Brian Tieszen) کو چھوٹی عمر سے ہی روبوٹس کا بہت شوق تھا۔ انہيں سٹار وارز میں ہمیشہ سے ہی بہت دلچسپی ہے اور آج ان کے دو بچے بھی ہیں۔ اپنے بچپن کےR2D2  جیسے روبوٹس اور سائنس فکشن کی دنیاؤوں کے اس شوق کی وجہ سے انہوں نے 2000ء میں الیکٹرانکس میں ایسوسی ایٹس ڈگری مکمل کی اور 2014ء میں ایمزان میں ملازمت اختیار کی۔ وہ شروع میں اپنے گھر سے ایک گھنٹے کی دوری پر واقع ایک گودام میں رات کی شفٹ میں بہت اچھی تنخواہ پر کام کرتے رہے، لیکن رات میں کام کرنے کی وجہ سے ان کی اکثر اپنے بچوں سے ملاقات نہيں ہو پاتی تھی۔ پھر 2016ء میں انہوں نے کیلیفورنیا کے شہر ایسٹ ویل میں ایک ایسے گودام کے بارے میں سنا جہاں روبوٹس کا استعمال کیا جاتا تھا، اور جو ان کے گھر سے قریب بھی تھا۔ انہوں نے فوراً ہی تبادلے کی درخواست جمع کردی۔

وہ ایسٹ ویل کی افتتاح کے روز موجود تھے اور سوشل میڈیا پر ملازمین کی تصویروں میں وہ بھی دوسروں کے ساتھ مسکراتے ہوئے نظر آئے۔ ٹیسزن اور ان کے ساتھیوں نے تین نارنجی رنگ کے روبوٹس پر آٹوگراف بھی کیا۔

ٹیسزن شروع میں ٹیلی وژنز اور باربیکیو گرلز جیسے اشیاء سے لدے ٹرکس سے سامان اتارتے تھے، لیکن وہ محنت کرتے رہے اور آہستہ آہستہ ان کی ترقی ہوتی گئی اور وہ نئے ملازمین کو تربیت بھی فراہم کرنے لگے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”میرا کام بہت اچھا تھا اور میں بہت جلدی کام مکمل کرلیتا تھا۔ “ انہيں جلد احساس ہوگیا کہ ان کے گودام میں سامان کو ادھر سے ادھر لے کر جانے والے روبوٹس ان کے خوابوں کے ڈرائيڈس سے بہت مختلف تھے۔ گودام میں استعمال کیے جانے والے روبوٹس بہت بے ہنگم شکل کے تھے اور سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے علاوہ کچھ خاص کام نہيں کرتے تھے۔ انہیں دھات کی باڑوں کی مدد سے انسانوں سے علیحدہ کیا گيا تھا، اور پولیس کی ٹیپ سے ملتی جلتی ٹیپ پر لکھے بڑے بڑے حروف سے ملازمین کو ان روبوٹس سے دور رہنے کے متعلق انتباہ کیا گيا تھا۔

ٹیسزن چھ فٹ ایک انچ کا قد رکھنے والے لہیم شہیم آدمی ہیں، لیکن ایمزان کے گودام کے سائز کے مقابلے میں ان کا سائز کچھ بھی نہيں تھا۔ انہيں ایسٹ ویل میں کام کرتے چھ ماہ ہی ہوئے تھے جب ایک روز آٹھ گھنٹوں تک مستقال کتابیں اتارتے ہوئے ان کی پیٹھ جواب دے گئی اور ان کے لیے کھڑا ہونا بھی دو بھر ہوگیا۔ ٹیسزن دو مہینے تک بستر کو لگ گئے اور ان کی پیٹھ اب تک پہلے جیسی نہيں رہی۔ وہ کہتے ہیں کہ ”ہم بیزوس (ایمزان کے بانی) کے لیے بس غلام ہیں۔ “

ٹیسزن نے برائن فریمین (Brian Freeman) نامی ایک وکیل کی سہولیات حاصل کیں، جو ماضی میں ایمزان کے 72 ملازمین کے مقدمے لڑ چکے ہيں۔ فریمین کہتے ہيں کہ ”وہ روز جھک کر ڈبے اٹھاتے ہيں اور انہيں شیلف پر رکھتے ہيں۔ ایک دن ان کی پیٹھ جواب دے جاتی ہے اور وہ کھڑے بھی نہيں ہوپاتے۔ “ فریمین کے مطابق انسانی جسم اس قسم کی محنت مشقت برداشت نہيں کرسکتا۔ ان کے مطابق ایمزان میں کام کرنے والے ملازمین ”انسانی روبوٹس “ سے کم نہيں ہيں۔

ایمزان میں کیوا (Kiva)، پیگاسس (Pegasus)، اور زينتھس (Xanthus) جیسے بھی روبوٹس موجود ہيں جو بہت بھاری بوجھ اٹھاتے ہیں۔ ایمزان کے مطابق، ان کی بدولت گوداموں میں زیادہ موثر طور پر کام ممکن ہوتا ہے، ملازمین کا کام زيادہ آسان اور زيادہ محفوظ ہوتا ہے، اور کمپنی کے لیے زيادہ بہتر تنخواہوں کی ادائيگی ممکن ہوتی ہے۔ آگے چل کر روبوٹس وہ تمام کام کرسکیں گے جن سے انسانی ملازمین کو کسی بھی قسم کی چوٹ پہنچنے کا امکان ہو۔

تاہم کرونا وائرس کی اس وبا سے یہ صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔ covid-19 سے قبل لاجیسٹکس اور دواسازی کے علاوہ دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیاں انسانوں کو خطرناک کاموں سے بچانے اور عملیاتی اخراجات میں کمی لانے کے لیے روبوٹس کے استعمال پر غور کررہی تھیں۔ آج خطرہ کام کی وجہ سے نہيں، بلکہ انسانوں کی وجہ سے ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سین ڈیگو میں کنٹیکسچول روبوٹکس انسٹی ٹیوٹ (Contextual Robotics Institute) کے ڈائریکٹر ہینرک کرسچنسن (Henrik Christensen) کہتے ہيں کہ ”اب خطرہ یہ ہے کہ کم سے کم اجرت پر کام کرنے والے مزدور کرونا وائرس کا کیریئر ہوسکتے ہیں۔ “

ان تمام مسائل کی وجہ سے کمپنیوں کے لیے انسانی ملازمین بہت بڑی ذمہ داری ثابت ہوتے ہيں۔ اس وبا کے دوران آن لائن آرڈرز کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایمزان نے 175،000 نئے ملازمین بھرتی کیے ہيں۔ ملازمین اور مزدوری کے کارکنان حفاظتی سامان، گوداموں کے ڈس انفیکشن، زيادہ چھٹیوں، تنخواہوں میں اضافے اور ٹیسٹنگ کا مطلبہ کررہے ہیں۔ ایمزان نے اب تک covid-19  کے شکار ملازمین کی تعداد نہيں بتائی ہے، لیکن یہ بات طے ہے کہ انہيں اور دیگر کمپنیوں کو انسانوں کی جگہ روبوٹس سے کام کروانے سے بہت فائدہ ہوا۔ روبوٹس کو نہ تو ماسکس کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی ہیلتھ کئیر یا سماجی دوری کی، اور وہ بہتر تنخواہوں کے لیے ہڑتال بھی نہيں کرسکتے۔

اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ ایک روز روبوٹس صرف سپرمارکیٹس میں سامان نہيں چیک کریں گے، بلکہ ان کے شیلفوں پر سامان بھی رکھیں گے اور صفائی ستھرائی کا بھی خیال رکھیں گے، اور انسان صرف وہی کام کریں گے جن میں سوچ بچار کی ضرورت ہوگی۔ کرسچنسن کہتے ہیں کہ ”ہمیں ہسپتالوں میں پہلے سے کہیں زيادہ روبوٹس صفائی کرتے ہوئے نظر آئيں گے۔ میں یہ بھی چاہوں گا کہ انفیکیشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے میری قریبی سپرمارکیٹ کو روز ڈس انفیکٹ کیا جائے۔ اور میرے خیال سے جب تک کروز شپس صفائی کرنے کا دوسرا طریقہ نہيں ڈھونڈيں گی، وہ خود کو بحال کرنے میں کامیاب نہيں ہوسکیں گی۔ “

ہوسکتا ہے کہ جن ملازمین کو ”ضروری “ سمجھا جاتا ہے، یعنی سامان کی ڈیلیوری کرنے والے، دکانوں کے چیک آؤٹ کاؤنٹرز پر کام کرنے والے، بسیں اور ریل گاڑی چلانے والے، اور گوشت کے پلانٹس میں پیکیجنگ کرنے والے افراد، جلد ہی اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ وہ ابھی اس معیشت کو کھڑا رکھنے کے لیے صرف اپنی جانیں داؤ پر لگا رہے ہيں لیکن ملازمتوں کے تحفظ اور تربیتی مواقع کے بغیر، ان کی ملازمتیں بھی داؤ پر لگ جائيں گی۔

کرسچنسن کو امید ہے کہ ان میں سے کچھ افراد کو ان روبوٹس کی معاونت یا تربیت کا بھی کام مل سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”ایسی کئی ملازمتیں جنم لیں گی جن میں یہ افراد روبوٹس کو ایسے کاموں میں معاونت فراہم کریں گے جو سافٹ ویئر یا مصنوعی ذہانت کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ “

برائن ٹیسزن جس گودام میں کام کرتے تھے، اس سے اٹھارہ میل دور انڈسٹریل ٹیکنیکل لرننگ سینٹر (Industrial Technical Learning Center) موجود ہے۔ یہاں طلباء کو اس دن کے لیے تیار کیا جاتا ہے جب روبوٹس مکمل طور پر ان کی ملازمتیں لے لیں گے۔ میں نے جب کرونا وائرس کی وبا سے پہلے یہاں کا چکر لگایا تو ٹرینر ایسسٹنٹ سٹیو وارڈ (Steve Ward) نے مجھے کہا کہ ”اس بات سے انکار نہيں کیا جاسکتا کہ روبوٹس آہستہ آہستہ انسانوں سے کچھ ملازمتیں چھین رہے ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ صورتحال ہمیشہ ایک جیسی نہيں رہتی۔ “

وارڈ اپنے طلباء کو ان ملازمتوں سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہيں جو ایک نہ ایک دن کسی روبوٹ کو دے دی جائے گی۔ وہ انہيں بتاتے ہيں کہ ”اس کے بجائے روبوٹ کی مرمت کرنا سیکھو۔ اس سے تنخواہ بھی اچھی ہوگی اور ملازمت کا تحفظ بھی ممکن ہوگا۔ “

ان کے تربیتی مرکز میں طلباء ایک مرکزی سسٹم پر بیٹھ کر ایک روبوٹک سسٹم کو استعمال کرنا سیکھتے ہیں۔ وارڈ رنگ برنگے بٹنز، سوئيچز اور بتیوں پر مشتمل مشینوں کے سامنے کھڑے ہو کر مجھے بتاتے ہيں کہ ”ہم ایک ہی دماغ میں یہ سب کچھ کررہے ہیں۔ “ وہ بریف کیس کے سائز کے ایک نیلے کنٹرول باکس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

میکاٹرانکس کے نصاب میں طلباء روبوٹس کو مختلف قسم کے بلاکس یا مختلف کھانے پینے کے اشیاء کے درمیان امتیاز کرنا سکھا رہے ہيں۔ وارڈ کہتے ہيں ”اگر ایک فیکٹری میں ذرا سی غلطی ہوجائے تو ہر گھنٹے ہزاروں ڈالر کا نقصان ہوجاتا ہے۔ ان روبوٹس کے پیچھے ایک انسان بیٹھا ہے جسے بہت اچھی تنخواہ مل رہی ہے۔ “

وارڈ کہتے ہيں کہ ہر کوئی یونیورسٹی نہيں جانا چاہتا اور نہ ہی ہر کوئی وہاں کی سخت پڑھائی یا تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن اس ابھرتے ہوئے شعبے کی وجہ سے ہر کوئی اچھی ملازمت تو حاصل کرسکتا ہے، اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ عطیات یا اپنی کمپنی کے معاہدوں کی وجہ سے یہ کورسز طلباء کے لیے اکثر بالکل مفت ہوتے ہیں۔ وارڈ کہتے ہيں کہ ”کالج کی طرح ان میں چار سال بھی نہيں لگتے۔ “

وارڈ اپنے بازو سے چند گنا موٹا بازو رکھنے والے ایک مشین کی جانب بڑھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ”اگر سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا اور کوئی طریقہ نہ ہو تو روبوٹ انہيں اٹھا کر خود ہی لے کر چلا جائے گا۔ “

وارڈ بتاتے ہيں کہ انہوں نے ایک تخلیق کار کے پاس ایمزان میں استعمال ہونے والے روبوٹس کا پروٹوٹائپ دیکھا تھا۔ ان کے مطابق وہ ان کے پیلے روبوٹک بازو سے کافی ملتا جالتا تھا، اور فرق صرف اتنا تھا کہ ایمزان کا روبوٹ ”دیکھ سکتا تھا۔ “ وارڈ کہتے ہيں کہ اس کی ٹیسٹنگ کرنے والے چھ آدمی اس روبوٹ کی جانب لفافے پھینکتے رہے اور وہ روبوٹ ان لفافوں کو اٹھا اٹھا کر ان پر لکھے بار کوڈ اور پتہ دیکھ کر انہيں درست جگہ پر رکھتا رہا۔ وارڈ کے مطابق ”مجھے روبوٹس کی اتنی عادت ہو چکی ہے، لیکن مجھے بھی یہ دیکھ کر حیرت ہوئی۔ “

لیکن کیا روبوٹس کو تربیت فراہم کرنے والوں کی ملازمتيں کافی ہوں گی؟ اور اگر روبوٹس تربیت یافتہ ہوجائيں گے اور انہيں انسانوں کی ضرورت نہيں رہے گی تو کیا ہوگا؟

آکسفورڈ ایکنامکس کی پچھلے سال شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2030ء تک آٹومیشن کے باعث دنیا بھر میں دو کروڑ یعنی 8.5 فیصد ملازمتوں کا نقصان ہوگا۔ انڈسٹریل ٹیکنیکل لرننگ سینٹر میں ایک کمیونٹی کالج کے ذریعے ملازمین کو تربیت فراہم کرنے والے جان فاکس (Jon Fox) کہتے ہيں کہ ”یہ بات واضح ہے کہ روبوٹس کی وجہ سے وہ ملازمتیں ختم ہوجائيں گی جن کے لیے ذہنی مشقت کے بجائے جسمانی مشقت کا عنصر زیادہ ہوگا۔ یہ اکثر اس قسم کی ملازمتیں ہوتی ہیں جو ہر کوئی عمر بھر نہيں کرنا چاہتا۔ “ جو لوگ تربیت حاصل کرکے روبوٹس استعمال کرنا سیکھ جائيں گے، وہ آگے چل کر زيادہ پیسے کما سکیں گے۔

تاہم یہ ہر کسی کے لیے ممکن نہيں ہوگا۔ جو لوگ عمر زيادہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ تعلیم نہيں حاصل کرنا چاہتے، یا جو تربیت حاصل کرنے کے لیے وقت یا پیسے نکالنے سے قاصر ہيں، یا وہ لوگ جن میں روبوٹ استعمال کرنے کی صلاحیت ہی نہيں ہے، وہ سب پیچھے رہ جائيں گے۔

کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ہمارے کام کرنے کا یا خریداری کرنے کا طریقہ ہمیشہ کے لیے تبدیل ہوسکتا ہے۔ ہمیں اس وقت معلوم نہيں ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ ایسا کوئی الگارتھم نہيں ہے جو ہمیں بتاسکتا ہے کہ موکسی یا ٹیلی جیسی روبوٹس کے ساتھ کس طرح زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ لیکن یہ سچ ہے کہ ہمارا مستقبل ہمیشہ تاریک نہيں رہے گا۔

ڈیلیجنٹ روبوٹکس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہيں ہے کہ ان کے پاس روبوٹس چلانے والے لوگ نہيں ہیں، بلکہ وقت کی کمی ہے۔ موکسی کا ڈیزائن تیار ہے اور اس وبا کے دوران، اگر اسے موقع ملتا تو وہ بہت کچھ کر سکتا تھا۔ لیکن ان روبوٹس کو ابھی بھی صرف حسب ضرورت تیار کیا جاتا ہے اور انہيں کسی نئی جگہ کا نقشہ سیکھنے میں وقت لگتا ہے، جس کے لیے پروگرامرز کو ہسپتال جا کر وقت گزارنے کی ضرورت پیش اتی ہے۔ تھامز کہتی ہیں کہ ”اس وقت ہسپتال اپنی ذمہ داریاں بمشکل نبھا رہے ہيں اور ہم اس دوران ان پر روبوٹس کی اضافی ذمہ داری نہيں ڈال سکتے۔ “

وہ ایک ایسے مستقبل کا انتظار کررہی ہيں جب طبی معاونت فراہم کرنے والے روبوٹس کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ انہیں حال ہی میں اپنے پراجیکٹس کے لیے ایک کروڑ ڈالر کی رقم ملی ہے اور وہ اگلے ڈیڑھ سال میں ہسپتالوں میں استعمال کیے جانے والے زيادہ روبوٹس متعارف کرنے کا ارادہ رکھتی ہيں۔ تھامز کہتی ہيں کہ ”ہم انہیں آج سے چند مہینے بعد، یعنی جب کرونا وائرس کی وبا اختتام پذير ہورہی ہو، متعارف کرسکتے ہيں۔ اس وقت ہم اس وبا کے بارے میں نہيں بلکہ اگلی وبا کے بارے میں سوچ رہے ہيں۔ “


ایریکا ہایاساکی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، اروائن، میں صحافت پڑھاتی ہيں۔

تحریر: ایریکا ہایاساکی (Erika Hayasaki)

مترجم: صوفیہ ضمیر

تصاویر: فرانزسکا بارکزک

Read more on technologyreview.com.

Authors

*

Top