Global Editions

وائرس جس نے دنیا میں دراڑ ڈال دی

پیبلو ڈيکلن
کرونا وائرس کے باعث دو عالمی رجحانوں نے فروغ پایا ہے، جن سے آنے والی دہائیوں میں دنیا بدل کر رہ جائے گی۔

جولائی کے اختتام تک کئی ترقی یافتہ ممالک میں کرونا وائرس کا زور ختم ہونا شروع ہوگیا۔ تاہم امریکہ میں نئے کیسز کی یومیہ تعداد میں ریکارڈ توڑ اضافہ جاری رہا۔

اس وبا کے باعث امریکی قیادت کے متعلق عالمی پیمانے پر کئی سوالات اٹھائے جانے لگے۔ ڈاہلیا ریسرچ (Dalia  Research ) نامی سروے کمپنی کی جون میں شائع میں ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ تاثر عام ہوگیا کہ امریکہ کے مقابلے میں چین covid-19 پر کہیں زیادہ بہتر طور پر قابو پانے میں کامیاب رہا ہے۔ اس ریسرچ میں ڈینمارک سے لے کر ایران تک 53 ممالک کا سروے کیا گيا تھا، اور صرف دو ممالک ایسے تھے جن کے مطابق کرونا وائرس کے خلاف امریکہ کی جوابی کارروائی چین سے بہتر تھی، جن میں سے ایک ملک امریکہ خود تھا (دوسرا ملک جاپان تھا)۔ ڈاہلیا کے سروے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ امریکی قیادت کے متعلق دوسرے ممالک کی رائے پہلے سے زيادہ منفی ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 50 فیصد جوابدہندگان کے مطابق اس نے جمہوریت کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچا ہے۔ کینیڈا، جرمنی اور برطانیہ جیسی پائیدار اور دیرینہ جمہوری ممالک امریکہ کو خصوصی تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

متعدد ماہرین کا خیال ہے کہ اس صدی کے سنگین ترین صحت کے بحران کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے امریکہ کی ناکامی بین الاقوامی تعلقات میں انقلاب کی وجہ بنے گی۔ مارچ کے مہینے میں کرٹ کیمپ بیل (Kurt Campbell) اور رش ڈوشی (Rush Doshi) کی فارن افیئرز (Foreign Affairs) میں شائع ہونے والی ایک تحریر کے مطابق، جس طرح سوئیز بحران برطانوی سلطنت کے خاتمے کی وجہ بنا تھا، اسی طرح کرونا وائرس امریکہ کے زوال کی وجہ بنے گا، اور چین امریکہ سے کہیں آگے نکل جائے گا۔

 اگر ایسا نہ بھی ہو تو بھی امریکہ کے لیے صورتحال کچھ خاص اچھی نظر نہيں آرہی۔ اس وبا کے نتیجے میں پچھلے پانچ سالوں کے دوران سامنے آنے والے دو سیاسی رجحانوں نے زور پکڑنا شروع کیا ہے۔

سب سے پہلے تو امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ ایک نئی اسلحے کی دوڑ اور عالمی طاقت کے لیے ایک نئے مقابلے کو جنم دے گا۔ دوسری طرف، ترکی سے لے کر برازیل، ہنگری، اور پولینڈ تک، کئی ممالک ”آمرانہ نظام“ اپنانے کی کوشش کررہے ہیں، جس کے ذریعے لاکھوں افراد کو سرد جنگ کے بعد عام ہونے والی آزادیوں اور حقوق سے آہستہ آہستہ محروم کیا جارہا ہے۔ ان دونوں رجحانوں کے نتیجے میں دنیا نہ صرف مزید عدم یقینی کا شکار ہوجائے گی بلکہ اس میں مزید دراڑیں بھی پڑنا شروع ہوجائيں گی۔

عالمی ڈیجیٹل دراڑ

امریکی طاقت کے زوال اور آمریت کی حیات نو کی سب سے واضح مثال عالمی ڈیجیٹل نظام کی تقسیم میں نظر آتی ہے۔ 2010ء میں چینی حکومت کی سینسرشپ کے باعث، گوگل نے چین سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد چین نے اپنے شہریوں کے استعمال کے لیے متعدد ایپس متعارف کر ڈالیں۔ یہ سچ ہے کہ انہوں نے خود کو پوری طرح علیحدہ نہيں کیا۔ وہاں دنیا بھر کی طرح اینڈرائيڈ اور آئی او ایس کے آپریٹنگ سسٹمز کے علاوہ جاوا اور پائیتھن جیسی پروگرامنگ لینگوئیجزعام ہیں۔ تاہم جہاں تک ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب، ایمزان، یا پے پیل جیسی سہولیات کا سوال ہے، چین میں کئی متبادل موجود ہیں۔

یہ دراڑیں ایک وسیع جنگ کا حصہ ہیں۔ چین کے بعد روس، ایران اور دیگر آمرانہ حکومتوں نے اس آئيڈيا کو فروغ دینا شروع کیا ہے کہ ممالک کو انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے قواعد تیار کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، جسے ”سائبر خودمختاری“ کہا جاتا ہے۔ روسی حکومت ”خود مختار انٹرنیٹ“ عملدرآمد کرنے پر غور کررہی ہے، جس کے ذریعے پورے ملک کو عالمی انٹرنیٹ کے نیٹورک سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف، امریکہ اور یورپ میں پرائیوسی کی اہمیت اور نوعیت، آزادی اظہار خیال، اور ٹیکنالوجی کے قواعد و ضوابط کی تشکیل کے متعلق اختلافات کے باوجود اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ انٹرنیٹ پر کسی قسم کی پابندی نہيں لگائی جانی چاہیے۔

ان رجحانوں سے صاف ظاہر ہے کہ ماضی میں جو ممالک دوسروں پر برتری جتانے کے لیے اپنے حجم، افواج، یا معیشت پر انحصار کرتے تھے، اب وہ اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے فوجی ٹیکنالوجی کے علاوہ دوسری اقسام کی ٹیکنالوجیز کو استعمال میں لارہے ہیں۔ اس قسم کے ماڈل کو ”ٹیکنو قوم پرستی“ کہا جاتا ہے، اور یہ دو بنیادی مفروضوں پر کھڑا ہے۔ پہلا تو یہ کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی اپنانے والا سب سے پہلا ملک دوسروں پر بازی لے جاسکتا ہے، اور دوسرا یہ کہ مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز میں مہارت دوسرے شعبہ جات میں بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔ ان مفروضوں کا سچ ہونا ضروری نہيں ہے، لیکن ان سے یہ بات اجاگر ہوتی ہے کہ کوئی بھی ملک اپنے حریفوں کو آگے بڑھنے نہيں دے سکتا۔

اس کی سب سے واضح مثال اکتوبر 2019ء میں سامنے آئی جب امریکی محکمہ تجارت (Department of Commerce) نے 28 چینی کمپنیوں کو ان اداروں کی فہرست میں شامل کیا جن پر تجارتی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ ان کمپنیوں میں آئی فلائی ٹیک (iFly Tek)، سینس ٹائم (SenseTime)، اور میگ وی (Megvii) جیسی نمایاں مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں شامل تھیں۔ یہ کہا جارہا تھا کہ ان کمپنیوں پر شنجینگ میں اویغور مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے باعث پابندیاں عائد کی جارہی ہيں، لیکن اس کا دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ کمپنیاں امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے خلاف مقابلے میں کھڑی ہونے سے قاصر رہيں۔

ڈیجٹل ٹیکنالوجی آمریت کی واپسی کی وجہ تو نہيں ہے، لیکن اس بات سے انکار ہنيں کیا جاسکتا کہ اس سے آمرانہ نظاموں کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف آزاد خیال بین الاقوامی نظام کو بلکہ اس کی بقا کے ذمہ دار اداروں، جیسے کہ نیٹو، اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت، اور عالمی ادارہ تجارت، سب ہی پر بہت زيادہ دباؤ ہے۔

مئی 2020ء میں وائٹ ہاؤس نے ایک دستاویز میں چینی حکام پر ”کھلے اور پابندیوں سے پاک قواعد کی خلاف ورزی“ اور ”بین الاقوامی نظام کو اپنے مفاد کے لیے توڑنے موڑنے“ کا الزام لگایا۔ اس میں چین کی طرف سے تجارتی رازوں کی چوری کے خلاف قانونی چارہ جوئی، اور چینی کمپنیوں کو ”ہائپرسونکس، کوانٹم کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور بائیوٹیکنالوجی“ جیسی اعلیٰ قسم کی ٹیکنالوجیز حاصل کرنے سے روکنے کے لیے سخت اقدام کرنے کا مطالبہ کیا گيا ہے۔ اس کے بعد امریکی افسران نے چین کی نمایاں الیکٹرانکس کمپنی ہواوے (Huawei) کو اپنے چپس بنانے کے لیے امریکی ٹیکنالوجی یا مشینوں کے استعمال سے روک دیا۔ جولائی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین کو ٹیکسس کے شہر ہیوسٹن میں واقع اپنا کونسلیٹ بند کرنے کا حکم جاری کیا، جس کے جواب میں چین نے چینگڈو میں واقع امریکی کونسلیٹ بند کردیا۔

دوسری طرف، چین اپنے قواعد پر (جن میں سرچ انجن کے نتائج کی سینسرشپ، اور حکام کو صارفین کے ڈیٹا، سافٹ ویئر کے سورس کوڈ اور دیگر اقسام کے مالکانہ ڈيٹا کی فراہمی سرفہرست ہيں) عمل نہ کرنے والی بین الاقوامی کمپنیوں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہيں دیتا۔ اس کے علاوہ، وہ “میڈ ان چائنہ 2025ء” (Made in China 2025) جیسے منصوبہ جات کے تحت مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر چپس، اور ایئروسپیس جیسی صنعتوں کو مالی معاونت کی فراہمی اور “اجتماعی انوویشن“ کو فروغ دینے کی کوششوں میں بھی اضافہ کررہا ہے۔

چین امریکی، یورپی اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنی کمپنیاں اور ٹیکنالوجیز دوسرے ممالک میں بھی متعارف کرتا ہے۔ 2015ء سے چینی حکام ایک ”ڈیجیٹل شاہراہ ریشم“ کی بات کررہے ہیں، جس کے ستونوں میں انٹرنیٹ کنیکٹوٹی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، ٹیلی کمیونیکیشنز، سمارٹ شہر، اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ شامل ہیں۔ کنسلٹنسی کمپنی RWR ایڈوائزری گروپ (RWR Advisory Group) کے

ایک تخمینے کے مطابق اس پراجیکٹ کے حوالے سے 20 ممالک میں 40 ارب ڈالر کے قریب سرمایہ کاری کی جاچکی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ امریکہ ٹیکنالوجی کی سپلائی چینز میں چین کے کردار کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ دوسری طرف امریکہ میں جون میں بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت ملازمین کے لیے ویزا بند کرنے کا اعلان کیا گيا، جس کے بعد اس پابندی میں دسمبر تک توسیع کردی گئی۔ اس فیصلے سے چین کو بہت زيادہ فائدہ پہنچے گا۔ شکاگو میں واقع پالسن انسٹی ٹیوٹ (Paulson Institute) نامی تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ کے مصنفین ایشان بینرجی (Ishan Bannerjee) اور میٹ شیہان (Matt Sheehan) کی تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین اس وقت بہت اہم کردار ادا کررہا ہے۔ دنیا کی نمایاں ترین مصنوعی ذہانت کی ریسرچ میٹنگ NeurIPS کانفرنس میں ریسرچ پیپرز جمع کروانے والے ایک تہائی مصنفین چین میں تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ دوسری طرف زیادہ تر چینی ریسرچرز امریکہ میں پڑھتے ہیں، کام کرتے ہيں، اور رہائش پذیر ہيں۔ اگر ان ریسرچرز کو امریکہ چھوڑنے پر مجبور کیا جائے تو ان کی کمی جلد پوری نہيں ہوسکے گی۔

اگر آنے والے انتخابات میں جو بائیڈن صدر منتخب ہوجائيں تو ممکن ہے کہ ان کی انتظامیہ ان پالیسیوں کی نظرثانی کرے۔ ان کی مہم کے ایک مشیر جیک سلیون (Jake Sullivan) نے حال ہی میں کارنیگی اینڈاؤمینٹ فار انٹرنیشنل پیس (Carnegie Endowment for International Peace)  (جہاں میں ایک فیلو کے عہدے پر فائز ہوں) کی ایک تقریب میں کہا کہ امریکہ کو چین کو روکنے کے بجائے خود آگے بڑھنے کی کوششیں کرنی چاہیں۔ تاہم، بائيڈن کا فیصلہ جو بھی ہو، کلیدی ٹیکنالوجیز کی بین الاقوامی طریقہ عمل اور معیارات کا مقابلہ جاری رہے گا۔

عوام کو دبانے کی سیاست

دوسرے ممالک کی حکومتیں اپنے سیاسی مقاصد پورا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھارہی ہیں۔ کرونا وائرس سے پہلے سے ہی دنیا بھر میں آمرانہ نظام کی بنیاد رکھی جارہی تھیں۔ ورائيٹیز آف ڈيموکریسی (Varieties of Democracy) پراجیکٹ کے ریسرچرز کے ایک تخمینے کے مطابق 2.6 ارب افراد، یعنی دنیا کی پوری آبادی کے 35 فیصد حصے، کی سیاسی آزادی محدود ہوچکی ہے۔ آمرانہ حکام اختلاف دبانے کے لیے، سیاسی اختیار برقرار رکھنے کے لیے، اور اقتدار میں رہنے کے لیے مختلف اقسام کی ٹیکنالوجیز استعمال کررہے ہيں۔ میں نے اپنی آنے والی کتاب میں بتایا ہے کہ کینیا، میکسیکو، اور ملائیشیاء کے متعدد شہر کس طرح چینی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے شہریوں کی نگرانی کرتے ہيں؛ اسرائیلی اور امریکی سپائی ویئر کے ذریعے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور مصر کس طرح اختلاف رائے اور اپنے سیاسی حریفوں پر نظر رکھتے ہيں؛ اور تھائی لینڈ اور پاکستان میں کس طرح تنقید ختم کرنے اور ڈیجیٹل چینلز کو حکومت کے حق میں بات کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

آمرانہ حکومتیں عوام کو دبانے کے لیے اس قسم کے حربے تو اپناتی ہیں، لیکن بعض دفعہ جمہوری حکومتیں بھی ان ٹولز کا استعمال کرتی ہيں۔ مثال کے طور پر، ایڈووکیسی گروپ فریڈم ہاؤس (Freedom House) کے مطابق امریکہ میں بلیک لائیوز میٹر (Black Lives Matter) احتجاجیوں کے خلاف ڈرونز، چہرے کی شناخت، اور سوشل میڈیا کی نگرانی جیسی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔

کرونا وائرس کے باعث انفرادی آزادیوں میں مزید کمی آئی ہے۔ ڈیجیٹل پرائیوسی کے گروپ Top10VPN کے سیمویل ووڈہیمز (Samuel Woodhams) کے حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق جولائی 2020ء تک 50 ممالک میں کانٹیکٹ ٹریسنگ کی ایپس، 35 ممالک میں متبادل ڈیجیٹل ٹریکنگ کے اقدام، 11 ممالک میں نگرانی کی ٹیکنالوجیز، اور 18 ممالک میں covid-19 سے وابستہ سینسرشپ متعارف ہوچکی تھی۔ ان میں سے بیشتر ممالک خود کو جمہوریتیں کہتے ہیں۔

ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومتيں اکثر بغیر کسی تحقیق کے صحت کی نگرانی کی ٹیکنالوجی متعارف کررہی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل (Amnesty International) کی جون میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ بحرین، کویت اور ناروے نے covid-19 کی ٹریکنگ کے لیے ایسی ایپس متعارف کی ہیں جو صارفین کے نقل و حرکت کی نہ صرف لائیو ٹریکنگ کرتی ہيں بلکہ ایک مرکزی سرور پر ان کے جی پی ایس کوآرڈینیٹس بھی اپ لوڈ کرتی ہيں۔ یہ رپورٹ شائع ہونے کے بعد، ناروے نے اس ایپ کا استعمال ترک کردیا، لیکن بحرین اور کویت نے ایسا نہيں کیا۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی آمریت کی واپسی کی وجہ تو نہيں ہے، لیکن اس بات سے انکار نہيں کیا جاسکتا کہ اس سے آمرانہ نظاموں کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف آزاد خیال بین الاقوام نظام کو بلکہ اس کی بقا کے ذمہ دار اداروں، جیسے کہ نیٹو، اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت، اور عالمی ادارہ تجارت، سب ہی پر بہت زیادہ دباؤ ہے۔

کریڈٹ: مائیکل کوپیج

اس کا سب سے زیادہ فائدہ چین اور روس کو ہوگا۔ چند ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ممالک نے ”ڈیجیٹل آمریت“ کی حکمت عملی اپنانا شروع کردی ہے، جس کے ذریعے آمر عوام کو دبا کر اپنے اقتدار کو مضبوط کرکے آزاد خیال نظام کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوجائيں گے۔

میری اپنی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان میں سے بیشتر ممالک چین اور روس کی معاونت کے بغیر بھی ان غیرجمہوری ڈیجیٹل حکمت عملیوں کا استعمال کرنے سے پیچھے نہيں ہٹیں گے۔ بہرحال، ہواوے کے 5G نیٹ ورکس، ٹرانسمیشن موبائل فونز، اور ای کامرس اور مواصلت کے لیے وی چیٹ (WeChat) جیسی چینی ٹیکنالوجی کی دنیا پھر میں اس قدر مقبولیت کو نظرانداز کرنا خطرے سے خالی نہيں ہوگا۔ اس کا ایک نقصان تو یہ ہوگا کہ دنیا بھر میں چینی مصنوعات کا راج ہوگا اور چین زيادہ زور پکڑے گا۔ تاہم اس سے زيادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ وی چیٹ کی ایپ یا صارفین کی صحت کی نگرانی کرکے ان کی نقل و حرکت اور دوسروں کے میل جول کے متعلق فیصلے کرنے والی ایپ علی پے ہیلتھ کوڈ (AliPay Health Code) جیسی مصنوعات سینسرشپ اور شہریوں کی نگرانی کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئی بنائی گئی ہيں۔ کرسٹوفر والکر (Christopher Walker)، شانتی کلاتھل(Shanti Kalathi ) اور جیسیکا لڈوگ (Jessica Ludwig) اس سال جرنل آف ڈیموکریسی (Journal of Democracy) میں لکھتے ہیں کہ ”چین کی کمیونسٹ پارٹی کچھ عرصے سے صارفین کی سہولت، نگرانی، اور سینسرشپ کو بڑے ہموار طریقے سے ہم آہنگ کررہی ہے۔ اس کی ایک مثال وی چیٹ جیسے پلیٹ فارمز کی شکل میں نظر آتی ہے جن میں سیاسی بنیادوں پر مشمولات پر پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں اور بڑی آسانی سے صارفین کی نگرانی ممکن ہے۔“

ساتھ ہی اس بات کا تذکرہ بھی کرنا ضروری ہے کہ عوام بھی ٹیکنالوجیز سے بہت فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ڈیجیٹل ٹولز سے تحریکوں، صحافیوں، اور سیاسی نظام کے خلاف آواز اٹھانے والوں کا کام بہت آسان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا نیٹورکس کے ذریعے شہریوں کو فعال کیا جاسکتا ہے اور اجتماعی مظاہروں کو منظم کیا جاسکتا ہے۔ اب تک کوئی بھی حکومت ان خطرات کا حل تلاش کرنے میں کامیاب نہيں ہوسکی ہے۔

جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی کے مستقبل کے متعلق کسی بھی بات میں امریکہ اور چین کے درمیان مقابلے کو فراموش نہيں کرنا چاہیے، وہیں دوسرے رجحانات کو بھی نظرانداز نہيں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر، یورپی اتحاد آزادانہ طور پر اپنی پالیسیاں تشکیل دے رہا ہے، جن میں پرائیویسی، بڑی ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کی جوابدہی، اور بگ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی شفافیت پر زور دیا گيا ہے۔ دوسری طرف بھارت، برازيل، جنوبی افریقہ، نائیجیریا، اور انڈونیشیاء اس سوچ میں پڑگئے ہيں کہ انہيں کیا کرنا چاہیے؟ کیا انہیں اپنی اپنی ڈیجیٹل پالیسیاں تیار کرنی چاہیے  یا صرف ایک طرف بیٹھ کر چین، امریکہ، اور یورپی اتحاد کے درمیان مقابلے سے لطف اندوز ہونا چاہیے؟

یورایشیاء گروپ (Eurasia Group) کے ایئن بریمر (Ian Bremmer) جیسے مبصرین کا خیال ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان ”بہت بڑی دراڑ“ پڑ جائے گی، جس سے ٹیکنالوجی کے شعبے کو بہت نقصان پہنچے گا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ”سرد جنگ“ جیسے نتائج کے امکانات بہت کم ہیں۔ میدان میں اس قدر نئی کمپنیاں اتر چکی ہيں اور یہ صورتحال اتنے زيادہ عناصر پر منحصر ہے کہ اب ٹیکنالوجی صرف دو ہی ممالک کے ہاتھ میں نہيں رہی۔ نئے آئيڈیاز سامنے آئيں گے، نئے پلیٹ فارمز ابھریں گے، اور زيادہ افراد انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرسکیں گے، اور اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ ہمیں نئی قسم کی دراڑیں نظر آئيں گی۔ ایک ایسی دنیا جو نئے اور متنوع قسم کے آئيڈیاز، انوویشن، ضوابط، اور سیاسی اور جغرفیائی اثراندازی کی بنیادوں پر کھڑی ہوگی۔ اور شاید یہی صورتحال سب سے بہتر رہے گی۔


سٹیون فیلڈسٹائن کارنیگی اینڈاؤمینٹ فار انٹرنیشنل پیس کے سینیئر فیلو ہيں۔

تحریر: سٹیون فیلڈسٹائین

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read more on technologyreview.com.

Authors

*

Top