Global Editions

پاکستان میں کرونا وائرس کے خلاف جنگ جاری

حکومت ہیلتھ کیئر کے شعبے کی خامیوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کی امداد کے لیے بھی کوشاں ہے۔

اعداد و شمار: جمعہ کو پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 4،694 سے تجاوز کرگئی، اور 66 افراد اس مرض کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ملک بھر میں لاک ڈاؤن جاری ہے اور حکومت وبا کو روکنے کے لیے اقدام کررہی ہے۔

حکومتی اقدام: وزیراعظم عمران خان نے 3 اپریل کو تعمیراتی صنعت کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں تعمیراتی پراجیکٹس پر قابل اطلاق ٹیکسز میں قابل قدر کمی لائی گئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے تعمیراتی صنعت کے لیے ڈیولمپنٹ بورڈ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت Covid-19 کے لیے نافذ کردہ لاک ڈاؤن اور بے روزگاری، بھوک اور غربت سے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ وزیراعظم نے اسی روز Covid-19 کے لیے قائم کردہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (National Command and Operation Centre – NCOC) کا دورا کیا جس میں انہوں نے وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کے علاوہ ڈی جی جنرل آپریشنز اور پلاننگ میجر جنرل آصف محمود گورایا اور دیگر وفاقی وزراء سے بڑی تفصیل میں بات کی۔

معلومات کے ذرائع: اسی روز، یعنی 3 اپریل کو، وزیراعظم کی خصوصی اسسٹنٹ برائے معلومات فردوس عاشق اعوان نے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ( Inter-services Public Relations) کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ میڈیا کو وزارت معلومات اور آئی ایس پی آر سے Covid-19 کے متعلق معلومات حاصل کرنی ہوگی۔ کچھ روز بعد 7 اپریل کو اعوان نے میڈیا کو ایک کابینہ میٹنگ میں کیے جانے والے فیصلوں کے متعلق بریفنگ دی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کے غربت کے خاتمے کے پروگرام کے تحت ہر ضرورت مند گھرانے کو 12،000 روپے دیے جائيں گے اور حکومت نے 1.2 کروڑ گھرانوں کو 144 ارب روپے کی فراہمی کا مرحلہ شروع کردیا ہے۔ 6 اپریل کو پاکستانی حکومت نے افغانی حکومت کی درخواست کے بعد ترخان اور چمن کے پاس افغان سرحد چار روز کے لیے کھول دیا۔

سامان کی فراہمی: وزیراعظم کے خصوصی اسسٹنٹ برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے 7 اپریل کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وفاقی حکومت ملک بھر میں ڈاکٹروں اور صحت کے شعبے میں کام کرنے والے دیگر افراد کو ذاتی حفاظتی سامان فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کرونا وائرس کی ٹیسٹنگ کا دائرہ کار وسیع کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ فیصلہ ایک روز قبل کوئٹہ میں ڈاکٹروں اور پولیس کے درمیان ہونے والے تصادم کے نتیجے میں سنایا گیا۔ 6 اپریل کو ڈاکٹرز حفاظتی سامان کی عدم دستیابی کے خلاف سخت احتجاج کررہے تھے۔ پولیس نے 100 کے قریب ڈاکٹروں کو حراست میں لیا جن میں سے 30 کو سیکشن 144 کی خلاف ورزی کے جرم میں قید کی سزا ہوئی۔

اس کے علاوہ حکومت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے لال شہباز قلندر کے سالانہ عرس پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

لاک ڈاؤن: پنجاب، سندھ اور خیبرپختون خواہ کی صوبائی حکومتوں نے 14 اپریل تک جبکہ بلوچستان حکومت نے 21 اپریل تک لاک ڈاؤن میں توسیع کردی ہے۔ اس وقت سب سے زيادہ کیسز صوبہ پنجاب میں سامنے آئے ہیں اور یہاں ڈس انفیکشن کی مہموں کا بھی آغاز ہوچکا ہے۔

تحریر: ٹی آر پاکستان

Read in English

Authors

*

Top