Global Editions

واقعات کی کیمرہ ریکارڈنگ کب اور کیسے۔۔۔۔؟

امریکہ بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے حوالے سے شکایات منظر عام پر آتی رہتی ہیں کہ وہ عوامی مظاہروں اور کسی بھی شرپسندانہ واقعہ کی سرکوبی کے دوران طاقت کا بے حساب استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایجنٹ لوگوں پر تشدد کرتے ہیں اور بعض حالات میں انھیں ہلاک بھی کر دیتے ہیں۔ ایسے واقعات کے بارے میں لوگوں کی جانب سے بنائی جانے والی ویڈیو فلمیں بھی منظر عام پر آتی ہیں جس سے صورت حال مزید متاثر ہو جاتی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کاروں پر اس طرح کے الزامات کے تدارک کے لیے امریکہ کی کئی ریاستوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایجنٹ حضرات کے لیے یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ باڈی کیمرہ استعمال کریں۔ باڈی کیمرہ ایجنٹ حضرات کو من مانی کرنے اور پرتشدد ہونے سے روکنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے تاہم اس کے استعمال میں بھی کئی طرح کی پیچیدگیاں درپیش ہیں۔ مثال کے طور پر اس امر کا تعین کیسے کیا جائےگا کہ کس وقت قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایجنٹ کو باڈی کیمرہ آن کرنا چاہیے؟

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کار ہر وقت کیمرہ آن نہیں رکھ سکتے۔ بہت سے ایسے حالات ہوتے ہیں جب کیمرہ آن نہیں ہو سکتا۔ مثال کے طور پر کسی کارروائی سے قبل ہونے والی خفیہ بحث، اسی طرح اگر ایجنٹ حضرات کو کسی گھر میں طلب کیا جاتا ہے تو گھر میں داخل ہوتے ہوئے ان کے لیے ممکن نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ گھر میں موجود ہر ریکارڈ ایبل چیز کو ریکارڈ کر سکیں۔

دوسری جانب اگر ایجنٹ حضرات اپنے کیمرے آف کر دیں تو پرتشدد واقعات کی رپورٹس منظر عام پر آنا شروع ہو جاتی ہیں جس طرح فروری 2015 ءمیں ہونے والا واقعہ منظر عام پر آیا تھا۔

اس حوالے سے میری یہ تجویز ہے کہ اس سلسلے میں ایک ایسا ٹیکنیکل نظام وضع کیا جائے جو اس امر کا فیصلہ کرے کہ کس وقت کیمرہ آن ہونا چاہیے اور کیمرہ آن کرنے کے معاملے پر ایجنٹ حضرات کی صوابدید ختم کر دی جانی چاہیے۔

میری تجویز کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایجنٹ حضرات کےباڈی کیمرےسے حاصل ہونے والی آڈیوز اور ویڈیوزکامسلسل ریکارڈ رکھا جائے اور ضرورت کی دس منٹ کی ریکارڈنگ محفوظ کر کے باقی ریکارڈنگ ضائع کر دی جائے۔ اسی طرح ایجنٹ حضرات کو بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون سے حالات میں انھیں باڈی کیمرہ آن رکھنا چاہیے اور وہ ان حالات کے پیدا ہوتے ہی باڈی کیمرےکا بٹن آن کر دیں تو صورت حال کا زیادہ بہتر انداز میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ان حالات میں جیسے ہی ایجنٹ حضرات کی جانب سے ریڈیو سگنل وصول ہو تو سسٹم پچاس میٹر کی حدود میں موجود تمام ایجنٹس کو اس سے آ گاہ کر دے۔ یہاں ان چند نکات کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کے ذریعےغیر معمولی حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

1۔ جیسے ہی ایجنٹ ہولسٹر سے پستول باہر نکالے۔
2۔ جیسے ہی ایجنٹ ہتھیار کو ہاتھ میں لے اور یہ محسوس ہو کہ وہ اسے استعمال کرنے والا ہے۔ ان ہتھیاروں میں بندوق، چھڑی اور دیگر اشیا بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
3۔ جب ایجنٹ باڈی کیمرےکے حوالے سے بٹن کو پش کر دے۔
4۔ جیسے ہی سسٹم گولی چلنے کی آواز کو محسوس کرے۔ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایجنٹ حضرات کی ضروری تربیت ناگزیر ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایسی کسی کارروائی کے حوالے سے ویڈیوز ویب سائٹ پر ڈال دینی چاہئیں تاکہ لوگ اس کا جائزہ لے سکیں اورجائے وقوعہ پر موجود افراد ان واقعات کی تصدیق کر سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ حاصل شدہ ویڈیوز کو کن حالات میں فرد یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایجنٹ کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے تو اس ضمن میں یہ کیا جا سکتا ہے کہ ان ویڈیوز کو صرف اس صورت میں شہادت کے طور پر پیش کیا جائے کہ جب عدالت اسے طلب کرے۔ اسی طرح استغاثہ کے لیے بھی ان ویڈیوز سے استفادہ کرنا عدالتی اجازت نامے سے مشروط ہونا چاہیے۔

کئی امریکی ریاستوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایجنٹس کے لیے باڈی کیمرہ کا استعمال لازم قرار دیا جا چکا ہے۔

تحریر: رچرڈ سٹال مین (Richard Stallman)

(رچرڈ سٹال مین فری سافٹ ویئرموومنٹ (fsf.org) اور لینکس آپریٹنگ سسٹم لائبر کی ڈویلپمنٹ کی قیادت کرتے ہیں )۔

Read in English

Authors
Top