Global Editions

ایک حادثاتی طور پر نوکری چھوڑنے والے کا اعتراف

آٹومیشن کے ہر حصے کے پیچھے ایک انسان ہے جس نے ایسا کیا۔

میں نے اپنے موسم گرما کی انجنیئرنگ انٹرنشپ سے متعلق کچھ چیزیں شامل کرنے کی توقع کی تھی جیسے پرانے تھری ڈی ماڈلز کو اپ ڈیٹ کرنا،حصوں کے ڈیزائن تخلیق کرنا اور یہ سیکھنا کہ ایک کمپنی کیسے کام کرتی ہے ۔ میں نےاس بات کی توقع نہیں کی تھی کہ میرےسیکھنے کے عمل کے دوران اپنے ساتھیوں کو متروک کرناشامل ہو گا۔

کالج کے دوسرے سال کے بعد موسم گرما کے وقت میں جنوبی کیلیفورنیا میں ایک کمپنی میں تھا ۔ انٹر نشپ کے آغاز میں، مینیجر نے ایک پیچیدہ طریقے کو بہتر بنانے کے لئے تھری ڈی پرنٹنگ پر کام کرنے کے لئے کہا۔ میں طویل عرصے سے تھری ڈی ڈی پرنٹنگ کا شوقین ہوں (میں خود دو مشینوں کا مالک ہوں) ، لہٰذا میں اسے کاروبار میں متعارف کرانے کے لئے پرجوش تھا۔

سب سے پہلے مجھے یہ دیکھنا پڑا کہ کمپنی اس وقت چیزوں کو کیسے موڑتی ہے۔ میں نے اس آدمی کو تلاش کیا جو یہ کام کرتا تھا۔ (میں اس کا حقیقی نام استعمال نہ کرنے پر راضی ہوا تھا، لہٰذا میں اسے گیری بلاؤں گا) ۔کمپنی میں وہ واحدآدمی تھا جسے لاگت، سمت اور چیزوں کو ان کی موجودہ حالت میں موڑنے کا پتہ تھا۔اس پروجیکٹ پر کام گیری کے بغیر نہیں ہوتا تھا۔

جیسے ہی اس نے چیزوں کو موڑنے کے عمل میں اپنا کردار بتایا، مجھے پتا چل گیا کہ موڑنے کا عمل گیری کی ہی ذمہ داری ہے۔ وہ 30سال سےان اوزاروں اور ان کے حصوں کو ٹھیک کر رہا تھا۔ اگر میرا پروجیکٹ کامیاب ہو گیا تو کمپنی میں گیری کی ضرورت نہیں رہے گی۔

شروع میں گیر ی کا رویہ دوستانہ تھا اور وہ بات کرنے کا شوقین تھا۔ لیکن جیسے ہی میں نے اپنے پروجیکٹ کے مقاصد بیان کیے، اس کالہجہ بدل گیا۔ وہ پھر بھی بات کرنے کے لئے تیار تھا تاہم اپنے افسران اور کمپنی کو کوسنے کے بعد۔

میرے ساری انٹرنشپ کے دوران، ہم نے ایک قسم کا تعلق بنایا۔ میں نے سوالات پوچھے؛ انہوں نے معلومات فراہم کیں۔ میں بات چیت کرتے وقت بہت زیادہ مسکراتا، ہلتا اور سائونڈ بورڈ کے طور پر میں نے ایکٹنگ کی۔ میں چند لوگوں میں سے ایک تھا جسے گیر ی کی گفتگو میں دلچسپی تھی۔

چونکہ ہم دونوں جانتے تھے کہ میرا پروجیکٹ گیری کو اس کی روزی روٹی سے محروم کر دے گا، اس لیے میں نے اس کی بات چیت پر پوری توجہ دی۔

جب بھی ہم نے بات کی تو میں ایک کام والی پروڈکٹ بنانے کے قریب تھا اور اسے یہ بتانے میں گھبراہٹ محسوس کر رہا تھا کہ چیزیں کس طرف جا رہی ہیں۔

میں نے محسوس کیا کہ ایسا کرنے سے میں اسے بتا رہا تھا کہ وہ اپنے نوکری چھن جانے کے کتنا قریب تھا۔ چند بار میں نے اسے مشورہ دیا کہ تھری ڈی پرنٹر کو چلانا سیکھ لے۔ یہ اسے بہت مشکل لگ رہا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ کمپنی اس کی عمر کے بندے پر سرمایہ کاری کرنے کے لئے تیار نہیں ہو گی۔

میں نےموسم گرما کے اختتام تک ایک قابل عمل پروٹوٹائپ بنا لیا تھا۔ پیش رفت ظاہر کرنے کے لئے، میں نے اپنے افسران کے لئے ایک ڈیمو کا اہتمام کیا اور میں نے گیری کو مدعو کیا۔ کمپنی کے اعلیٰ افسران نےمیری تخلیق کی تعریف کی اور کھل کر مزید اس بات کی تعریف کی یہ پراڈکٹ کس طرح رقم بچائے گی۔ایسا لگ رہا تھا کہ میراکام اس بندے کو اچھا نہیں لگا جس کی نوکری کو خطرہ تھا۔ مجھے اپنے کام پر فخر تھا لیکن میں جانتا تھا کہ اگر کمپنی نے میری پروڈکٹ کو استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا تونتائج کیا ہونگے۔

میں نے نتائج جانے بغیر یہ انٹرنشپ چھوڑ دی۔ میں نے ٹیکنالوجی میں جدت کے کمپنیوں میں ایگزیکٹو پوسٹوں پر بیٹھےلوگوں پر اخلاقی نتائج محسوس کئے۔

لیکن میں اب بھی حیران ہوں کہ گیری کا کیا بنا ہو گا۔  اس سال کے آغاز پر میں نے اس سے رابطہ کیا کہ آخر پتہ چلے کہ اس کا کیا بنا۔

کمپنی نے میرا پروجیکٹ استعمال کیا تھا۔ میرے پروجیکٹ کو کمپنی کے فلور پر پہنچانے سے قبل بہتری لائی گئ۔ جب ایسا ہوا تو، گیری کو ایک نیا کام دیا گیا۔ تاہم، وہ اپنی نئے کردار اورکاروبار کے ساتھ ناخوش تھا۔ وہ کمپنی سے 34 سال بعد ریٹائرڈ ہو گیا۔

اگرچہ اسے کمپنی سے برخاست نہیں کیا گیا تھا، اسے پھر بھی میرے کام کی وجہ سے نوکری چھوڑنا پڑی۔

معاشرے میں روبوٹ اور انسانوں کے درمیان کی داستان میں، میں شاید برا آدمی ہوں۔ لیکن انسان بمقابلہ ربوٹ ہمیشہ اچھائی اور برائی کے درمیان مقابلہ نہیں ہے۔ آٹومیشن لوگوں کے لئے نئی کردار پیدا کرتی ہے۔ انسان ہمارے نئے روبوٹ ساتھیوں کو انسٹال کرنے اور ان کے ساتھی تلاش کرنے والے ہیں۔ روبوٹکس کی بین الاقوامی فیڈریشن کے مطابق، دنیا بھر میں ورکرز کے مقابلے میں روبوٹس کا تناسب74سے 10,000ہے اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایشیا میں 2017میں روبوٹک افرادی قوت میں9فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ یہ تعداد جنوبی کوریا میں10,000ملازمین کے مقابلے میں 631روبوٹس ہے۔ میکنسی (McKinsey) کی پیش گوئیوں کے مطابق2030تک ٹیکنالوجی پرخر چ کی گئی رقم20ملین سے 50 ملین نئی ملازمتیں پیدا کریگی جس میں کچھ آلات جیسا کہ روبوٹس ہونگے جو کہ کام کرنے کی جگہوں پر لگائے جائیں گے۔

اگر آپ بھی، جاب آٹومیٹر ہیں، یا ایک دن ہو جائیں گے تو میرا مشورہ یہ ہے: ان لوگوں سے بات کریں جن کی نوکریاں روبوٹس جیسے آلات آنے سے خودکار نظام پر منتقل ہو رہی ہیں۔ یہ بات ان کے لئے آرام دہ نہیں ہو گی لیکن شاید وہ آپ کو اپنا نقطہ نظر بتانا چاہتے ہیں۔ جب میں نے اس سٹوری کے لئے گیری سے بات کی تو اس نے مجھے بتایا کہ کمپنی نے اس کے خلاف بہت جارحانہ موقف اختیار کیا اور اس کےچھوڑنے کے بعد کمپنی نے اسی طرح کے عہدوںپر فائز لوگوں کے ساتھ بھی یہی کیا۔گیری نے کہا، "میں نے غلطی سےسمجھا تھا کہ مجھے اس عمل کے ارتقاء کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا۔"

جب میں نےمشینوں میںگیری کا کردار ختم کیا میرے تھری ڈی پرنٹر نے ان کارکنوں کے لئے کمپنی میں مواقع پیدا کیے جو نئی مشینیں چلانا سیکھ گئے تھے۔ گیری نے کہا کہ تھری ڈی پرنٹر نہ سیکھنا اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ گیری نے کہا،"میں نے سیکھا کہ آپ خود کو مطمئن کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ آپ کا نئے طریقوں اور ٹیکنالوجی کے ساتھ چلنا ضروری ہے بے شک آپ کو یہ کام اپنے ذاتی وقت اوریہاں تک اپنے ذاتی خرچے سے کرنا پڑے۔"

اس کے ساتھ دوبارہ بات کرنا عجیب تجربہ تھا۔ گیری نے کہا اسے مجھ سے بات کرکے حیرانی والی خوشی ہوئی ۔اس نے ریاست بدل لی اور اب وہ کسٹمر سروس کا کام کر رہا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ان کی ابتدائی ردعمل کیا تھا جب میں نےان سےبرسوں پہلے اپنےپراجیکٹ کے بارے بات کی تھی۔

انہوں نے کہا ، "میں خوش تھا کہ کوئی شخص اس چیز پر بات کرنے پر راضی تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ کمپنی کی 'پوزیشن یہ تھی کہ کام جس طرح بھی کیا جا رہا تھا،اس کو تبدیل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی تھی۔"

دونوں پارٹیوں کو ایک دوسرے سے بات کرنا اچھا نہ لگے لیکن یہ ضروری ہے۔

لوگ آٹومیشن کے عمل کا ایک اہم حصہ ہیں۔ روبوٹس انسانوں کے بغیر غلبہ نہیں پائیں گے۔

تحریر: ایرن ونک (Erin Wink)

Read in English

Authors
Top