Global Editions

کول پاور پلانٹ سے خارج ہونیوالاکاربن بیکنگ سوڈا میں تبدیل

بھارت کے جنوبی شہر توتیکورن (Tuticorin) کے باشندوں کو کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مضر اثرات سے متاثر ہونے کے خطرات لاحق نہیں ہیں۔ اس امر کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس پاور پلانٹ سے خارج ہونے والے کاربن کو ایک مخصوص عمل کے ذریعے بیکنگ سوڈا میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ فضا میں موجود یا خارج کی جانیوالی کاربن کو حاصل کرنے یا ذخیرہ کر کے متبادل مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا طریقہ نیا نہیں ہے۔ اس عمل کے لئے بنیادی طور پر ایک محلل یعنی ایک ایسا سیال جو دوسرے مادوں کو تحلیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو کو استعمال کیا جاتا ہے تاکہ کاربن کو فضا میں تحلیل ہونے سے روکا جائے اور اسے محفوظ کیا جا سکے۔ تاہم معروف جریدے گارڈین کی رپورٹ کے مطابق توتیکورن شہر میں لگائے جانیوالے کوئلے سے چلنے والے اس پاور پلانٹ میں کاربن کلین سالوشنز نامی کمپنی نے ایسا محلل تیار کیا ہے جو روایتی طور پر استعمال ہونے والے محلل سے زیادہ موثر ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ محلل توانائی بھی کم استعمال کرتا ہے۔ اس طریقہ کے تحت حاصل ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو فضا میں خارج کئے جانے کے بجائے اس سے بیکنگ سوڈا تیار کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران اس پلانٹ سے 66000 ٹن کاربن کو جمع کیا جا سکے گا۔ اس پلانٹ کو چلانے والوں کا کہنا ہے کہ اس طریقہ سے پلانٹ کی کارکردگی موثر ہوئی ہے اور اس پلانٹ کو بغیر کسی سبسڈی سے چلانا ممکن ہو سکا ہے۔ بھارت میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ میں استعمال ہونے والی یہ ٹیکنالوجی جس کی مدد سے فضا میں کاربن کے اخراج کو روکا جا سکتا ہے کوئلے کی صنعت کےلئے ایک امید قرار دیا جا سکتا ہے اس طریقہ سے امریکہ میں بھی کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس سے خارج ہونے والی کاربن کو نہ صرف روکا جا سکتا ہے بلکہ اس کاربن کی مدد سے بیکنگ سوڈا بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔ تاہم کوئلے سے بجلی کے حصول کے حوالے سے بلوم برگ کا کہنا ہےکہ سال 2025 ءتک شمسی توانائی کا حصول کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کی نسبت زیادہ آسان اور کم قیمت کا حامل ہو گا لہٰذا کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کی تعداد میں اضافے کا کوئی امکان نہیں ہے تاہم یہ ضرور ہے کہ کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس ایسی تکنیکس بروئے کار لا کر فضا میں کاربن کے اخراج میں کمی لا سکتے ہیں۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top