Global Editions

پنجاب کے محکمہ پولیس کے آئی ٹی انقلاب پر ایک نظر

پچھلے چند سالوں کے دوران صوبہ پنجاب میں محکمہ پولیس کی معاونت کے لیے آئی ٹی کے کئی پراجیکٹس متعارف کیے گئے تھے۔ ان میں سے ایک پراجیکٹ جرائم کی نقشہ کشی کا سافٹ ویئر تھا جس کی بنیاد چھ سال قبل رکھی گئی تھی۔ آج اس سسٹم کی اثراندازی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

2013ء میں پولیس نے لاہور کی ایک نمایاں نجی یونیورسٹی سے وابستہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کی مدد سے لاہور میں جرائم کے ہاٹ سپاٹس (hotspots)، یعنی جرائم کی سب سے زيادہ شرح رکھنے والے علاقہ جات، کی نشاندہی کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ اس پراجیکٹ کا مقصد جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس کے قلیل وسائل کے استعمال اور جرائم کی روک تھام میں بہتری کو ممکن بنانا تھا۔

آخرکار پولیس کے محکمے نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (Punjab Information Technology Board – PITB) کی

معاونت حاصل کرکے پنجاب کرائم انویسٹی گیشن رپورٹنگ سسٹم (Punjab Crime Investigation Reporting System) نامی آٹومیٹڈ سافٹ ویئر تیار کیا جس سے فیلڈ ٹیمز کے لیے تفتیشی ڈيٹا پر منحصر پیٹرولنگ کے جدول کی تیاری ممکن ہوئی۔ اس سافٹ ویئر کا مقصد جرائم کی زيادہ شرح رکھنے والے علاقہ جات کی نشاندہی کرنا تھا تاکہ ان پر زیادہ توجہ مرکوز کی جاسکے۔

اس سسٹم سے پنجاب پولیس کو کتنا فائدہ پہنچا ہے؟ اس کی عملدرآمدگی کو چھ سال گزرچکے ہیں لیکن اب تک اس سوال کا حتمی جواب حاصل نہيں ہوسکا ہے۔ کچھ پولیس افسران کے مطابق اس سسٹم سے بھرپور فائدہ نہيں اٹھایا جارہا ہے جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کا استعمال ترک کردیا ہے۔

ان تمام افسران کے مطابق محکمہ پولیس کے سب سے بڑے مسائل شکایات کی رجسٹریشن کے عمل کی خامیاں، مالی مشکلات، اور نگرانی کی عدم موجودگی ہیں۔

جرائم کی اطلاعات سے متعلق مسائل

پولیس کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل (DIG) آپریشنز کے دفتر کے مرکزی کمرے میں موجود اس ڈیٹابیس میں صوبہ بھر سے حاصل کردہ فرسٹ انفارمیشن رپورٹز (First Information Report – FIRs) یعنی ایف آئی آرز کی معلومات درج کی جاتی ہیں۔

ڈولفن سکواڈ کو سنیپ چیکنگ اور پٹرولنگ کے لئے کسی مخصوص علاقے پر مقرر کیا گیا ہے

پولیس افسران کو جرائم کی نقشہ کشی میں معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار کردہ اس سافٹ ویئر کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرنے کی اجازت نہيں ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے ہمیں غیرسرکاری طور پر بتایا کہ درحقیقت پیٹرولنگ کی منصوبہ بندی کے دوران اس ڈیٹابیس پر انحصار نہيں کیا جاتا۔ ان کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ ایف آئی آر رجسٹریشن کے عمل کی بے ضابطگیاں ہیں۔ اکثر اوقات یا تو ایف آئی آرز کے اندراج میں تاخیر ہوجاتی ہے یا انہیں سرے سے درج ہی نہيں کیا جاتا جس وجہ سے اس سافٹ ویئر سے حاصل کردہ ڈیٹا کی درستی کے حوالے سے بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان سسٹمز میں کارکردگی کی نگرانی کے نظاموں کی شمولیت کے باعث تفتیشی افسران شکایات کا اندراج کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔

دوسری طرف پولیس محکمے کے چند سینیئر افسران نقشہ کشی کے سافٹ ویئر کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے پیٹرولنگ کی منصوبہ بندی بہت آسان ہوچکی ہے ۔ ان کے مطابق اس سسٹم کو جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے دیگر معلومات کے ساتھ ساتھ استعمال کیا جارہا ہے۔

ڈولفن سکواڈ سپرانٹینڈنٹ آف پولیس (Dolphin Squad Superintendent of Police) بلال ظفر بتاتے ہیں کہ جرائم کی نقشہ کشی اور 15 ہیلپ لائن سے حاصل کردہ ڈیٹا کے ذریعے لاہور میں جرائم کے پیٹرنز کے علاوہ مختلف اقسام کے جرائم کی تعداد اور چوٹی کے اوقات کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس معلومات کی بنیاد پر پیٹرولنگ کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’فرض کریں کہ پہلی شفٹ میں 60 فیصد جرائم کی اطلاع ملتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اس شفٹ میں 60 فیصد وسائل کا استعمال کریں گے۔‘‘ نیز، جرائم کے پیٹرنز کا تجزیہ لاہور کے تمام پولیس ڈیویژنز اور ان ڈیویژنز میں موجود تمام پولیس سٹیشنز کے درمیان وسائل کی تقسیم کی منصوبہ بندی میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

دسمبر 2018ء کے پیٹرولنگ کے منصوبے کے مطابق ڈولفن سکواڈ کے بیشتر وسائل، یعنی 65 فیصد، دوسری شفٹ میں بروئے کار لائے گئے جبکہ پہلی شفٹ میں 20 فیصد اور تیسری اور آخری شفٹ میں صرف 15 فیصد وسائل کا استعمال کیا گیا۔ یہ تقسیم بہت موثر ثابت ہوئی اور مئی 2019ء تک دوسری شفٹ میں صرف 55 فیصد وسائل کا استعمال نظر آیا۔ باقی وسائل کو پہلی اور تیسری شفٹس کے درمیان تقسیم کیا گيا۔

دسمبر 2018ء میں وسائل کا سب سے زیادہ استعمال دو علاقوں، یعنی صدر (23 فیصد) اور سٹی ڈیویژن (20 فیصد) میں نظر آیا۔ دوسری طرف علامہ اقبال ٹاؤن میں یہ شرح 18 فیصد، کینٹونمنٹ میں 15 فیصد، ماڈل ٹاؤن میں 15 فیصد اور سول لائنز میں 11 فیصد تھی۔ مئی 2019ء تک سٹی اور علامہ اقبال ڈیویژنز میں جرائم کی شرح میں کمی سامنے آئی جس کے باعث دوسرے علاقہ جات میں پولیس وسائل کا اضافہ کرنا ممکن ہوا۔

آپریشنز سینیئر سپرانٹینڈنٹ پولیس اسمعیل کھرک کا خیال ہے کہ جرائم کی نقشہ کشی سے پولیس محکمے کا کام بہت آسان ہوگیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’’پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ جات اور پولیس سٹیشنز کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے بعد ہم نے ان علاقوں میں سنیپ چیکنگ (snap checking) اور پیٹرولنگ کے لیے مختص کردہ وسائل کا اضافہ کیا، جس کے باعث ہمارے لیے کئی ملزمان پکڑنا اور چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں کمی لانا ممکن ہوا۔‘‘

وہ بتاتے ہيں کہ جرائم کی نقشہ کشی سافٹ ویئر کے مطابق 2018ء میں چوری اور ڈکیتی کی سب سے زيادہ وارداتیں علامہ اقبال ٹاؤن (123 وارداتیں)، نواب ٹاؤن (106 وارداتیں) اور گلشن راوی (103 وارداتیں) میں سامنے آئيں۔ ان اعدادوشمار کے نتیجے میں ان علاقہ جات کے پولیس سٹیشنز میں پیٹرولنگ (patrolling) اور سنیپ چیکنگ جیسے اقدامات کیے گئے جس کے بعد 2019ء میں چوری اور ڈکیتی کے واقعات میں قابل قدر کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یکم جنوری سے 2 جون کے درمیان چوری اور ڈکیتی کی سب سے زيادہ، یعنی 56 وارداتیں ساندہ میں ہوئی ہیں، جبکہ ہربنس پو رہ میں 53 اور کاہنہ میں بھی 53 وارداتوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

اسی طرح اس سافٹ ویئر کے مطابق 2018ء میں جوہر ٹاؤن میں سب سے زیادہ گاڑی کی چوری کی وارداتیں (41 وارداتیں) سامنے آئيں۔ نواب ٹاؤن (37 وارداتیں) اور ستو کتلہ سٹیشنز (24 وارداتیں) دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ کھرک بتاتے ہیں کہ جوابی اقدامات کے بعد گاڑی کی چوری کی وارداتوں میں بھی کافی کمی نظر آئی۔ یکم جنوری سے 2 جون 2019ء کے درمیان حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق سب سے زيادہ چوری کی وارداتیں (10 وارداتیں) علامہ اقبال ٹاؤن میں پیش آئيں جبکہ سبزہ زار (آٹھ وارداتیں) اور فیکٹری ٹاؤن (سات وارداتیں) دوسرے اور تیسرے نمبر پر تھے۔

جرائم کی نقشہ کشی کے سافٹ ویئر کی سب سے بڑی خامی ان کا ایف آئی آر کے اندراج پر انحصار ہے۔ ایف آئی آر کی رجسٹریشن میں غفلت برتنے سے اس سافٹ ویئر سے حاصل کردہ نتائج معتبر نہيں رہتے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ڈی آئی جی (DIG) ذوالفقار حمید اعتراف کرتے ہيں کہ ایف آئی آر رجسٹریشن پر انحصار کرنے کے باعث بعض دفعہ مسائل پیش آئے ہیں۔ تاہم وہ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جاچکے ہيں۔ مثال کے طور پر انسپیکٹر جنرل آف پولیس (Inspector General of Police – IGP) کے دفترمیں ایک مرکز شکایات قائم کیا گیا ہے جس کی 8787 ہیلپ لائن پر کال کرکے ایف آئی آئر کی رجسٹریشن کے متعلق شکایات درج کروائی جاسکتی ہيں۔

پولیس محکمے کو جرائم کی نقشہ کشی کا سافٹ ویئراور دیگر ٹیکنالوجی استعمال کرنے میں معاونت فراہم کرنے والے لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (Lahore University of Management Sciences – LUMS) کے اکنامکس کے پروفیسر

ڈاکٹر علی چیما بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں عام طور پر پولیس تبدیلیوں اور جدت پسندی کو شک کی نگاہ سے ہی دیکھتی ہے۔ ان کے مطابق پولیس کے کاموں میں ٹیکنالوجی کا انضمام صرف اسی وقت ممکن ہوگا جب قانونی نظام میں بنیادی قسم کی تبدیلیاں متعارف کی جائيں گی۔

ڈاکٹر چیما پولیس افسران کی کارکردگی کی پیمائش میں نقشہ کشی جیسے اقدام کی شمولیت کا مشورہ دیتے ہيں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ان اصلاحات کی عملدرآمدگی کو ممکن بنانے کے لیے پروٹوکولز تیار کرنا ضروری ہیں۔‘‘

بجٹ کے مسائل

کوئی بھی تبدیلی متعارف کرنے سے پہلے فنڈنگ کا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے۔

پیسوں کی تنگی کے باعث پولیس افسران کو اس سافٹ ویئر کے متعلق تربیت فراہم کرنا مشکل ثابت ہورہا ہے۔

شروع میں کاروباری کمیونٹی کی معاونت کے ساتھ پورے شہر میں اس پراجیکٹ کے لیے آپریشنز کے کمرے قائم کیے گئے۔ لیکن آپریشنز ڈی آئی جی حیدر اشرف کے مطابق پیسوں کی تنگی کی وجہ سے پولیس اس سسٹم کو پائیدار بنانے اور افسران کو اس کے موثر استعمال کے لیے ضروری آئی ٹی کی تربیت فراہم کرنے سے قاصر رہی ہے۔

آئی ٹی ڈی آئی جی حمید اور ٹریننگ کے ایڈشنل انسپیکٹر جنرل (Additional Inspector General) طارق مسعود یاسین کہتے ہيں کہ ان افسران کو آئی ٹی کی صلاحیتوں سے آراستہ کرنے کے لیے اقدام کیے جارہے ہیں اور سپاہیوں کے تربیتی نصب میں آئی ٹی کے مشمولات بھی شامل کیے جاچکے ہیں۔

یاسین کہتے ہيں ’’پولیس میں بھرتی کے وقت ہر ایک افسر کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دو کورسز کروائے جاتے ہيں۔ پہلے کورس میں انہيں آئی ٹی کے متعلق بنیادی باتیں سکھائی جاتی ہيں اور دوسرے کورس میں انہیں پولیس کے مخصوص پراجیکٹس، جیسے کہ پنجاب پولیس انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (Punjab Police Integrated Command and Control Center – PPIC 3)، کے متعلق معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔‘‘

حمید امید کرتے ہیں کہ ان اقدام سے تمام پولیس افسران کی آئی ٹی کی خواندگی میں اضافہ جلد ممکن ہوگا۔

قانونی نظام کی کمی بیشی

صوبہ پنجاب میں پولیس کے عملیات پر لاگو ہونے والے 2002ء کے پولیس آرڈر (Police Order) اور 1934ء کے پولیس قواعد میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کے متعلق کوئی شق موجود نہيں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانونی طور پر جرائم کی نقشہ کشی کے سافٹ ویئر کا نفاذ ممکن نہيں ہوسکا ہے اور صوبے بھر میں پولیس سٹیشنز میں اب تک کاغذی ریکارڈز کا استعمال جاری ہے۔

ان مسائل کے عارضی حل کے لیے آئی جی پی کے دفتر نے آئی ٹی کے پراجیکٹس کی عملدرآمدگی کے لیے احکامات جاری کردیے ہیں۔ حمید بتاتے ہيں کہ جرائم کی نقشہ کشی جیسے اقدام کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو قواعد کی ترمیم کے لیے تجویز بھیجی جاچکی ہے جس سے اس مسئلے کا مستقل حل ممکن ہوسکے گا۔

پراجیکٹ کی تفصیلات

جرائم کی نقشہ کشی کا سافٹ ویئر متعارف کرنے کا سہرا آئی ٹی ڈی آئی جی ذوالفقار حمید کے سر جاتا ہے۔ اس سافٹ ویئر کی بنیاد 2013ء میں رکھی گئی جب حمید لاہور میں ڈی آئی جی تفتیشات کی خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے رقم جمع کرکے چند اینڈرائيڈ کے سمارٹ فونز خریدنے کے بعد لمز سے وابستہ سوشل سائنٹسٹس اور سافٹ ویئر انجنیئرز پر مشتمل ایک ٹیم کی خدمات حاصل کیں۔ اس ٹیم نے لاہور کے کچھ پولیس سٹیشنز میں جرائم کی نقشہ کشی شروع کی اور کچھ ہی عرصے بعد پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے اس پراجیکٹ کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے ان کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ پہلے مرحلے میں صرف لاہور کے تمام پولیس سٹیشنز کی نقشہ کشی کی گئی لیکن آہستہ آہستہ اسے صوبے بھر میں استعمال کیا جانے لگا۔

اس پراجیکٹ کو شہروں میں جرائم کی سب سے زيادہ شرح رکھنے والے علاقہ جات کی نشاندہی میں پولیس کا ہاتھ بٹانے کے لیے متعارف کیا گيا تھا۔ حمید بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں جرائم کی روک تھام کے باعث جرائم کی شرح میں قابل قدر کمی نظر آئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہے کہ جرائم کی زيادہ شرح رکھنے والے علاقوں میں پیٹرولنگ ٹیمز کی موجودگی سے جرائم میں کمی ہوتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر چیما پولیس کی اصلاحات کی تاریخ کے متعلق بتاتے ہیں کہ اس شعبے میں انقلاب کی بنیاد 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں کی دو اہم پیش رفتوں سے رکھی گئی، جس سے پہلے دنیا بھر میں پولیس کے تمام عملیات میں قدیم طریقہ کار ہی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ پہلی پیش رفت کا تعلق پولیس کے جوابی اقدام سے ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں 15، برطانیہ میں 1915 اور امریکہ میں 911 کی ہیلپ لائنز قائم کی جاچکی ہيں۔ تاہم اب جرائم کی نقشہ کشی جیسے اقدام پر زيادہ توجہ دی جارہی ہے جن کی مدد سے جرائم کی پیشگی روک تھام ممکن ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹر چیما بتاتے ہيں کہ اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئر میں جرم کا وقت، جائے وقوع اور نوعیت بہت اہم کردار ادا کرتے ہيں اور اس قسم کے اقدام بڑے شہروں اور ہائی ویز کی اہم ضرورت بنتے جارہے ہيں۔

جرائم کی نقشہ کشی کی مدد سے وسائل کا زیادہ موثر استعمال ممکن ہے۔ حمید کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس جرائم کی زیادہ شرح رکھنے والے علاقہ جات میں زيادہ بھاری تفری تعینات کرسکے گی۔

حمید نے یہ پراجیکٹ متعارف ضرور کیا تھا لیکن اس میں کارکردگی کا تخمینہ اور نگرانی کے ٹولز کی شمولیات کا سہرا آپریشنز ڈی آئی جی حیدر اشرف کے سر جاتا ہے۔

اشرف کی سربراہی میں شہر کے تمام ڈیویژنز میں آپریشنز (Operations) کے کمرے قائم کرکے انہيں ان کے دفتر میں موجود مرکزی آپریشنز کے کمرے سے وائرلیس طور پر متصل کیا گيا۔

اشرف اس وقت کینیڈا میں اپنی تعلیم مکمل کرہے ہيں۔ انہوں نے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بذریعہ ای میل بتایا کہ جرائم کی نقشہ کشی کا نظام متعارف ہونے کے بعد ڈولفن سکواڈ، پولیس ریسپونس یونٹ اور عام افسران کو وارداتوں کے جائے وقوع کو جیوٹیگ کرنے، واردات کے وقت اور نوعیت اور ملزمان اور جرم کا نشانہ بننے والے شخص کی تفصیلات ریکارڈ کرنے اور ثبوت کی تصاویر اپ لوڈ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اس کے بعد یہ معلومات فوری طور پر آپریشنز کے کمرے میں بیٹھی ٹیموں کو دستیاب ہوجاتی ہیں۔ اس طرح پولیس کے عملے کے لیے جرائم کی سب سے زيادہ شرح رکھنے والے علاقہ جات کی نشاندہی کرنا اور جرائم کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدام کرنا ممکن ہوگیا ہے۔

اس کے علاوہ جرائم کی نقشہ کشی کا سافٹ وئیر جرائم کی زیادہ شرح رکھنے والے علاقوں کی معلومات کا تجزیہ کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ پولیس کے عملے کی سہولت کے لیے اس معلومات کو کئی مختلف طریقوں سے پیش کیا جاسکتا ہے۔

پنجاب پولیس اب صوبہ سندھ اور بلوچستان کے پولیس کے محکموں کو یہ پراجیکٹ عملدرآمد کرنے میں معاونت فراہم کررہی ہے۔

محمد شہزاد لاہور میں رہائش پذیر صحافی ہیں۔

تحریر: محمد شہزاد

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top