Global Editions

کلائمیٹ چینج غریب ممالک میں زیادہ جان لیوہ ثابت ہورہا ہے

تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے غربت کے شکار افراد کی جان کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق بھارت کے دارالحکومت دئی دہلی کا شمار جلد ہی ان شہروں میں ہوگا جو گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر زمین کا درجہ حرارت قبل از صنعتی دور کے درجہ حرارت سے دو ڈگری سنٹی گریڈ سے زیادہ نہ بڑھے، تو کلائمیٹ چینج کے بدترین اثرات سے بچا جاسکتا ہے۔ تاہم بھارت میں درجہ حرارت میں آدھے ڈگری کا بھی اضافہ نہ ہونے کے باوجود جان لیوہ گرمی کی لہروں کے خطرے میں دو گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔

سائنس ایڈوانسز (Science Advances) نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق بھارت میں 1960ء اور 2009ء کے درمیان موسم گرما کے اوسط درجہ حرارت میں آدھے ڈگری سنٹی گریڈ کا اضافہ ہوتا رہا ہے، اور اس دوران گرمی کے لہر میں 100 سے زیادہ اموات واقع ہونے کا امکان دگنا ہوگیا ہے۔ یہ کوئی ڈسٹوپیائی منظر نہیں ہے، بلکہ حقیقت پر مبنی صورتحال ہے۔ 2010ء، 2013ء اور 2015ء کی گرمی کی لہروں میں پورے ملک میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے۔ مئی 2016ء میں جیسلمیرمیں بھارت کی شدیدترین گرمی کی لہر ریکارڈ کی گئی، جبکہ مئی 2017ء میں بھارت کے پڑوسی ملک پاکستان میں 53.5 ڈگری سنٹی گریڈ (128 ڈگری فاہرنہائیٹ سے زیادہ) درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا، جو دنیا بھر میں مئی کے مہینے میں ریکارڈ ہونے والا تاریخ کا سب سے زیادہ درجہ حرارت تھا۔

اگر ان ممالک میں رہنے والوں کے پاس گرمی سے بچنے کا طریقہ ہوتا تو شاید اس گرمی کے لہر کے اثرات اس قدر سنگین نہ ہوتے۔ لیکن بھارت میں غربت کا یہ عالم ہے کہ 1.24 ارب کی آبادی میں سے 24 فیصد کی یومیہ آمدنی 1.25 ڈالر ہے، اور ان کے لیے ایئرکنڈیشننگ محض ایک خواب ہے۔ یہی وہ افراد ہیں جو کلائمیٹ چینج سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں اور ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے والا ہے۔ ایک پیشگوئی کے مطابق اس صدی کے اختتام تک بھارت کے درجہ حرارت میں 2.5 سے 5.5 ڈگری تک کا اضافہ متوقع ہے۔

یہ عالمی عدم مساوات پر کلايمیٹ چینج کے اثرات کا صرف ایک نمونہ ہے، اور اس صورتحال کے مزید بگڑنے کی توقع ہے۔ گرمی سے لہر سے زندہ بچنے والے افراد موسم کے دوسرے اثرات جیسے کہ فصلوں کی پیداوار اور اقتصادی نقصانات کا شکار ہوں گے۔

مالدار ممالک اور افراد کے لیے گرمی کے اثرات سے بچنے کے راستے موجود ہیں۔ بلکہ ستم تو یہ ہے کہ چند ٹھنڈے ممالک میں، خصوصی طور پر شمالی یورپی ممالک میں، بڑھتی ہوئی گرمی کی وجہ سے جی ڈی پی میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

لیکن دنیا کے زیادہ تر ممالک میں اسی قسم کی صورتحال متوقع ہے جو بھارت میں اس وقت نظر آرہی ہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں کے حالات خراب ہوں گے، اور اگر اس کی روک تھام کے لیے اقدام نہ کیے گئے تو ان کے پاس اس شدید گرمی سے بچنے کے لیے کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

تحریر: مائیکل رائلی (Michael Reilly)

Read in English

Authors
Top