Global Editions

صاف توانائی اب کوئلے سے بھی زیادہ سستی ہونے والی ہے

توانائی کی صنعت نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے، اور 2021ء تک شمسی توانائی کوئلے سے زیادہ سستی ہوجائے گی۔

صاف توانائی کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کا کوئلے کے استعمال کو دوبارہ شروع کرنے کا خواب پورا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق قیمتوں میں کمی توقعات سے پہلے سامنے آجائیں گے۔

بلوم برگ نیو انرجی فنانس (Bloomberg New Energy Finance) نے آنے والے سالوں میں توانائی کے شعبے میں کیا ہونے والا ہے، اس کی پیشگوئی کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس تجزیے کے مطابق قابل تجدید توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوگی، اور 2040ء تک شمسی توانائی کی قیمت میں 66 فیصد، ساحل سمندر کی ہوا سے حاصل کردہ توانائی کی قیمت میں 47 فیصد کمی، اور ساحل سمندر سے دور ہوا سے حاصل کردہ توانائی کی قیمت میں 71 فیصد کمی نظر آئے گی۔

اب سوال یہ کہ یہ قیمتیں موجودہ توانائی کی ٹیکنالوجیوں کو کس طرح متاثر کریں گی؟ BNEF کے مطابق جرمنی، آسٹریلیا، امریکہ، سپین اور اٹلی میں ابھی سے ہی شمسی توانائی کی قیمت، جو اس وقت سب سے زیادہ ہے، گر کر کوئلے سے حاصل کردہ توانائی کی قیمتوں کے برابر آچکی ہے۔ 2021ء تک چین اور بھارت میں بھی اسی طرح کی صورتحال متوقع ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ صاف توانائی کے استعمال میں یقینی اضافہ نظر آئے گا۔ اس نئی رپورٹ کے مطابق 2040ء تک توانائی کی پیداوار میں 10.2 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جس میں سے 72 فیصد حصہ قابل تجدید توانائی کا ہوگا۔

کوئلہ بس اب چند ہی دنوں کا مہمان ہے۔ برٹش پٹرولیم کی ایک رپورٹ کے مطابق کوئلے کی عالمی مانگ میں متواتر کمی ہورہی ہے، اور 2016ء میں 2015ء کے مقابلے میں 1.7 فیصد کم کوئلہ استعمال ہوا تھا۔ یہ کمی مغرب میں زیادہ نمایاں ہے۔ 2016ء میں امریکہ میں کوئلے کے استعمال میں 8.8 فیصد کمی نظر آئی، جبکہ مملکت متحدہ میں یہ شرح52.5 فیصد تھی۔

BNEF کے مطابق یہ رجحان برقرار رہے گا، اور 2040ء تک کوئلے کے استعمال نہ ہونے کے برابر ہو جائے گا۔ یورپ میں 87 فیصد کمی اور امریکہ میں 45 فیصد کمی دیکھنے کو ملے گی۔ چین میں اس قدر تیزی سے کمی نہیں ہوگی، لیکن توقع کی جاتی ہے کہ 2026ء کے بعد چین میں بھی کمی نظر آنا شروع ہو جائی گی۔ باراک اوباما نے پیشگوئی کی تھی کہ دنیا اب قابل تجدید توانائی سے پیچھے نہیں ہٹنے والی ہے، اور ایسا لگ رہا ہے کہ انھوں نے صحیح ہی کہا تھا۔

اس کے باوجود BNEF کہتے ہيں کہ یہ پیرس کے کلائیمیٹ چینج کے معاہدے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ان کی پیشگوئی کے مطابق 2040ء تک کاربن کے اخراج میں صرف 4 فیصد کمی ہوگی۔ اگر پیرس کے اہداف پورے کرنے ہیں تو اگلے 25 سالوں میں مزید 5.3 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہوگی۔

تحریر: جیمی کونڈلیف (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top