Global Editions

چینی سائنسدان جین ایڈیٹنگ والے بچے تخلیق کر رہے ہیں

جین ایڈیڈنگ کا استعمال کرتے ہوئےبچوں کے ڈی این اے تبدیل کرنے کی سر توڑ کوشش کی جا رہی ہے۔

جب چینی محققین نے سب سے پہلے 2015 میں ایک لیبارٹری ڈش میں ایک انسانی جین میں ترمیم کی تو اس پر عالمی سطح پر احتجاج ہوا اور سائنسدانوں نے فی الحال اس ٹیکنالوجی سے بچے پیدا نہ کرنے کی درخواست کی۔

یہ تخلیق ایک طاقتور جین ایڈیٹنگ والے اوزار سی آر آئی ایس پی( (CRISPRکے ذریعے ممکن ہوئی۔ سی آر آئی ایس پی ایک سستا اور لگانے میں آسان اوزار ہےجس نےوٹرو فرٹیلائزیشن سینٹر(IVF) میں انسانوں کی جین میں ترمیم کے ذریعے پیدائش تھیوری میں ممکن بنائی۔اب، ایسا لگ رہا ہے کہ یہ پہلے سےہی ہو رہا ہے۔

اس ماہ آن لائن پوسٹ کیے گئےچینی میڈیکل دستاویزات کے مطابق ، شینزین میں واقع سائودرن یونیورسٹی آف سائنس اور ٹیکنالوجی کی ایک ٹیم پہلے جین میں ترمیم والے بچوں کو پیدا کرنے کی کوشش کے لئے جوڑے بھرتی کرتی رہی ہے۔ انہوں نے ایچ آئی وی،چیچک اور ہیضہ کی وجہ بننے والے جین CCR5 کو ختم کرنے کے منصوبہ بندی کی ہے۔

سائودرن یونیورسٹی آف سائنس اور ٹیکنالوجی

کلینکل ٹرائل کے مطالعہ کی دستاویزات وضاحت کرتی ہیں کہ سی آر آئی ایس پی ٹول کے ذریعے انسانی ایمبریو میں ترمیم مادر رحم میں منتقل ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔

اس کوشش کے پیچھے سائنسدان ہی جینکوئی(He Jiankui) نےسوالات کی ایک فہرست کا جواب نہیں دیا تھا کہ آیا یہ پیدائش لائیو ہوئی تھی۔ ٹیلی فون پر نہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

تاہم ٹرائل لسٹنگ میں جمع کرائے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جینیاتی ٹیسٹ مادر رحم میں 24 ہفتوں یاچھ مہینے کے بچوں پر کیا گیا۔یہ معلوم نہیں ہے کہ ٹیسٹ کے بعداس حمل کو ختم کر دیا گیا ہے یا مدت پوری کی گئی، یا یہ جاری ہے۔

( یہ خبر شائع ہونے کے بعد، ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ ہی جینکوئی کے مطابق، اس ٹرائل میں ایک جوڑے نے اس مہینے میں جڑواںلڑکیوںکو جنم دیا تھا، تاہم ایجنسی نے اس دعویٰ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی۔ہی جینکوئی نے اپنی پروجیکٹ کے بارے میں ایک پروموشنل ویڈیو بھی جاری کی)۔
پہلے جینیاتی تبدیلی والے انسان کی پیدائش ہی جینکوئی اور چین دونوں ہی کے لئے ایک شاندارمیڈیکل کامیابی ہوگی۔ لیکن یہ بھی متنازعہ ثابت ہوگی۔ جہاں لوگ جینیاتی بیماریوں کو کو ختم کر نے کے لئے لڑ رہے ہیں، دوسرے ڈیزائنر بچوں اوربنی نو انسان کی ایک نئی شکل کے لئے کام کر رہے ہیں۔

انسانوں میں جینیاتی تبدیلی کی طرف قدم رازداری میں اٹھایا گیا اور اس کا واضح مقصدمیڈیکل میں واضح برتری ثابت کرنا تھا۔

ہی جینکوئی اور اس کی ٹیم نے پچھلے سال اپنے بیان میں کہا،"جین ایڈیٹنگ کے لئے ایپلی کیشنز کی تلاش میں ہمیں امید ہے کہ ہم کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے پیش گوئی کی ہے کہ ان کی ایجاد وٹرو فرٹیلائزیشن سے آگے کی ایجاد ہو گی جس کے ڈویلپر کو 2010 میں نوبل انعام دیا گیا تھا۔

جین میں ترمیم کا سمٹ

جین میں ترمیم کا دعویٰ چین کی طرف سے ایک ایسے وقت میں آ رہا ہے جب پوری دنیاکے معروف ماہرین انسانی جینوم میں ایڈیٹنگ پر ہونے والے دوسرے بین الاقوامی سربراہی اجلاس کے لئے ہانگ کانگ میںاکٹھے ہو رہے ہیں۔

بینالاقوامی اجلاس کا مقصد اس بات کا تعین کرنے میں مدد کرنا ہے کہ انسان کو جینیاتی طور پر خود کو ترمیم کرنا شروع کرنا چاہیے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو کس طرح ہی جینکوئی کے کام سے پتا چلتا ہے کہ اس مقصد کو حاصل کرنا ہے۔ ہی جینکوئی ایک ایلیٹ ماہر حیاتیات ہیں جن کو چین نے امریکہ سے اپنے ہزار ٹیلنٹ پلان(Thousand Talent Plan) کی تکمیل کے لئے واپس بلایا تھا۔

ٹیکنالوجی میں اخلاقیات کو بہت اوپر رکھا جاتا ہے کیونکہ مستقبل کی نسلوں کے جین میںکی گئی تبدیلی بالاخر پورے جین پول کو متاثر کر سکتی ہے۔ کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سابق صدر اور ماہر حیاتیات ڈیوڈ بالٹمور نے انٹرنیشنل سمٹ کی تقریب کی صدارت سے پہلے اپنے ایک پری ریکارڈڈ پیغام میں کہا، "ہم کبھی بھی کچھ ایسانہیں کریں گے جو انسانی نسل کی جین کو تبدیل کردے گا، اور ہم ایسا کبھی نہیں کریں گے جس کے اثرات آنے والی نسل پر پڑ جائیں۔" ایسا لگتا ہے کہ سمٹ کے منتظمین کو ہی جینکوئی کے منصوبوں کے حوالے سے اندھیرے میں رکھا گیا۔

افسوس اور تشویش

ایک مخصوص سائز کےانسانی ایمبریو میں جینیاتی ترمیم پر اہم خطرات پیدا ہوتے ہیں جس میں ناپسندیدہ متغیر ات کےمتعارف ہونے کا خطرہ یا بچے میں کچھ ایڈییٹد اور کچھ ان ایڈیٹڈ خلیات کے رہ جانے کا خطرہ ہے۔ چینی آزمائشی سائٹ پر ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ جین میں تبدیلی سے ایک بچے کے خلیات کی شکل "موزیک" بن گئی ہے جس کے خلیات میں مختلف طریقے سے ترمیم کی گئی تھی۔

سیئٹل میں واقع ایک غیر منافع بخش تنظیم الٹیس انسٹی ٹیوٹ برائے میڈیکل سائنسز کے ایک ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر اور جین ایڈیٹنگ سائنسدان فیوڈور ارنوف(Fyodor Urnov)نے چینی دستاویزات کا جائزہ لیا اور کہا کہ یہ نامکمل ہیں اور، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ " تبدیل کئے گئے جین سے انسان پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ارنوف نے اس حقیقت پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا کہ جین ایڈیٹنگ ایک طاقتور اور مفید تکنیک ہےلیکن یہ غیر ضروری استعمال کی گئی۔ "درحقیقت، یہ مطالعہ ایڈز سے متاثرہ بالغوں میں پہلے سے ہی کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انسانی جینوم میں تبدیلی کی جینیاتی انجینئرنگ میں ایک مشکل وضاحت ہے۔یہ ایک دہائی سےعوام کے ذہن پر ہے اور بڑے پیمانے پر بالغوں اور بچوں میں پہلے سے موجود
بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

بڑا پراجیکٹ

2017 میں کولڈسپرنگ ھاربر لیبارٹری (Cold Spring Harbor Laboratory)کی ایک سائنسی پریزنٹیشن میں، جویو ٹیوب پر پوسٹ ہے،ہی جینکوئی نے چوہوں، بندروں اور 300 سے زائد انسانی ایمبریوز پر ابتدائی تجربات کی ایک بہت بڑی سیریز بیان کی ہے۔ ایک بہت بڑی سیریز بیان کی ہے۔ سی آر آئی ایس پی کا ایک خطرہ یہ ہے کہ یہ حادثاتی یا آف ٹارگٹ متغیرات متعارف کرا سکتا ہے۔ لیکن ہی جینکوئی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نےٹیسٹ کئے گئے ایمبریوز میں کوئی ناپسندیدہ تبدیلی نہیں پائی ہے۔

ہی جینکوئی ڈی این اے ٹھیک کرنے والی کمپنی ڈائریکٹ جینومکس کے چیئرمین اور بانی ڈائریکٹر ہیں۔

بائیوٹیک کمپنیوں کی ایک نئی نسل بچوں کی صحت کو فروغ دینے کے نئے طریقے لا کر بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

کلینکل ٹرائل پلان کےمطابق، جینیاتی پیمائش ایمبریوزپر کی جائے گی اور حمل کے دوران بچے کا سٹیٹس چیک کیا جائے گا۔ اپنی 2017 کی پریزنٹیشن کے دوران، انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر سی آئی آر ایس پی تکنیک سے پہلے پیدا ہونے والے بچے صحت مند نہیں تھے تو یہ ایک بڑی آفت ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ہمیں یہ کام سست اور محتاط رہ کر کرنا چاہئے کیونکہ ناکامی کا واحد کیس پورے فیلڈ کو مار سکتا ہے۔"

مطالعہ کی تفصیل کی لسٹ نومبر میں پوسٹ کی گئی لیکن دیگر ٹرائل کے دیگردستاویزات مارچ 2017 کے ہیں۔ صرف اس ایک مہینے میں نیشنل اکیڈمی آف سائنسز نے امریکہ میں جین میں ترمیم شدہ بچوںکی حمایت تھی اگرچہ وہ بھی حفاظت اور سخت نگرانی میں۔

اس وقت، جین میں ترمیم والا حمل یورپ کے بہت سارے علاقوں میں غیر قانونی ہے اور امریکہ میں اس پر پابندی ہے۔ آئی وی ایف کلینکوں کو 2003 میں وزارت کے تحت دی گئی ہدایات کے مطابق چین میں یہ بھی منع ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ ہی نے یہ کام خصوصی اجازت لے کر کیا ہے یا ہدایات کو نظر انداز کرکے۔

حالیہ ہفتوں میں، ہی نے ایک مہم چلائی ہے جس میں اس نے اخلاقیات کے مشیروں سے بات کی ہے، چین میں ایک عوامی سروے کروایا ہے اور ایک امریکی پبلک ریلیشن پروفیشنل ریان فئیریل کی خدمات حاصل کی ہیں۔

ہانگ کانگ سمٹ میں شرکت کرنے والے ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ایک بائیو ایتھیسٹ بن یامین ہرلبٹ کہتے ہیں کہ "میرا خیال یہ ہے کہ مستقبل میں خود کی حدود متعین کرنے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔"

سن یتن سین یونیورسٹی(Sun Yat-Sen University) کے ذریعہ کئے گئے ایک عوامی سروے نے لوگوں نے جینی ترمیم کے لئے وسیع حمایت کی۔یہ سیمپل4700افراد پر مشتمل تھا اور اس میں جواب دہندگان کاایک گروپ ایچ آئی وی پازیٹوتھا۔

60 فیصد سے زائد لوگوں نے جین میں ترمیم والے بچوں کی قانونی حمایت کی اگر مقصد بیماری کا علاج یا روک تھام ہو۔(پیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے کرائے گئے پول نے جین ایڈیٹنگ کے لئے امریکہ میں اسی طرح کی حمایت حاصل کی ہے) ہی کی سی آر سی 5 نامی جین میں ترمیم کرنے کا انتخاب متنازعہ بھی ہو سکتا ہے۔ بغیر ایچ آئی وی جین کے کام کی کاپیوں والے لوگ اس انفیکشن سخت مدافعتی نظام رکھتے ہیں۔ تاہم، وہی ایمبریو پیدا کرنے کے لئےہی کی ٹیم سی سی آر 5 جین کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔

ایچ آئی وی سے محفوظ بچوں کو پیدا کرنے کی کوشش اخلاقی لحاظ سے گرے ایریا میں آتی ہے کیونکہ اس عمل میں کسی بیماری کا علاج یا ایمبریو کے ڈس آرڈر کی خرابی کو ٹھیک نہیں کیا جاتا۔ لیکن اس کے بجائے صرف صحت کا ایک فائدہ لیا جاتا ہے جیسے ایک ویکسین چیچک سے بچاتی ہے۔

ایچ آئی وی کے مطالعہ کے لئے، ڈاکٹروں اور ایڈز گروپ نے چینی جوڑوں کو بھرتی کیا جس میں یہ آدمی ایچ آئی و ی پازیٹو تھا۔ چین میں انفیکشن ایک بڑھتاہوا مسئلہ ہے۔

اب تک ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جین ایڈیٹنگ کو "ڈیزائنر بچے" بنانے کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے جس سے ان کی جسمانی شکل یا شخصیت تبدیل ہوگئی ہے۔

ہی نے ان خدشات کا اندازہ لگایا ہے جو اس کے مطالعے سے سامنے آ سکتے ہیں ۔ ہی نے نومبر میں سماجی میڈیا سائٹ وی چیٹ پر پوسٹ کیا،"میں بیماری کے علاج اور روک تھام کے لئے جین ایڈیٹنگ کی حمایت کرتا ہوں لیکن یہ چیزآئی کیو میں بہتری کے لئے نہیں ہےجو معاشرے کے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔"
پھر بھی، ایچ آئی وی والے سی آر سی 5 جین کو ہٹانے سے بچے کی وراثت تبدیل ہو گی اور اس کا ہٹانا اچھی چیز نہیں ہے۔ایچ آئی وی انفیکشن کو روکنے کے لئے آسان اور کم مہنگے طریقے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، آئی وی ایف میں جین کی ترمیم ایک مہنگا اور ہائی ٹیک طریقہ ہے اور دنیا کے بہت سے غریب علاقوں میں ناقابل پہنچ ہے جہاں ایڈز کی شدت ہے۔

ایک شخص جو ہی کو جانتا ہے، کا کہنا ہے کہ ہی کے سائن ی مقاصد چین میں موجودہ سماجی رویوں کے مطابق ہیں۔

چینی ٹرائل کے پیچھے کچھ باصلاحیت اور بہادرسوچ ہے کہ کس طرح ارتقاء سائنس کی تشکیل ہو رہی ہے۔اگرچہ قدرتی طور پر سی آر سی 5 کو ختم کرنے والا قدرتی میوٹیٹشن یورپ کے کچھ حصوں میں عام پایا جاتا ہے لیکن یہ چین میں نہیں پایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں جینیاتی خصوصیات مختلف ہے۔ کچھ حصوں میں کوئی اور خصوصیات ہیں اور کچھ میں اور۔ اس کا مطلب ہے جینیاتی انجینئرنگ کیسے مختلف جگہوں میں ہے۔دنیا کے ایک حصے میں سائنس کا ارتقا کل کے بچوں کے کام آسکتا ہے۔

اس طرح کی سوچ مستقبل میں لوگوں میں خوش قسمتی کے جین ڈال سکتی ہے جس سے وہ دماغ کی بیماریوں، دل کی بیماریوں اور دوسری مہلک امراض سے بچ سکتے ہیں۔

ہی کی ایک تعلیمی ویب سائٹ کا متن ظاہر کرتا ہےکہ وہ ٹیکنالوجی کو تاریخی اور تبدیلی کے لحاظ سے دیکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے،"اربوں سال زندگی کا ارتقاء ڈارون کے نظریہ کے مطابق ہوا ہے۔"

حال ہی میں،انڈسٹرلائزیشن نے ماحول کو تبدیل کر دیا ہے جس سے انسانیت کے لئے عظیم چیلنج سامنے آ گئے ہیں اور انسانیت اس ارتقا کا مقابلہ طاقتور اوزار سے کر سکتی ہے۔

یہ اس طرح اختتام پذیر ہوتا ہے، "جین والی بیماری والی درست کرکے … ہم تیزی سے بدلنے والے ماحول میں انسانوں کی زندگی کو بہتربنا سکتے ہیں۔"

'تحریر:انٹونیو ریگالڈو

Read in English

Authors
Top