Global Editions

چین کی خبروں کی ایپلی کیشن توتیاؤ(Toutiao)مصنوعی ذہانت کا استعمال کررہی ہے۔

چین میں خبروں سے متعلق نئی ایپلی کیشن توتیاؤ (Toutiao)متعارف کروائی گئی ہے جس کے تحت صارفین کو خبروں کی سرخیاں (Headlines)فراہم کی جاتی ہیں۔ توتیاؤ کا مطلب بھی ہیڈلائن ہے۔ توتیاؤخبروں کی ہیڈلائن کے انتخاب کیلئے مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتی ہے۔ اس ایپلی کیشن کے متعلق میرا نہیں خیال کہ آپ نے کبھی سنا ہو گا جبکہ اس کے 600ملین صارفین ہیں۔ ان میں سے 60ملین صارفین روزانہ ایکٹو رہتے ہیں۔ توتیاؤ دراصل بائیٹ ڈانس (Bytedance)کی ذیلی کمپنی ہے۔ بائیٹ ڈانس میں 2014ء میں 500ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی اور حالیہ سروے کے مطابق اس کی مالی قدر 10ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ جب آپ ایپلی کیشن کو کھولتے ہیں تو آپ کو خبروں کی ہیڈلائن کے ساتھ نیوز ویڈیوز بھی ملتی ہیں جنہیں آپ کھول کر پڑھ یا دیکھ سکتے ہیں۔ آپ جن خبروں یا ویڈیوز کو کلک کریں گے توتیاؤ کی مصنوعی ذہانت کو آپ کے مزاج ، پسند ناپسند کا علم ہوتا جائے گا اور ایپلی کیشن آپ کو روزانہ ویسی ہی نیوز اور ویڈیوز بھیجے گی۔ رائیٹر لکھتے ہیں کہ جب میں نے پہلی بار اس ایپلی کیشن کو کھولا تو سب سے اوپر معیشت سے متعلق خبر تھی اس کے بعد بیجنگ میں آلودگی کی سطح کے بارے میں بتایا گیا تھا ، پھر ایک ویڈیومیں کامیڈین سموگ کے بارے میں بات کرتا ہوا نظر آیا۔ اس کے نیچے کسی مقبول ایکٹرس کے عشق کے بارے میں کہانی چھپی ہوئی تھی۔ جبکہ ایک خبر دیہاتی لوگوں کیلئے بھی تھی۔ آئندہ سال توتیاؤ کی ایپلی کیشن کو مصنوعی ذہانت مزید بہتر بنا کر بین الاقوامی سطح پر لانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے اور اس کا حتمی ہدف فیس بک اور ٹوئیٹر کے مقابلے میں نمبر ون بننا ہے۔ لائی لی (Lie Li)توتیاؤمیں مصنوعی ذہانت کے سربراہ ہیں۔ وہ اس سے پہلے چین کی انٹرنیٹ کمپنی بیدو میں کام کرتے تھے۔ لائی لی کی ٹیم نے صارفین کیلئے خبریں تجویز کرنے کے علاوہ ایک مصنوعی رپورٹر ژیومنگ (Xiaoming)بھی بنایا ہے جو یورپ میں سوکر کی خبریں دیتا ہے۔ لائی کی ٹیم یاہو اور کورا کی طرح صارفین کے مختلف سوالوں کا جواب دینے کیلئے بھی کام کررہےہیں۔ لائی کہتے ہیں کہ ہم حقیقتاً صارفین کے سوال و جواب کے مسئلے کو مشینی سیکھنے کے عمل کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ توتیاؤ کے پاس جعلی خبروں کی شناخت کرنے کا سسٹم بھی موجود ہے۔ سنگہوا (Tsinhua)یونیورسٹی کے پروفیسر جی تینگ (Jie Tang)کا کہنا ہے کہ توتیاؤ جیسے جیسے مقبول ہوتی جائے گی اسے اپنی خبروں کے معیار اور پیش کش کو بہتر سے بہتر کرنا پڑے گا۔

بائیٹ ڈانس نے ٹاپ بز (Top Buzz)کے نام سے ایک انگریزی کی بھی ایپلی کیشن متعارف کروائی ہے۔ اس کا مستقبل میں منصوبہ مختلف ملکوں کی مقامی میڈیا کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کرنے کا ہے۔ گزشتہ سال بائیٹ ڈانس نے بھارت کی ڈیلی ہنٹ نامی کمپنی میں 25ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ گزشتہ ستمبر میں توتیاؤ نے چین کی کامرس ویب سائیٹ جے ڈی سے معاہدہ کیا جس سے صارفین ایپلی کیشن کے ذریعے مختلف مصنوعات کی خریداری کرسکتے ہیں۔ سیکواؤ کیپٹل چائنہ اور روس کے ارب پتی یوری ملنر نے توتیاؤ میں سرمایہ کاری کررکھی ہے۔

تحریر: وِل نائیٹ (Will Night)

Read in English

Authors
Top