Global Editions

چین میں سماجی کریڈٹ سکورنگ کا نیا نظام متوقع

ٹیکنالوجی شہری آزادی سلب کرنے کی طرف لے جا سکتی ہے۔

2020 تک چین میں سماجی کریڈٹ سکورنگ کا نیا نظام متوقع ہے جو کہ ہر شہری کو شاپنگ عادات سے دوستوں کے انتخاب تک ہر چیز پرایک قابل اعتماد ہونے کی درجہ بندی دے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک یہ چیز ایک آمرانہ حکومت کو اپنےشہریوں کو کنٹرول کرنے کا کرنے کا بہترین آلہ کار ہو گی۔ آمرانہ حکومتوں نے ہمیشہ نگرانی کرنے والی ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی کی ہے لیکن چین کے معاملے میں بڑے ڈیٹا کا استعمال ملک کو کم جابرانہ بنا تاہے۔

چین میں رازداری اب ایک چیز ہے

کچھ سال قبل، بوسٹن گلوب کے ایک مضمون میں "کس طرح رازداری ایک امریکی ویلیو بنی" میں مؤرخ اور مصنف ٹیڈ ویمر نے تفصیلی وضاحت کی کہ کس طرح امریکیوں نے برطانیہ سے احساس رازداری وراثت میں لیا ور اس پر زور دیایعنی "اپنے آپ تک رہنا"۔ آمدنی، صحت، اور تفریحی والے معاملات عام طور پر نجی سمجھے جاتے ہیں اور حکومت کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ امریکی آئین میں چوتھی ترمیم نے " غیر مناسب تلاشیاں ور ضبطگیوں" کو روک دیا ہے اور امریکیوں سے وعدہ کیا ہےکہ ان کو کو حق ہے کہ وہ" افراد کے طور پرگھروں، کاغذات اور اثرات میں محفوظ رہیں۔ "

اگرچہ اس چیز کو عمومی قرار دینا خطرناک ہے، یہ کہنا درست ہے کہ چینی اور مغربی شہری رازداری، انفرادی حقوق، اور آزادی اظہار کو حیثیت دینے میں مختلف ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ چینی لوگ ان چیزوں کی قدر نہیں کرتے ہیں؛بات صرف یہ ہے کہ وہ اقتصادی ترقی اور آمدنی جیسی چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ (مغرب میں بھی لوگ کبھی بھی دوسرے فوائد کے لئے اپنے حقوق کی تجارت کرنے کے لئے تیار ہوتےہیں۔ذاتی فنانس کی ویب سائٹ ریڈیبل(Credible) کی طرف اس سال کے آغاز میں کیے گئے سروے میں تقریباً نصف امریکیوں کا کہنا تھاکہ کہ وہ اگلے دو صدارتی انتخابات میں طالب علموں کے قرض معاف کرنے کے بدلے میں اپنا ووٹ دینا ترک کر دیں گے۔

چین کے افراد کے مختلف رویہ کی ایک وجہ یہ ہے کہ حال ہی میں 1980 تک لفظ "رازداری" کا چینی میں غلط مطلب لیا جاتا تھا۔ چینی روایات2000ء سال کی کنفیوشن ثقافت پر قائم ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی شدت کو اہمیت دیتے تھے۔ ان تعلقات کو مضبوط کرنے کا ایک طریقہ شفافیت اور مکمل رازداری کو ایک دوسرے پر کھولنے سے ہے۔ ایک ایسی صورت حال جو رازداری کا تقاضہ کرتی ہے وہ ہے عام طور پر ناپسندی کی جاتی ہے۔ اگر کچھ اچھا ہے تو ہمیںکیوں نہیں بتایا؟ اس تناظر میں رازداری رکھنا ایک گندے راز کی حفاظت کے مساوی ہے۔معاملہ کو نجی رکھنا معاشرے سے علیحدہ ہونے والی بات ہے۔

اگر کچھ اچھا ہے تو ہمیں کیوں نہیں بتایا؟  چین میں بگ ڈیٹاٹیکنالوجی نے رازداری کے حوالے سےہر چیز سے بڑھ کر کافی شعور پیدا کیا ہے یہاں تک کہ جی ڈی پی کی ترقی، گلوبلائزیشن، اور شہرکاری سے اتنا فرق نہیں پڑا۔

اس کا سبب یہ ہے کہ بڑے ڈیٹا نے کنفیوشین ثقافت سے ذاتی پیار کو توڑنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ وی چیٹ (WeChat) پر، آپ ہزاروں افراد جن کوآپ بمشکل جانتے ہیں ،دوستی کر سکتے ہیں۔ علی بابا پر آپ ان لوگوں کے ساتھ کاروبار کر سکتے ہیں جنہیں آپ تب بھی نہ پہچانیں جب وہ آپ کے گھر پر دستک دیں۔ ڈیجیٹل معیشت ایک غیر معمولی حد تک ذاتی نہیں ہے اور نتیجہ کے طو رپر پرانا کنفیوشن سماجی معاہدہ جو آپ کو آپ کے ہمسایوں کو بھی سب کچھ بتانے کا پابند بناتا تھا، ختم ہو گیا ہے۔اگرچہ یہ رازداری کے لئے خطرہ بھی ہے، بڑا ڈیٹا رازداری کے تصور پر بے مثال توجہ دیتا ہے۔  طویل عرصے میں یہ ایک ایسی طاقت ہوسکتا ہے جو بڑے بھائی(Big Brother) کو کمزور کر سکتا ہے۔

بہتر یا کس سے زیادہ برا؟

چین میں نگرانی کا کلچر بڑے ڈیٹا کے اضافے سے بھی پہلے موجود تھا۔ اپنی کتاب حکومت اگلے دروازے پر (The Government Next Door)میں لوگی ٹومبا تفصیل سے بتاتے ہیں کہ کس طرح چین کی سیاست کا پڑوسی کی سطح تک انتظام ہے۔ رہائشی کمیونٹیوں کی پڑوس کی نگرانی کمیٹیوں کی طرف سے نگرانی کرائی جاتی ہے جس میں نیم سرکاری افعال شامل ہوتے ہیں: اختلافات کی رپورٹنگ، تنازعے کا حل، حکومت کے حق میں اور حکومت کے خلاف درخواستوں کا انتظام۔. یہ کام ریٹائرڈ بزرگ خواتین کرتی ہیں جن کو وال سٹریٹ جرنل کے سابق رپورٹر ایڈی اگناٹئش (Adi Ignatius) نےچھوٹے پائوں والی کے بی جی(small-feet KBG) کہا تھا۔

(روایتی طور پرچین میں پیدائش کے وقت خواتین کے پیر بندھے ہوتے ہیں) ۔سوال یہ ہے کہ آیا نگرانی اور ٹیکنالوجی کے ذریعہ جبر ٹھیک ہے یا ذاتی مداخلت میںبدتر ہے۔

چھوٹے پائوں کی کے بی جی کا سب سے اہم کردار چین میں ایک بچے کی پالیسی کو نافذ کروانا تھا۔چین میں فرٹیلٹی کی شرح ڈرامائی طور پر گر گئی جب یہ پالیسی1979سے2015 نافذ رہی۔ یہ اس چیز کا ثبوت تھی کہ ذاتی نگرانی کی مؤثریت کتنی رہی۔

قدیم چین میں ایک مشترکہ ذمہ داری کا نظام تھا جس کے تحت تین سے پانچ گھروں کو ایک ساتھ جوڑا گیا۔ اگر ایک خاندان کا ایک فرد جرم کا مرتکب ہوتا تو تمام گھروں کو سزا دی گئی۔ ثقافتی انقلاب کے دوران، سیاسی مخالفین کی سزائیں باقاعدہ طور پر ان کے قریبی رشتہ داروں کو دی گئیں۔
سیاسی نظام نے انفرادی سرگرمیوں پر ڈیٹا کی کمی کی وجہ سے اختلائے رائے کو سختی سے روکا۔

بڑے ڈیٹا کو خطرہ ہو گا اگر چینی شہریوں کواس کے بغیر شہری اور سیاسی آزادی نہیں دی جاتی۔

لیکن چین میں بڑے ڈیٹاکے ساتھ یا اس کےبغیر آمرانہ اور جابرانہ نظام رائج ہے۔ٹیکنالوجی نےاس جبر کو مزید واضح کر دیا ہے۔

ٹریفک بہت مہنگی ہے

اس سال کے آغاز میں دی لیٹ شو(The Late Show) کے ایک حصے میں مزاحیہ اداکارسٹیفن کولبرٹ نے اپنے سامعین کو بتایا کہ چین میں سماجی کریڈٹ اسکور کے باعث شہریوں کے گرد گھیرا تنگ ہو گا۔ یہ بات سننے میں سخت ہوسکتی تھی لیکن پھر کولبرٹ واضح طورکبھی بیجنگ نہیں گیا ۔

چین کی سب سے بڑی آن لائن کمپنی علی بابا چین کی سخت ٹریفک سےمقابلے کے لئے کلاؤڈ کمپیوٹنگ کا استعمال کر رہی ہے۔ 2016 میں، کمپنی نے اپنے ہیڈکوارٹر ہانگزو کے قریب ایک ٹریفک مینجمنٹ سسٹم سٹی برین متعارف کرایا۔ گوگل میپس کے برعکس، سٹی برین پروجیکٹ نےسٹی گورنمنٹ کے ساتھ اشتراک کیا۔ یہ نظام ٹریفک کے واقعات کے ویڈیو فوٹیج اور نقل و حمل بیوروز کے نظام میں ٹیپ کر سکتے ہیں۔ میونسپل گورنمنٹ سٹی برین پر انحصار کرتا ہے تاکہ ہنگامی گاڑیوں کے لئے بہترین راستے کی شناخت اور نئی سڑکوں اور بس کے راستوں کی منصوبہ بندی کی جائے۔

مائٹی سٹی برین کو بگ برادرش کے لئےاستعمال کیا جا سکتا ہے؟ شاید، لیکن چین کی ٹریفک میں تیزی سے ہسپتال کی ایمرجنسی میں مریضوں کو پہنچانا کم فائدہ نہیں ہے۔ چینی کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق، 2017 میں ٹریفک کی تعداد میں اضافہ تقریباً شہریوں کی 20 فیصد ڈسپوزایبل آمدنی یا چین کے جی ڈی پی کا تقریباً 5 سے 7 فی صد ہے۔ چین میں تقریباً 20 فی صد گیسولین ضائع ہو جاتا ہے۔

بگ ڈیٹا ٹیکنالوجی کے ذریعہ حاصل کردہ سماجی فوائد سیاست میں نیچے نہیں لے جاتے۔سوال یہ ہے : کہ یہ نیچے کس طرح ہے اور اگر اوپر ہے تو کس طرح ہے؟

تحریر: یاشھنگ ہوانگ

Read in English

Authors
Top