Global Editions

مصنوعی ذہانت کی صورت حال کافی پریشان کن ہے: چینی ٹیکنالوجی کے ماہرین کی تنبیہہ

مصنوعی ذہانت نہ صرف بے روزگاری کی وجہ بنے گی، بلکہ ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے بین الاقوامی تعلقات کی شکل بھی تبدیل ہوجائے۔

پچھلی چند دہائیوں میں چین کی معیشت اور معاشرے میں زبردست قسم کی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ لیکن کیا چین مصنوعی ذہانت کے دوسرے اثرات کے لیے تیار ہے؟

میں نے حال ہی میں چین میں جدید ترین مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی اور مصنوعات تیار کرنے والے ریسرچرز کے ساتھ کافی وقت گزارا۔

چین کے ریسرچرز کے بڑھتے ہوئے عزائم اور چین میں ٹیکنالوجی کے متحرک منظرنامے کے بعد اب لوگ بے روزگاری پر مصنوعی ذہانت کے اثرات پر بات کرنے لگے ہيں۔ چند سال پہلے یہ اس قدر پریشانی کا باعث نہيں تھا۔ لیکن اب صنعتی کانفرنسز میں سوالات و جوابا اور مذاکرات کے دوران بے روزگاری کا بھی مسئلہ اٹھایا جارہا ہے۔

ممکن ہے کہ اس میں چین کی گزشتہ زبرست ترقی کی رفتار میں کمی کا ہاتھ ہو۔ لیکن میرے خیال میں اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اب دنیا بھر میں بزنس کے بانیوں کو احساس ہونے لگا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مالی اور سماجی طور پر کافی گہرا اثر ہوگا۔

چین کے نمایاں ترین ٹیکنالوجی کے ماہرین کو اس کا شدت سے احساس ہے۔

علی بابا کے سی ای او جیک ما نے ڈیٹرائٹ میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں خطاب کے دوران کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے چین اور امریکہ دونوں ممالک میں کئی لوگ اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، جس سے دونوں ممالک میں جنگ بندی کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ کئی کتابوں میں بھی اس مسئلے پر بات کی گئی ہے، لیکن ان کتابوں میں مزید پیچیدگیاں پیدا کرنے والی ٹیکنالوجیز کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

سنو ویشن وینچرز (Sinnovation Ventures) نامی وی سی کمپنی کے مصنوعی ذہانت کے لیب کے چیئرمین، تکنیکی ماہر اور ماہر تعلیم کائی فو لی (Kai-Fu Lee) نیو یارک ٹائمز میں لکھتے ہيں کہ آنے والے سالوں میں مصنوعی ذہانت وسیع پیمانے پر بے روزگاری کا باعث بنے گی۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے بین الاقوامی عدم مساوات میں اضافہ ہوگا، اور عالمی تعلقات درہم برہم ہو کر رہ جائیں گے۔ چین اور امریکہ میں بھی ملازمتیں ختم ہوں گی، لیکن اس شعبے میں نمایاں مقام حاصل ہونے کی وجہ سے ان انقلاب کا سب سے زیادہ فائدہ بھی ان ہی دونوں ممالک کو ہوگا۔ اس سے انھیں عالمی مصنوعی ذہانت کے سوپر پاورز کا مقام حاصل کرنے کا موقع مل سکے گا، جو اربوں صارفین کے ڈیٹا سے فائدہ اٹھا کر ہماری زندگی کو متاثر کرنے والی سافٹ ویئر کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ دوسرے ممالک پر اس کا کیا اثر ہوگا، انھیں اس بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔

مشینیں متعارف کروانے اور مصنوعی ذہانت کے معیشت اور معاشرتی اثرات کی پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن یہ پریشانی کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ آنے والے سالوں میں لوگ امریکہ اور چین دونوں ممالک میں روزگار کے منظرنامے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، اس کی اہمیت میں اضافہ ہوجائے گا۔

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top