Global Editions

ہواوے مصنوعی ذہانت میں امریکہ کو مات دینے کے لئے پرعزم

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی کے باوجود، ہواوے(Huawei) مصنوعی ذہانت کے میدان میں کسی بھی دوسری کمپنی سے زیادہ کام کر رہی ہے۔

چین کی مشکلات میں گھری ٹیکنالوجی کمپنی کے سی ای او اور بانی رین ژینگفی(Ren Zhenfei) اپنی کمپنی کو امریکی قوانین اور پابندیوں سے روکنے کے لئے پر عزم ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں رین نے کہا ، " امریکہ کے پاس ہمیں کچلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔دنیا ہمیں نہیں چھوڑ سکتی کیونکہ ہم زیادہ جدید ہیں۔"

یہ بات شائد بھڑک لگے لیکن ان الفاظ سے سچ کی پیمائش ہوتی ہے۔ہواوے کا ٹیکنالوجی روڈ میپ ، خاص طور پر مصنوعی انٹیلی جنس کے میدان میں، ایک ایسی کمپنی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو دنیا میں کسی اور کاروبار ی کمپنی کے مقابلے میں تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے اور زیادہ ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے۔مصنوعی ذہانت میں اپنی خواہشات کے علاوہ، ہواوے اگلی نسل کے 5G وائرلیس نیٹ ورکنگ میں اہم کھلاڑی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سام سنگ کے بعد دوسری بڑی سمارٹ فون بنانے والی کمپنی ہے۔(ایپل سے آگے ہے۔)

واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے ایک تھنک ٹینک چائنہ ایٹ نیو امریکہ میں سائبر سیکورٹی میں سپشلائزیشن کرنے والے سیم سیک Sam Sack) ) کہتے ہیں، "(چینی) حکومت اور نجی شعبے کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ایسی کمپنیاں بنائی جائیں جو ٹیکنالوجی کے میدان میں پوری دنیا کا مقابلہ کریں۔ ہواوے یہ سب کچھ کر رہی ہے"۔

لیکن یہ ہواوے میں مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی ہے جو اسے ٹیکنالوجی کے میدان میں برتری دے گی۔ یہ بھی سیکورٹی کے مسائل لائے گی۔ کمپنی کی ٹیکنالوجی ہر جگہ موجود ہے اور حقیقت یہ ہے کہ چینی کمپنیاں بالآخر اپنی حکومت کو جواب دہ ہیں۔ اس وجہ سے امریکہ ہواوے کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ایم آئی ٹیکنالوجی ریویو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ہواوے بورڈ کے ڈائریکٹر ا ور کمپنی کے چیف سٹریٹیجی اور مارکیٹنگ آفیسر زو زینویXu Wenwei) ) مصنوعی ذہانت کےمنصوبوں کے بارے میں کافی پرجوش تھے۔ انہوں نے سیکورٹی پر کمپنی کے ریکارڈ کا بھی دفاع کیا اور انہوں نے وعدہ کیاکہ ہواوے باقی دنیا کے ساتھ رابطہ کرکے مصنوعی ذہانت کی وجہ سے خطرات اور دھمکیوں کا ازالہ کریگی۔

زو ( جومغربی نام ولیم زو استعمال کرتے ہیں) نے کہا کہ ہواوے مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری میں اضافے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور کمپنی مصنوعی ذہانت کا بھر پور استعمال کرنا چاہتی ہے۔ چونکہ ہواے ایک نجی کمپنی ہے، اس کی مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کو جانچنا تھوڑا مشکل ہے۔
لیکن کمپنی کے حکام نے گزشتہ سال کہا ہے کہ وہ ریسرچ اور ڈویلپمنٹ میں اپنی سرمایہ کاری کوڈبل کرکے پندرہ اور بیس بلین ڈالر تک لانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔اس سے یہ کمپنی دنیا بھر میں ریسرچ اور ڈویلپمنٹ میں خرچہ کرنے والی پانچویں اور دوسری جگہ پر آجائے گی۔ اپنی ویب سائٹ کے مطابق اسی ہزار ملازمین یا کمپنی میں کام کرنے والے45فیصد ملازمین ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کا کام کر رہے ہیں۔

ہواوے کا وژن ڈیٹا سنٹر کے لئے بنائی گئی مصنوعی ذہانت کی چپس میں ہے اور موبائل آلات کے لئے ڈیپ لرننگ سافٹ ویئر اور کلائوڈ میں ہے جو کہ ایمیزون، مائیکروسافٹ، یا گوگل کا متبادل پیش کر سکتی ہیں۔زو کا کہنا ہےکمپنی کلیدی تکنیکی چیلنجز پر تحقیقات کر رہی ہے، بشمول مشین لرننگ جو توانائی کا موثر استعمال کر سکیں اور اپ ڈیٹ کرنے میں آسان ہوں۔

لیکن ہواوے مغربی دنیا کو قائل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے کہ یہ قابل اعتماد ہوسکتی ہے۔ کمپنی کو ٹیکنالوجی کی چوری، جاسوسی اور دھوکہ دہی کے الزامات کا سامنا ہے اور اور اس کی نائب صدر اور سی ایف او (اور رین کی بیٹی) میگ وانجو کینیڈا میں نظر بند ہے اور اور وہ ممکنہ طور پر ا مریکہ بھیجے جانے کا انتظار کر رہی ہے۔امریکہ اور کئی دوسرے ممالک نے ہواوے کے آلات کی فروخت پر پابندی عائد کی ہے یاسختیاں عائد کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے ہواوے کی فائیو جی ٹیکنالوجی والے آلات کو چین کی حکومت سسٹمز پر حملہ کرنے کے لئے استعمال کر سکتی ہے یا حساس ڈیٹا حاصل کے کے لئے استعمال کر سکتی ہے۔زو نے کمپنی کی ساکھ کا دفاع کرتے ہوئے کہا: "ہواوے کا سیکورٹی کے معاملے پر ریکارڈ صاف ہے۔"

لیکن مصنوعی ذہانت اس طرح کے خدشات میں اضافہ کرتی ہے۔ مشین لرننگ والی خدمات خطروںکا ایک نیا ذریعہ ہیں، کیونکہ ہیکرز ان کا استحصال کر سکتے ہیں اور ایسی خدمات کو تربیت دینے والا ڈیٹا ذاتی معلومات پر مشتمل ہوسکتا ہے۔مصنوعی ذہانت میں الگورتھم کا استعمال بھی نظام کو زیادہ پیچیدہ بناتا ہے جس کا مطلب ہے کہ سیکورٹی کاآڈٹ بہت زیادہ مشکل ہے۔

ہواوے پر شک کرنے والوں کو یقین دلانے کے لئے زو نے وعدہ کیا ہے کہ ہواوے اپریل میں مصنوعی ذہانت کے اصولوں کے کوڈز جاری کرے گی۔اس سے یہ بات یقینی بنائی جا سکے گی کہ کمپنی صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت کریگی اوراور سیکورٹی کو یقینی بنائےگی۔ زو نے یہ بھی کہا کہ ہواوے اپنے بین الاقوامی حریفوں بشمول گوگل اور ایمیزون کے ساتھ شراکت داری کرنا چاہتی ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کویقینی بنایا جا سکے۔تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ اپنی مصنوعی ذہانت کی خدمات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کی اجازت دیگی جیسا کہ اس نے اپنے ہارڈ وئیر کا دیا ہے۔

زو نے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو بتایا، "انڈسٹری میں بہت ساری کمپنیاں بشمول ہواوے مصنوعی ذہانت کے اصول وضع کر رہی ہیں: اب کے لئے، ہم یقینی طور پر کم از کم تین چیزوں کے بارے میں جانتے ہیں: ٹیکنالوجی کو محفوظ اور شفاف ہونا چاہئے۔ صارفین کی رازداری اور حقوق کو تحفظ دی جانی چاہیے؛ اورمصنوعی ذہانت کو مساوات اور معاشرتی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا چاہیے۔ "

جیسا کہ ہواوے نے مصنوعی ذہانت میں پیش رفت کی ہے اور اپنے مکمل کمپنی بننے کے مقصد کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تاہم، یہ مغرب میں بہت ساروں کو کافی زیادہ طاقتور لگنے لگے گی۔

پہلے سے ہی، یہ بہت ساری خدمات پیش کر رہی ہے۔پچھلے سال ہواوے نے اپنے اسمارٹ فونز کے لئے ایک چپ کا آغاز کیا جسے اسنڈ کہتے ہیں جو کہ ماڈرن آئی فونز میں پائی جاتی ہے۔ اسی چپ میں مشین لرننگ والاکوڈ بھی ہے جو چہرے اور آواز کی شناخت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔چپ کے لئے ٹیکنالوجی Cambricon نامی ایک سٹارٹ اپ سے آئی جس کو چینی اکیڈمی آف سائنسز سے شروع کیا گیا لیکن ہواوے نے حال ہی میں کہا کہ یہ مستقبل کو ڈیزائن کریں گی۔

ہواوے بھی ڈیسک ٹاپ، سرورز اور ڈیٹا مراکز کے لئے مصنوعی ذہانت کی چپس فروخت کرتا ہے۔لیکن یہ چپس نوائیڈہ اور کوالکامQualcomm- (دونوں امریکی کمپنیوں) کی طرف سے پیش کیے گئے چپس سے پیچھے ہیں لیکن کوئی بھی دوسرا کاروبار اس طرح کے مصنوعی ذہانت کے ہارڈویئر سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔

پھر سافٹ ویئر بھی ہے۔ ہواوے کلائوڈ میں مصنوعی ذہانت کی 45 مختلف سروسز پیش کرتا ہے جن کا سکوپ گوگل، ایمیزون اور مائیکروسافٹ جیسے مغربی ادوروں سے ملتا جلتاہے ۔ 2019 کی دوسری سہ ماہی میں، ہواوے اپنا پہلا ڈیپ لرننگ کا فریم ورک جاری کرے گا جسے مائنڈ سپور( (MindSpore کہا جاتا ہے۔یہ فریم ورک گوگل کے کے ٹینسرفلو یا فیس بک کی پائی ٹارچ کے ساتھ مقابلہ کرے گا۔

ہواوے فائیو جی مصنوعی ذہانت کے لئے فراہم کئے گئے آلات کے لئے بھی پرعزائم ہے جو صنعتی مشینری سے خود کار ڈرائیورنگ تک ہر چیز میں ہوں گی۔ زو نے کہا ،ـ" ہمیں خرچہ کی لاگت بچانے کے لئےمصنوعی ذہانت کا استعمال کرنا ہوگا۔ٹیلی کام نیٹ ورک زیادہ تر زیادہ پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ 70 فیصد نیٹ ورک کی ناکامی انسانی غلطیوں کی وجہ سے ہوتی ہے، اور اگر ہم مصنوعی ذہانت نیٹ نیٹ ورک کی دیکھ بھال کے لئے استعمال کرتے ہیں تو 50 فیصد سے زیادہ ممکنہ ناکامیوں کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔"

و کی مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات اس حوالے سے بھی ہیںکہ وہ اس فیلڈ میں دنیا کی قیادت کر رہے ہیں۔ مصنوعی ہانت کے لئےاخلاقیات کو یقینی بنانا کا مطلب ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے مستقبل تشکیل دینے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔امریکہ نے تکنیکی حوالوں سے انٹرنیٹ کی ترقی میں اپنا وزن ڈالا ہے۔

اس حوالے سے ایک ریاستی تنظیم چینی ایسوسی ایشن برائے مصنوعی ذہانت نے ایک سال قبل ایک کمیٹی تشکیل دی تاکہ مصنوعی ذہانت کے لئے قومی اخلاقی کوڈ تیار کیا جائے۔ بیڈو، علی بابا اور ٹینسٹ سمیت چین کی بڑی ٹیک کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے اثرات کو سمجھنے کے لئے پر عزم ہیں۔
تاہم مصنوعی ذہانت کے لئے اخلاقیات ایک چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ مشرق و مغرب میں اس وقت اس حوالے سے کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ کئی قومی حکومتیں اور ساتھ ہی تنظیمیں جیسا کہ یورپی یونین بھی سڑک کے قواعد مقرر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ زو نے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو بتایا، "مصنوعی ذہانت نئی ویلیوز کے ساتھ ساتھ مسائل اور الجھائو لا رہی ہے۔اس کو حل کرنے کے لئے عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔"

اور ابھی تک بین الاقوامی تعاون میں امریکہ موجود نہیں ہے۔بلاشبہ اپنی سرحدوں کے باہر، امریکی حکومت ہواوے کو روکنے کے لئے صرف اتنا ہی کر سکتی ہے۔ کچھ اتحادی امریکہ کی کوششوں سے تنگ آ رہے ہیں؛برطانیہ اور جرمنی دونوں 5G سامان اور دیگر مصنوعات اور خدمات کی فراہمی کے حوالے سےہؤاوے پر پابندی عائد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

کمپنی کی لڑنے والی ممالک کے حوالے سے بھی کچھ حدود ہیں۔اپنے حالیہ تبصرے میں اس کے سی ای او رین نے کہا کہ کم از کم ٹیکنالوجی کی اصطلاح میں بین الاقوامی تصویر تبدیل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "اگر روشنی مغرب سے نکل جاتی ہے، تو بھی مشرق چمکے گا۔اور اگر شمال میں تاریکی ہو جاتی ہے تو بھی جنوب موجود ہے۔ امریکہ دنیا کی نمائندگی نہیں کرتا۔ امریکہ صرف دنیا کے ایک حصہ کی نمائندگی کرتا ہے۔"
کسی بھی طرح سے ہواوے موجود رہےگی۔

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top