Global Editions

چین ہر پرزے میں مصنوعی ذہانت والی چپ متعارف کرانے کے لئے کوشاں

مصنوعی ذہانت کی حالیہ ترقی کی وجہ سے کئی سالوں تک پیچھے رہنے والی چپ کی تخلیق کار کمپنیوں کو آگے بڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔

بیجنگ میں تسنگ ہوا یونیورسٹی کے ایک دفتر میں ایک کمپیوٹر چپ ایک قریبی کیمرے سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے ایک ڈیٹابیس میں ذخیرہ چہرے تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کچھ ہی سیکنڈ بعد یہ چپ، جس کا نام تھنکر (Thinker) ہے، چینی زبان میں وائس کمانڈز پر عمل کرنے لگ جاتا ہے۔ تھنکر نیورل نیٹورکس کی معاونت کے لیے تیار کیا گيا ہے، لیکن اس کی سب سے خاص بات اس کی توانائی کی بچت ہے۔ اس چپ کو ایک سال تک چلانے کے لئے محض آٹھ AA بیٹریاں کافی ہيں۔

تھنکر زیراستعمال سافٹ ویئر کی ضروریات کے مطابق اپنی کمپیوٹنگ اور میموری کی ضروریات کو حسب ضرورت اور عین وقت پر تبدیل کرسکتا ہے۔ یہ صلاحیت اس وجہ سے بہت اہم ہے کیونکہ حقیقی دنیا میں مصنوعی ذہانت کے کئی استعمالات، جیسے کہ تصویروں میں مخصوص اشیاء کی نشاندہی یا انسانی گفتگو کو سمجھنے کے لیے، مختلف تہوں پر مشتمل مختلف اقسام کے نیورل نیٹورکس کی ضرورت پڑتی ہے۔

دسمبر 2017ء میں کمپیوٹر ہارڈویئر ڈیزائن کے نمایاں جرنل IEEE Journal of Solid-State Circuits میں تھنکر کے ڈیزائن کی تفصیلات فراہم کی گئيں تھی، جو چینی محققین کے لیے بہت بڑا کارنامہ تھی۔

یہ چپ چین میں ٹیکنالوجی کی صنعت میں سامنے آنے والے ایک اہم رجحان کی صرف ایک مثال ہے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ہارڈوئیر کی موجودہ لہر کے باعث سیمی کنڈکٹر بنانے والی صنعت کو اپنے قدم جمانے کا منفرد موقع میسر ہوا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی کامیابی کمپیوٹر چپس کی کارکردگی پر منحصر ہے، لہذا اگر چین کو اس شعبے میں کچھ کر گزرنا ہے، تو اسے اپنی ہارڈویئر کی صنعت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہوگا۔

سنگ ہوا یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف مائیکروالیکٹرانکس کے نائب ڈائریکٹر اور تھنکر کے متعلق پیپر کے بانی شوئی ین (Shouyi Yin) چین میں نیورل نیٹورک پر مشتمل پراسیسرز کی تخلیق کی کوششوں کے بارے میں بتاتے ہیں، "چین میں ماضی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے مقابلے میں اس وقت مصنوعی ذہانت پر سب سے زيادہ تیزی سے کام ہورہا ہے۔"

جنوری اور ستمبر 2017ء کے درمیان، چین کی جڑے ہوئے سرکٹس کی درآمد 182.8 ارب ڈالر رہی، جو چائنا سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ایسوسی ایشن (China Semiconductor Industry Association) کے مطابق پچھلے سال سے 13.5 فیصد زيادہ تھی۔ اس کے برعکس امریکہ کی بڑی ٹیکنالوجی کی کمپنیاں، جن میں گوگل اور انٹیل کے علاوہ چند سٹارٹ اپ کمپنیاں بھی شامل ہیں، مصنوعی ذہانت میں استعمال ہونے والے چپس خود بناتی ہيں۔

دسمبر 2017ء میں چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے شائع ہونے والے تین سالہ ایکشن پلان میں 2020ء تک نیورل نیٹورک کی پراسیسنگ چپس کو وسیع پیمانے پر تیار کرنے کا ہدف شامل ہے۔

پہلے سے موجود تیز گرافکس چپس یا FPGA (ایک قسم کی خالی چپ جسے حسب ضرورت اور عین وقت پر ری کنفیگر کیا جاسکتا ہے) جیسی چپس استعمال کرکے مصنوعی ذہانت کا سافٹ ویئر استعمال تو کیا جاسکتا ہے لیکن یہ مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، اور انہيں بیٹری استعمال کرنے والے چھوٹے سائز کے آلات میں استعمال کرنا بھی ناممکن ہے۔ یہی وجہ سے کہ ہن کی ٹیم نے تھنکر تیار کیا۔

تھنکر کو کئی مختلف قسم کے آلات میں استعمال کیا جاسکتا ہے، جن میں سمارٹ فونز، گھڑیاں، گھریلو روبوٹس، اور دور دراز علاقہ جات میں تعین آلات شامل ہیں۔ ین کی ٹیم جلد ہی تھنکر سے آراستہ پہلا پراڈکٹ لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

چین میں اس قسم کے دوسرے کئی پراجیکٹس پر بھی کام جاری ہے۔ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز (Chinese Academy of Sciences) کے انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر ٹیکنالوجی (Institute of Computing Technology (ICT)) کی ایک ریسرچ ٹیم کوششوں کے نتیجے میں ایک مقامی سیمی کنڈکٹر کا تخلیق کار چھوٹی مقدار میں روبوٹس میں استعمال ہونے والی چپس تخلیق کرے گا۔ دادو نامی یہ چپ دو مرکزی حصوں پر مشتمل ہوگی، ایک نیورل نیٹورکس چلانے کے لئے اور دوسری حرکت کو کنٹرول کرنے کے لئے۔ نیورل مرکز بصارت کے الگارتھم کا ذمہ دار ہے، لیکن اس کے علاوہ یہ حرکت کے کور کو منزل تک پہنچنے کے لیے بہترین راستے یا کسی چیز کو اٹھانے کے لیے بہترین حرکت کے انتخاب میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے سائبر کمپیوٹنک لیب کے ڈائریکٹر اور روبوٹ چپ پراجیکٹ کے سربراہ ہنہی ہین (Yinhe Han) ایسی کئی مختلف ایپلی کیشنز کا خواب دیکھ رہے ہيں جن میں کافی پلانے والے روبوٹس سے لے کر ہاتھ کے اشاروں پر چلنے والے ڈرونز شامل ہیں۔ ان کے مطابق چین میں اس قسم کا سسٹم تیار کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ چین کی وسیع آبادی کی وجہ سے صارف کے تجربے کے بنیاد پر چپ کی ڈیزائن میں تجدید زيادہ جلدی ممکن ہے۔

چین نے ماضی میں بھی چپ کی صنعت میں انقلاب لانے کی کوشش کی تھی، لیکن یہ کوششیں زیادہ کامیاب نہيں رہی ہيں۔ 2001ء میں آئی سی ٹی نے ڈيسک ٹاپ سی پی یوز تیار کرنے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی تھی، جو لونگ سن (Loongson) نامی چپ بنانے والی کمپنی میں مرکزی کردار ادا کررہی تھی، لیکن اس کمپنی کی مصنوعات کچھ خاص مقبول ثابت نہيں ہوسکیں۔

چین میں جڑےہوئے سرکٹ کی صنعت نے بہت تیزی سے ترقی کرلی ہے، اور 2000ء اور 2016ء کے درمیان جڑے ہوئے سرکٹ کی عالمی پیداوار میں چین کا حصہ 58 فیصد رہا۔ اس کے برعکس، 2016ء میں PwC کے مطابق دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر کی تیاری میں چین کا حصہ صرف 14.2 فیصد رہا۔ 2015ء میں چین کی وفاقی حکومت نے Made in China 2025 نامی تخلیق کاری کی پالیسی کا اعلان کیا، جس کے اہداف میں چپ کی ڈیزائن اور تخلیق کاری کی صنعت کی فروغ بھی شامل تھی۔

تاہم چین کی چپ بنانے والی کمپنیوں کو اس طرح کا ماحول میسر نہيں ہے جس نے انٹیل یا این ویڈيا جیسی کمپنیوں کو جنم دیا تھا۔ بیجنگ میں واقع ویڈیو فوٹیج پراسیس کرنے والے ڈیٹا سنٹرز کے لیے مصنوعی ذہانت کی چپ بنانے والی کمپنی سمارکو (SmarCo) کے صدر ڈونگ روئی فین (Dongrui Fan) کہتے ہیں کہ کئی کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے بنے بنائے ہارڈویئر کی مارکیٹ چھوٹی ہوتی جارہی ہے۔

لیکن اب چین میں واقع مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی کمپنیاں اپنا ہارڈویئر خود تیار کرنے لگی ہيں۔

بیجنگ میں واقع گاڑیوں اور کیمروں میں مصنوعی ذہانت کی تکنیکوں پر کام کرنے والی کمپنی ہورائزن روبوٹکس (Horizon Robotics) کے ASIC ڈیزائن کے ڈائریکٹر فینگ شیانگ ما (Fengxiang Ma) کہتے ہیں کہ ان کمپنیوں کی تعداد میں کمی ہوتی رہے گی جو صرف چپس بناتی ہیں۔ دسمبر 2017ء میں ہورائزن نے دو کمپیوٹر وژن کے چپس لانچ کیں، جو گاڑیوں کے لیے راہ گیروں کی اور شاپنگ مالز کو آنے جانے والوں کے مختلف رجحانوں کی نشاندہی میں معاون ثابت ہوں گی۔ 2015ء میں قائم ہونے والی اس کمپنی میں اب 300 ملازمین کام کررہے ہيں۔

ما کہتے ہيں کہ ہورائزن روبوٹکس کا بنیادی کام چپس بنانا نہيں ہے، لیکن وہ اپنی مصنوعات کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور تخلیق کاری کے اخراجات کم کرنے کے لئے اپنے چپس خود بناتی ہے۔

فی الحال، چین میں چپس پر تحقیق کرنے والوں کو کئی مسئلے حل کرنے کی ضرورت ہے، جن میں اپنے چپ کی ڈیزائنز کو فروخت کے قابل بنانا، تخلیق کاری کے پیمانے کو وسیع کرنا، اور مصنوعی ذہانت کے باعث تیزی سے تبدیل ہونے والے ماحول میں اپنے پیروں پر کھڑا رہنا شامل ہیں۔ تاہم ان کمپنیوں کے عزائم اور حوصلے سے انکار نہيں کیا جاسکتا ہے۔ آئی سی ٹی کے ینہی ہان کہتے ہيں "خواب تو سب ہی دیکھتے ہيں، لیکن دیکھنا ہے کہ کون کتنا آگے بڑھ سکتا ہے۔"

تحریر: یٹنگ سن (Yiting Sun)

Read in English

Authors
Top