Global Editions

چین بمقابلہ امریکہ: کون جیتے گا اور کون ہارے گا؟

ایم آئی ٹی پروفیسر اور چین میں انٹریپرنیورشپ کے ماہر ہیشنگ ہوینگ کے ساتھ ایک انٹرویو

ہیشنگ ہوینگ بیجنگ میں پیدا ہوئے اور ہارورڈ سے تعلیم کرنے کے بعد، وہ اب ایم آئی ٹی کے سلون سکول آف مینیجمنٹ کے پروفیسر ہیں، اور چین میں انٹریپرنیورشپ اور اس ملک کی تیز ترقی میں حکومت کے کردار میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے سینیئر ایڈیٹر ول نائٹ نے ان سے حال ہی میں چین کے بڑی تیزی سے تبدیلی ہونے والے ٹیکنالوجی کے منظرنامے کے متعلق بات کی۔

چین ٹیکنالوجی کے کن شعبہ جات میں آگے ہے؟

اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ مصنوعی ذہانت اور بگ ڈیٹا میں چین بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ ترقی چینی حکومت کی سیاست اور اس کے "سماجی کریڈٹ سسٹم" جیسے اقدام کے عین مطابق ہے۔

اس کے علاوہ، لوگ حیاتیاتی سائنسز کی بھی بات کرتے ہیں۔ کچھ حد تک تو چین میں ان سائنسز میں پیش رفت مصنوعی ذہانت کی ترقی ہی کی طرح ہے، اور اس کی وجہ بھی وہی ہے۔ وہاں نہ تو پرائیوسی کے مسائل ہیں، نہ ہی تحفظات ہیں اور نہ ہی ضابطہ کار حکام کی پابندیاں۔

کہنا تو نہيں چاہیے، لیکن جہاں اس قسم کی پابندیاں نہ ہوں، وہاں سائنس بڑی تیزی سے ترقی کرسکتی ہے۔

کسی بھی ایسے شعبے میں جس میں بھاری بھرکم سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہو اور جو سیاسی اہداف کے مطابق ہو، چین کے آگے بڑھنے کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ اس میں کوانٹم کمپیوٹنگ اور شاید مائکروچپس بھی شامل ہیں۔

چین سرمایہ کاری، صلاحیتوں اور عاقلانہ ملکیت کے شعبہ جات میں کس حد تک امریکہ پر انحصار کرتا ہے؟

جہاں تک سرمایہ کاری کا تعلق ہے، چین امریکہ پر زيادہ انحصار نہيں کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، چین امریکہ کو صلاحیتیں فراہم کررہا ہے۔ رہی عاقلانہ ملکیت کی بات، اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہيں کہا جاسکتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ چین امریکی عاقلانہ ملکیت کی نقالی کرتا ہے، اور عمومی طور پر یہ بات غلط نہيں ہے۔ لیکن چین خود بھی آئی پی تخلیق کررہا ہے۔ تاہم میرے خیال سے چین اپنی تخلیق کاری کے چند اہم عناصر کے لیے نہ صرف امریکہ پر بلکہ جاپان، جنوبی کوریا اور کئی دیگر ممالک پر بھی انحصار کررہا ہے۔

تجارت کی اس جنگ میں سب سے زيادہ نقصان کس کو ہوگا؟

سچ پوچھیں تو چین کو۔

چینی معیشت بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، لیکن اس کا رجحان نیچے کی طرف ہے، جبکہ امریکی معیشت کا رجحان اوپر کی طرف ہے۔ امریکی معیشت اس قدر تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ کچھ لوگ تو کہہ رہے ہيں کہ یہ خود کو برقرار نہيں رکھ پائے گی۔ لیکن تجارتی جنگ کا سب سے زيادہ فائدہ اسی قسم کی معیشت کو ہوتا ہے۔ چینی معیشت اس آگے کی طرح ہے جو بجھنا شروع ہوگئی ہے، اور تجارتی جنگ اس آگ پر پانی ڈالنے کے مانند ہوگا۔ کیا امریکہ میں تجارتی جنگ برداشت کرنے کی صلاحیت ہے؟ یہ ایک علیحدہ سوال ہے۔ ہوسکتا ہے کہ امریکہ کو کم نقصان ہو، لیکن یہاں سیاسی نظام زيادہ حساس ہے۔

کیا امیگریشن کے قوانین تنگ کرنے سے امریکہ کے عاقلانہ ملکیت کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے؟

میرے خیال سے اس سے چین سے زيادہ امریکہ کو نقصان ہوگا۔ ایم آئی ٹی ہی کی مثال لے لیں۔ یہاں چینی طلباء اور چینی پروفیسرز نے ریسرچ میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر یہ عمل رک جائے تو اس سے ریسرچ اور جدت پر بہت برا اثر پڑے گا۔

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ چینی جاسوسی کرتے ہیں۔ یہ بات کچھ حد تک تو درست ہے، لیکن کسی ایک انسان کے جرم کرنے کی وجہ سے سب پر پابندی عائد نہيں کی جاسکتی۔ مسئلہ قانون و ضوابط کا ہے۔ آپ کو چینیوں کو روکنے کے بجائے، ان پر زيادہ کڑی نظر رکھنی چاہیے۔

چین کی معیشیت کی ترقی کے ساتھ سیاسی اصلاح سامنے کیوں نہيں آئی ہے؟

يہاں دو باتیں ہیں۔ سب سے پہلے تو چین کے اقدار ہیں، اور یہ بات صاف واضخ ہے کہ ان میں تبدیلی آرہی ہے۔ جمہوریت نہ بھی آئے، لیکن لوگوں کے ذہن کھل رہے ہیں۔ دوسری بات سیاست، یعنی سربراہی اور حکومت ہے۔

علوم معیشیت سے ہم یہ تو معلوم کرسکتے ہیں کہ ان اقدار میں کس حد تک تبدیلی آئے گی، لیکن ہم یہ نہيں جان سکتے ہيں کہ انتخابات کون جیتے گا۔ امریکہ ہی کی مثال لے لیں۔ ٹرمپ صدر بن گیا، لیکن علوم معیشیت کے اصولوں سے یہ بات کس طرح معلوم ہوسکتی تھی؟ سیاست ایک بالکل ہی الگ چڑیا ہے۔

حکومت انٹرپرینیورز کو کس حد تک معاونت فراہم کرتی ہے؟

عام طور پر حکومت سے نجی شعبے کو معاونت فراہم کرنے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ حکومت کے سوچ اور طور طریقے اسی وقت تبدیل ہوں گے اگر معیشیت کی ترقی کی رفتار میں قابل قدر کمی ہوگی۔ اور بات صرف تعاون کی نہيں ہے۔ بات حکومت کو نجی شعبے سے نکالنے کی ہے۔ کم از کم نجی اور سرکاری شعبے کے درمیان فرق واضح کرنا چاہیے۔ لیکن حکومت ایسا نہيں کرنا چاہتی۔

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top