Global Editions

تیانجن: چین کامستقبل کا شہر

چین کے شہر تیانجن کی مشرقی سمت میں بنائے گئے شہری منصوبے کو پہلی نظر دیکھ کر تو یہی لگتا ہے جیسے یہ عام شہروں کی طرح ہے لیکن غور سے دیکھیں گے تو یہ دوسرے شہروں سے مختلف اور ماحول دوست شہر ہے۔ سڑک کنارے کچرے کے ڈبے رات کے وقت سولرپینل کے ساتھ روشن ہو جاتے ہیں اور فری الیکٹرک بسیں شہر کی سڑکوں پر دوڑتی نظر آتی ہیں۔ برساتی پانی کے نکاس کیلئے زیر زمین پائپ ڈالے گئے ہیں۔ فٹ پاتھوں کے نیچے موـثر نکاسی کا نظام بھی موجود ہے ۔ نکاسی آب کے نظام کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ان میں سے کم سے کم پانی کا رساؤ ہو۔اس شہر میں بارش اور سیوریج کے پانی کو الگ سے جمع کیا جاتا ہے اور پانی کے بہاؤ کیلئے بڑے موٹر پمپس لگے ہوئے ہیں جو فی سیکنڈ 42.1 کیوبک میٹر پانی کھینچ کر مصنوعی جھیلوں میں لے جاتے ہیں۔

ٍ تیانجن کا یہ منصوبہ امریکی شہر مین ہٹن سے آدھے رقبے پر مشتمل ہے اور چین کی ماحول دوست پائیدار ترقی کیلئے یہ پہلی کوشش ہے ۔ یہ شہر چین کے اہم چیلنجوں مثلاً تیزی سے نقل مکانی کرتی ہوئی آبادی، بڑھتی ہوئی آلودگی اور ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کیلئے آباد کیا گیا ہے ۔ اگرچہ چین کی حکومت نے اسے ایک کامیاب منصوبہ قرار دیا ہے لیکن یہاں صرف 20,000 لوگ آباد ہوسکے ہیں جبکہ یہ شہر 2020ء تک 3,50,000 کی آبادی کیلئے ڈیزائین کیا گیا ہے۔ چین اور سنگاپور کے اشتراک سے اس ماحول دوست منصوبے کو مکمل کیا گیا۔ چینی حکومت نے اس منصوبے میں کی گئی مکمل سرمایہ کاری کے بارے میں نہیں بتایا تاہم منصوبے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس پر 2012ء تک 40ارب یوآن (5.6ارب ڈالر) فکسڈ اثاثوں کی صورت میں سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو تیانجن کا ماحول دوست شہر ی منصوبہ ایک ماڈل بن جائے گا۔ چین میں دس لاکھ سے زائد آبادی کے 171شہر ہیں ۔ اس کی 2030ء تک کُل شہری علاقوں پر مشتمل آبادی تقریباً ایک ارب تک پہنچ جائے گی۔ اس وقت تک چین کے شہروں میں 70فیصد آبادی ہو چکی ہو گی تب اتنی زیادہ آبادی کے ساتھ چین کے شہروں میں زندگی مشکل ترہو جائے گی۔

چین کے شہری مسائل ابھی سے بہت زیادہ ہو چکے ہیں ۔ صرف دارالحکومت بیجنگ کا دھواں اور دھند دنیا بھر میں مشہور ہے۔ شہروں میں صاف پانی کی فراہمی بھی ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ چین کی وزارت برائے ماحولیاتی تحفظ نے 2012ء میں 198شہروں کے زمینی پانی کا تجزیہ کرکے اسے "برا" اور "نہایت برا" کی دو درجہ بندیوں میں تقسیم کیا ۔ چین میں ماحول دوست شہر کیلئے جو اہداف مقرر کئے گئے ہیں ان میں قدرتی جھیلوں میں پانی کے نقصان کو صفر تک لانا، کم سے کم 60فیصد پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانا اورہر شخص کو کم از کم 12مربع میٹر سرسبززمین کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اس منصوبےکی تکمیل کے چھ سال بعد منصوبہ سازوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ طے شدہ اہداف حاصل کرلئے ہیں۔ تاہم ماحول دوست شہر کی انتظامی کمیٹی کی ماحولیاتی نگرانی کے ڈائریکٹر لیو ژو(Liu Xu)کہتے ہیں کہ اس میں وسیع تر مقاصد حاصل کرنے کیلئے صاف ہوا کے مقررہ معیار سے عارضی طور پر انحراف بھی کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس اور انجینئرنگ کے پروفیسر باؤ کُنکوان (Bao Cunkuan)کا کہنا ہے کہ ماحول دوست شہر کی مختصر آبادی ایک تشویشناک بات ہے۔ اس ماحول دوست شہر میں لوگوں کا ہجوم صرف لنچ کے وقت یا پھر 2300 بچوں کوسکول سے لانے لے جانے کے وقت نظر آتا ہے۔ فین ہونکن (Fan Hongqin)کا اس شہر میں منتقل ہونے کی وجہ ماحول نہیں بلکہ سکول تھے ۔ ان کی بیٹی دوسری جماعت کی طالبہ ہے جہاں غیر ملکی زبانیں بھی سکھائی جاتی ہیں۔ یہاں سکول کی مفت بس سروس، مفت کھانا اور کنڈرگارٹن بچوں کے والدین کی حوصلہ افزائی کیلئے ہزار یوآن (163ڈالر ) ماہانہ بھی دیئے جاتے ہیں۔ ایک دوپہر اپنی بیٹی کو سکول سے لیتے ہوئے فین ہونکن نے اعتراف کیا کہ یہاں کا ماحول رہنے کے قابل ہے تاہم محل وقوع تکلیف دہ ہے۔مثلاً فین ہونکن کو کپڑے خریدنےکیلئے تیانجن کے دوسرے حصے میں جانا پڑتا ہے جو شہر کے مرکز سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔

جہاں پر یہ منصوبہ مکمل کیا گیا ہے وہاں پر پہلے ایک گندے پانی کا تالاب تھا جو پارے اور ڈی ڈی ٹی سے بھرا رہتا تھا اور اس میں صنعتی فضلہ پھینکا جاتا تھا ۔ یہ علاقہ صاف ماحول کے تمام عناصر کھو بیٹھا تھا۔ تیانجن شہر کی ڈیویلپمنٹ کمپنی کے سی ای او ہو ٹونگ ین (Ho Tong Yen)کا کہنا ہے کہ اس علاقے کی صرف صفائی پر ہی ایک ارب یوآن (163ملین ڈالر )لاگت آئی۔لیکن اب یہ بانجھ، نمک اورالکلائن سے بھری ہوئی زمین سرسبز شہر میں بدل چکی ہے۔یہ صرف ایک بلند و بالا منصوبہ ہی نہیں بلکہ ابھرتا ہوا شہر ہے اور یہی ایک حقیقت ہے۔

تحریر: ییٹنگ سُون (Yiting Sun)

Read in English

Authors
Top