Global Editions

چین نے چاند سے پتھر زمین پر لانے کی پہلی مہم لانچ کرلی ہے

چینی خلائی مہم لانچ کرنے والا راکٹ
اگر یہ مہم کامیاب ہوجائے تو یہ 44 سال میں چاند سے حاصل کردہ پہلا نمونہ ہوگا۔

چین نے منگل کی صبح بحیرہ جنوبی چین میں واقع جزیرہ ہائنان سے اپنی Chang’e 5 خلائی مہم ہوا میں لانچ کی۔ اس مہم کا مقصد چین کی تاریخ میں پہلی بار سائنسی تجزیے کے لیے چاند سے مٹی اور پتھروں کے نمونوں کا حصول ہے۔

مزيد تفصیلات: Chang’e 5 چاند پر 27 نومبر تک پہنچے گا۔ یہ مہم چار حصوں، یعنی آربٹر (orbiter)، لینڈر (lander)، چڑھائی، اور واپسی کے کیپسیول پر مشتمل ہے۔ اس خلائی جہاز میں نصب کردہ الیکٹرانکس کو قمری رات کے انتہائی کم درجہ حرارت سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کسی بھی قسم کے ہیٹنگ یونٹس سے آراستہ نہيں کیا گیا۔  لِہٰذا اس مہم کو 14 روز کے اندر (یعنی چاند پر رات شروع ہونے سے پہلے) اپنے نمونے حاصل کر کے زمین واپسی کی تیاری کرنی ہوگی۔

اس مہم کا لینڈر چاند کے قریبی حصے کے مغرب میں واقع اوشیئنس پروسیلارم (Oceanus Procellarum) میں مونس رومکر (Mons Rümker) نامی غیر فعال آتش فشاں کے قریب پہنچ کر چاند کی سطح سے کم از کم چار پونڈ قمری مٹی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ سب سے پہلے چاند پر 6.5 فٹ تک کھدائی کرکے سطح کے نیچے سے قمری مٹی حاصل کی جائے گی۔ اس کے بعد ایک روبوٹک بازو چاند کی سطح سے مٹی حاصل کرے گا۔ پھر Chang’e 5 ایلیکٹرومیگنیٹک سپیکٹرم کے انفراریڈ حصے کے آس پاس کی فریکوئینسی استعمال کرنے والے ایک سپیکٹرومیٹر اور ایک ریڈار کی مدد سے چاند پر رہتے ہوئے مٹی کا تجزیہ کرے گا۔ یہ سپیکٹرومیٹر اور ریڈار اس خلائی جہاز کو بھاری بھرکم پتھروں سے بچنے میں بھی معاونت فراہم کریں گے۔

مٹی کے ان نمونوں کو چڑھائی کے لیے بنائے گئے ایک آلے میں لادا جائے گا جو اسے آربیٹر تک پہنچائے گا۔ یہ آربیٹر اس نمونے کو واپسی کے کیپسیول میں منتقل کرے گا جو مہم کامیاب ہونے کی صورت میں 17 دسمبر تک زمین پہنچے گا اور اندرونی مونگولیا کے قریب لینڈ کرے گا۔

اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

خلائی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مونس رومکر میں موجود پتھر ایک ارب سے زائد سال پرانے ہیں۔ اگر Chang’e 5 اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے تو یہ زمین پر لائے جانے والے نئے ترین قمری پتھر ہوں گے۔ اس کے برعکس ماضی میں ناسا کی اپولو مہموں کے نتیجے میں تین سے چار ارب سال پرانے پتھر لائے گئے تھے۔ ان نمونوں کی مدد سے سائنسدانوں کے لیے چاند کی تاریخ سمجھنا زیادہ آسان ہوگا اور ہمیں یہ معلوم ہوسکے گا کہ چاند ٹھنڈا کیسے ہوا اور اس کا مقناطیسی میدان کس طرح پھیلا ہوا ہے۔ اس مہم کے نتیجے میں چینی سائنسدانوں کو پہلی قمری مواد تک رسائی حاصل ہوگی۔ امریکی کانگریس کی طرف سے ناسا پر چین کے ساتھ کام کرنے اور انہیں اپولو مہموں کے حاصل کردہ نمونوں تک رسائی فراہم کرنے پر عائد کردہ پابندیوں کے باعث چین کو ماضی میں قمری نمونوں تک رسائی حاصل نہیں ہوئی۔

اگر یہ مہم کامیاب ہوگئي تو چین امریکہ اور روس کے بعد زمین پر قمری نمونے لانے والا تیسرا ملک ہوگا۔ آخری قمری نمونہ 1976ء میں روس کی لونا 24 (Luna 24) مہم کے دوران لایا گيا تھا۔ چاند سے نمونے زمین پر لانا بہت مشکل ہے اور اگر Chang’e 5 کامیاب ہوجائے تو یہ ٹیکنالوجی کے حوالے سے چین کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

Chang’e 5 چین کے شمسی ایکسپلوریشن پروگرام کی جدید ترین کڑی ہے۔ اب تک اس پروگرام کی سب سے بڑی کامیابی Chang’e 4 ہے، جو چاند کے اندھیرے حصے میں پہنچنے والا سب سے پہلا خلائی جہاز تھا۔ اس مہم کے نتیجے میں ہمیں چاند کے ان حصوں کے متعلق معلومات حاصل ہوئی جہاں اس سے پہلے اب تک کوئی نہيں جاسکا۔ Chang’e 6 چاند سے نمونے لے کر لوٹنے والا دوسرا خلائی جہاز ہوگا اور اس کی لانچ 2023ء یا 2024ء میں متوقع ہے۔

تحریر: نیل وی پٹیل (Neel V. Patel)

تصویر: ٹاپ فوٹو (TopPhoto) بذریعہ اے پی

Read in English

Authors

*

Top