Global Editions

چین پہلی بار قمری پتھر زمین تک لانے میں کامیاب ہوگیا

چینی لینڈر سے چاند کی سطح پرکھینچی گئی ایک تصویر۔
اس خلائی مہم کی کامیابی کے بعد چین چاند سے پتھر لانے والا تیسرا ملک بن گيا ہے۔

چین کی Chang’e 5 خلائی مہم 17 دسمبر کو زمین پر قمری پتھر اور مٹی کے نمونے لانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اس سے پہلے 1976ء میں آخری بار زمین پر قمری پتھر لائے گئے تھے۔ یہ پہلی چینی مہم ہے جو چاند سے نمونے حاصل کر کے زمین لوٹی ہے۔

تفصیلات: اس خلائی جہاز کا کیپسیول چاند سے واپسی کے بعد مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی رات 2 بجے مونگولیا میں لینڈ کر گیا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ایک ٹیم نے ٹرکس اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے اس کیپسول کو ڈھونڈ نکالا اور قمری نمونے بازیاب کر لیے۔

چین کی یہ 23 روزہ خلائی مہم 23 نومبر کو شروع ہوئی تھی، جب Chang’e 5 کو ہائنان کے جزیرے سے لانچ کیا گیا تھا۔ آٹھ روز بعد اس خلائی مہم کے لینڈر نے چاند پر پہنچ کر کھدائی شروع کردی۔ اس مہم کے دوران چاند کی سطح کے علاوہ سطح کے نیچے سے قمری مواد حاصل کیا گيا۔ اس مہم کا مقصد چاند سے کم از کم چار پونڈ قمری مواد حاصل کرکے اسے زمین پر لانا تھا۔

ان نمونوں کو 6 دسمبر کو چڑھائی کی گاڑی میں لادنے کے بعد ایک آربٹر (orbiter) میں منتقل کیا گيا، جو 13 دسمبر کو زمین کی طرف روانہ ہوا۔

آگے کیا ہوگا؟  1970ء کی دہائی میں اختتام پذير ہونے والی اپولو (Apollo) کی مہموں کے نتیجے میں زمین پر لائے جانے والے قمری پتھروں کی عمر تین سے چار ارب سال کے درمیان ہے۔ اس کے برعکس Chang’e 5 میں چاند کے قریبی حصے کے شمال مشرق میں واقع مونس روکمر (Mons Rükmer) نامی خطے سے پتھر حاصل کیے جائيں گے، جن کی عمر محض 1.2 اراب سال ہے۔ اس طرح سائنسدانوں کے لیے چاند کی ارتقاء کا مطالعہ اور دوسرے سیاروں اور سیارچوں سے حاصل کردہ نمونوں کی عمر کے تخمینے کی نئی تکنیکوں کی ٹیسٹنگ ممکن ہوگی۔

یہ خلائی مہم چین کے لیے اس قدر اہم کیوں ہے؟ Chang’e کے قمری پروگرام میں چاند کی سطح پر دو قمری روورز (rovers) شامل ہیں، اور یہ اب تک بہت کامیاب مہم ثابت ہوا ہے۔ Chang’e 5 ایک بہت مختصر مہم تھی، لیکن یہ چین کی اب تک سب سے پیچیدہ خلائی مہم ہے۔ چین کا چاند کی مزید تفتیش کرنے کا ارادہ ہے۔ 2023ء یا 2024ء تک قمری نمونے حاصل کرنے والی اگلی مہم Chang’e 6 بھی لانچ ہوجائے گی۔

تحریر: نیل وی پٹیل (Neel V. Patel)

تصویر: سی این ایس اے (CNSA)

Read in English

Authors

*

Top