Global Editions

چین 5G ٹیکنالوجی میں بہت آگے نکل رہا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟

وائرلیس ٹیکنالوجی کی آنے والی نسل کم توانائی استعمال کرتے ہوئے بہت تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اسی لیے بیجنگ یہ ٹیکنالوجی اپنانے کے لیے دوڑ لگارہا ہے۔

ضلع فینگ شین بیجنگ کے جنوب مشرق میں واقع ایک چھوٹا سے قصبہ ہے جو ماضی میں اپنے پیٹروکیمیکل اور سٹیل کی فیکٹریوں کے لیے مشہور تھا۔ تاہم آج یہ ضلع موبائل ٹیکنالوجی کے ایسے انقلاب کا حصہ ہے، جس نے پورے چین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس قصبے میں 5G ٹیکنالوجی کا دنیا کے سب سے وسیع نیٹورک قائم کیا جارہا ہے۔

پچھلے سال فینگ شین کی حکومت اور چین کے سب سے بڑے موبائل آپریٹر چائنا موبائل نے ایک 6 میل (یعنی 10 کلومیٹر) لمبی سڑک پر 5G کے ٹاور لگوائے تھے۔ ستمبر 2018ء سے کمپنیاں خودکار گاڑیوں اور ان کے اطراف کے درمیان وائرلیس مواصلت کی ٹیسٹنگ کے لیے یہ وائرلیس کنکشن استعمال کررہی ہیں۔ یہ 5G کا نیٹورک سڑک کے اوپر نصب ویڈیو کیمروں، گاڑیوں کے سینسرز اور سڑک کے کنارے نصب سینسرز سے حاصل کردہ ڈیٹا کو ایک مقامی ڈيٹا سینٹر کی جانب بڑھا دیتے ہیں، جہاں اس معلومات کا تجزیہ کیا جاتا ہے، جس کے بعد اسے نیویگیشن میں معاونت کے لیے گاڑیوں کی طرف بھیج دیا جاتا ہے۔

5G سے یہ سب کس طرح ممکن ہے؟ موبائل ٹیکنالوجی کی سابقہ نسلوں کے برعکس، جن میں ایک وقت میں ایک ہی فیچر متعارف کیا جاتا تھا (1G میں آپ چلتے پھرتے فون پر بات کرسکتے تھے، 2G ٹیکنالوجی کی مدد سے آپ ٹیکسٹ پیغامات بھیج سکتے تھے، 3G کی وجہ سے ہم انٹرنیٹ استعمال کرنے لگے، اور 4G نے ہمیں سٹریمنگ کی صلاحیت دی)، 5G ٹیکنالوجی سے کئی ڈرامائی فیچرز متعارف ہوں گے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے 4G کے مقابلے میں سو گنا زیادہ تیز رفتار ممکن ہوگی، اور پراسیسنگ کی تاخیر کا خاتمہ ہوگا۔ اس کے علاوہ، یہ ٹیکنالوجی اربوں مشینوں اور سینسرز کو بیٹری چوسے بغیر کم لاگت میں متصل کرنے کے لیے ایجاد کی گئی تھی، جس کی وجہ سے انٹرنیٹ آف تھنگز کی پیش رفت بھی ممکن ہوگی۔

چین کو یہ بات بہت اچھے سے معلوم ہے۔ اپنے تیرہویں پانچ سالہ منصوبے میں حکومت نے 5G ٹیکنالوجی کو ایک ابھرتی ہوئی صنعت اور آگے بڑھنے کے لیے ضروری شعبہ قرار دیا، اور میڈ ان چائنا کے 2025ء کے منصوبے میں، جس میں چین کا عالمی تخلیق کے شعبے میں پوری دنیا کو پیچھے چھوڑنے کے ہدف کا خاکہ بیان کیا گیا ہے، چینی حکومت نے "پانچویں نسل کی موبائل مواصلت میں نئے انکشافات" کرنے کا عہد کیا ہے۔

یہ بات صاف واضح ہے کہ چین نے اس ٹیکنالوجی کو کامیاب بنانے کی ٹھان لی ہے، اور وہ بھی بہت بڑے پیمانے پر۔ لیکن اس سب کا کیا مطلب ہے؟

چین 5G ٹیکنالوجی پر اتنی محنت کیوں کررہا ہے؟

اس کی ایک وجہ تو قومی وقار ہے۔ چین کے لیے 5G عالمی پیمانے پر وائرلیس ٹیکنالوجی کے شعبے میں نام کمانے کا بہت اچھا موقع ہے۔ 1990ء کی دہائی میں یورپی ممالک نے 2G ٹیکنالوجی کو سب سے پہلے اپنایا تھا، 2000ء کی دہائی میں جاپان نے 3G کی بنیاد رکھی تھی، اور 2011ء میں امریکہ نے 4G کی لانچ میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ اب چین کی باری ہے۔ چین کی سب سے بڑی موبائل کمپنی چائنا موبائل کے سابقہ چیئرمین جین ژہو وینگ (Jianzhou Wang) نے ایک انٹرویو کے دوران چین کے موبائل انفراسٹرکچر کے 1G سے 5G کے سفر کو "کچھ نہيں سے بہت کچھ" تک کا سفر قرار دیا۔

ایک اور وجہ پیسہ ہے۔ چینی حکومت کی نظر میں 5G ٹیکنالوجی ملک کے ٹیک سیکٹر اور معیشت کے لیے بہت ضروری ہے۔ کئی سالوں تک ٹیک کی مصنوعات کی نقول بنانے کے بعد اب چین کی ٹیک کی کمپنیاں ایپل یا مائیکروسافٹ کی طرح اربوں کی مالیت رکھنے والی کمپنیاں بننا چاہتی ہیں۔

سرکاری ریسرچ ادارے چائنا اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (China Academy of Information and Communications Technology - CAICT) کے تخمینے کے مطابق 5G ٹیکنالوجی 2030ء تک ملک بھر میں آٹھ لاکھ سے زیادہ اسامیاں پیدا ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دوران توانائی اور ہیلتھ کیئر جیسی بڑی صنعتیں 5G آلات اور وائرلیس سہولت پر مجموعی طور پر اربوں ڈالر خرچ کریں گی۔

چین اسے کس طرح ممکن بنا رہا ہے؟

چین کی حکومت تین موبائل کے آپریٹرز (چائنا موبائل، چائنا ٹیلی کام اور چائنا یونی کوم) چلاتی ہے، اور وہ انہيں درجنوں شہروں میں، جن میں بیجنگ، شینگہائی اور شین ژہین شامل ہیں، وسیع پیمانے پر 5G ٹیسٹ نیٹورکس عملدرآمد کرنے کے سلسلے میں رہنمائی کررہی ہے۔ چائنا موبائل کے مطابق ان کے ٹیسٹس ہی دنیا کا 5G کا سب سے بڑا ٹرائل نیٹورک ہیں۔

حکومت کی رہنمائی کے تحت چینی کمپنیوں نے 2013ء میں 5G ٹیکنالوجی پر تحقیق اور 2016ء میں متعلقہ ٹیکنالوجیز پر تکنیکی ٹرائلز منعقد کرنا شروع کردیے تھے۔ سرمایہ کاری کے انتظام کی فرم سین فورڈ سی برن سٹین کی تحقیقی تجزیہ کار کرس لین کا کہنا ہے "زیادہ تر عالمی ٹیلی کام کمپنیاں مقابلے کو دیکھتے ہیں اور زیادہ تیزی سے سرمایہ کاری نہيں کرتی ہیں، لیکن چینی آپریٹرز حکومتی پالیسی کی عملدرآمدگی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہيں۔"

بیجنگ نے چینی آپریٹرز کو 5G کے لیے سپیکٹرم بھی دینے کا عہد کیا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ اور دوسرے ممالک میں آپریٹررز کو سپیکٹرم حاصل کرنے کے لیے ضابطہ کار حکام کو اربوں ڈالر ادا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان ریڈیو فریکوینسیوں میں وائرلیس سگنلز چلتے ہیں، اور یہ موبائل فون کی سہولت، خصوصی طور پر 5G کے لیے بہت ضروری ہیں، جسے صارفین کو تیزرفتار انٹرنیٹ فراہم کرنے کے لیے وافر مقدار میں بینڈوڈتھ فراہم کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔

چین میں یہ کس طرح ممکن ہوگا؟

چین کا سب سے پہلے 5G ٹیکنالوجی کا سمارٹ شہروں اور متصل گاڑیوں میں استعمال کرنے کا ارادہ ہے۔ اس کی ایک بہت اچھی مثال شیونگ این نامی شہر ہے جو حکومت بیجنگ سے 80 میل (129 کلومیٹر) کے فاصلے پر بنارہی ہے۔ چائنا موبائل اور چائنا ٹیلی کام یہاں پہلے ہی سے ٹیسٹ کے نیٹورکس قائم کرچکے ہیں۔ ویب کمپنی بیدو جیسی کمپنیاں ان نیٹورکس کی مدد سے واقعات کو ورچول رئیلٹی میں لائیوسٹریم کرنے اور فینگ شین میں خودکار گاڑیوں کو حادثات سے بچنے کے لیے ڈیٹا کی ترسیل کو ممکن بنانے کے لیے استعمال کررہی ہیں۔ مقامی حکام ٹیلی میڈیسن اور شہری انفراسٹرکچر سے تعلق رکھنے والی ایپلی کیشنز بنانے پر آمادہ کررہے ہیں، اور چینی کمپنیاں 5G ٹیکنالوجی کی مدد سے فیکٹری کے آلات میں کنکٹیویٹی اور ذہانت شامل کرنا چاہتے ہيں۔

سیاسی خطرات کی کنسلٹنسی یورایشیا گروپ کے لیے عالمی ٹیکنالوجی کی پالیسی کے تجزیہ کار پال ٹریولو کہتے ہیں "چینی شہروں میں بہت افراتفری مچی ہوئی ہے حکومت کا خیال ہے کہ 5G ٹیکنالوجی سے اسے ٹریفک کو بہتر بنانے اور شہروں کو رہنے کے زیادہ قابل بنانے میں مدد ملے گی۔"

چینی کاروباروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

مضبوط 5G نیٹورکس تک رسائی سے چین کو انہیں استعمال کرنے والی سہولیات تیار کرنے اور ان سے رقم کمانے میں بہت فائدہ ہوگا، ٹھیک اسی طرح جس طرح سیلیکون ویلی کو 4G نیٹورکس متعارف ہونے کے بعد انسٹاگرام، اوبر اور یوٹیوب جیسے ایپ سے فائدہ ہوا تھا۔ امریکہ 4G کو وسیع پیمانے پر متعارف کرنے والا پہلا ملک تھا، اور امریکی کمپنیوں نے اس کا فائدہ اٹھا کر اپنی ایپس کو پوری دنیا میں مشہور کردیا۔ اسی طرح چین کا تخلیق مرکز شین ژہین بھی 5G سے فائدہ اٹھا کر بڑی تعداد میں آلات کو کلاؤڈ سے متصل کرکے انٹرنیٹ آف تھنگز میں بازی مار سکتا ہے۔

کیا امریکہ پیجھے رہ جائے گا؟

اس کا انحصار 5G کی دوڑ کی تعریف پر ہے۔ کسی بھی تجارتی سہولت کی لانچ کے اعتبار سے امریکہ نے چین کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ویرائزن نے اکتوبر میں امریکہ کے چار شہروں میں گھر اور دفاتر کے لیے وائرڈ براڈبینڈ کی وائرلیس شکل کی صورت میں اپنی 5G کی سہولت بیچنا شروع کردیا ہے۔ اے ٹی اینڈ ٹی بھی بارہ شہروں میں موبائل 5G سہولت متعارف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور ٹی موبائل اور سپرنٹ 2019ء تک 5G نیٹورکس آن کرلیں گے۔ اس کے برعکس چین میں 2020ہ تک 5G سہولت متعارف کرنے کا کوئی ارادہ نہيں ہے۔

تاہم اگر آپ تمام بڑے شہروں میں 5G متعارف کرنے کو ترقی سمجھتے ہيں تو چین کا آگے نکلنے کا بہت بڑا امکان ہے۔ چین کے موبائل آپریٹرز کے لیے انفراسٹرکچر بنانے والی کمپنی چائنا ٹاور حکومت کی جانب سے سپیکٹرم مختص کرنے کے تین سال کے اندر پورے ملک میں 5G ٹیکنالوجی فراہم کرسکتی ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو 2023ء تک پورے ملک میں 5G کی کوریج ہوگی۔

امریکہ میں زیادہ انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوگی، اور اس عمل میں زيادہ وقت لگے کا۔ نوکیا کے لیے عالمی 5G ٹیکنالوجی کی سربراہی کرنے والے مائک مرفی کے مطابق چینی کیریئرز اسی طرح کا سپیکٹرم بینڈ استعمال کريں گے جس طرح انہوں نے 3G اور 4G ٹیکنالوجی کے لیے استعمال کیا تھا، جس وجہ سے ان کے لیے موجودہ سیل سائٹس کو استعمال کرنا ممکن ہوگا۔ تاہم امریکہ میں اے ٹی اینڈ ٹی اور ویرائزن ایسا ہائی فریکوینسی کا بینڈ استعمال کرنے والے ہيں جس میں سگنلز زیادہ دور تک سفر کرنے سے قاصر ہوگی، اور اس کے لیے 4G کے مقابلے میں تین سے چار گنا زیادہ سیل سائٹس کی ضرورت ہوگی۔ ان کیریئرز کو ہر شہر میں سائٹس نصب کرنے کے لیے معاہدے کرنے ہوں گے، اور انہیں اس میں مزاحمت کا سامنا ہورہا ہے۔

آلات بنانے والی کمپنیوں کا خیال ہے کہ چین 5G ٹیکنالوجی کو زیادہ جلدی متعارف کرنے میں کامیاب رہے گا۔ موبائل نیٹورک کے آلات بنانے والی کمپنی ایرکسن میں 5G کو تجارتی شکل دینے کی کوششوں کی سربراہی کرنے والے تھومس نورین کہتے ہیں "تاریخ گواہ ہے کہ چینی آپریٹرز اپنی سہولتوں میں بڑی تیزی سے اضافہ کرتے ہیں۔ انہوں نے ابھی سے ہی امریکہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع 4G نیٹورکس بنالیے ہیں۔"

تاہم صرف نیٹورک کے پیمانے سے ہی کامیابی کا تعین نہيں ہوگا۔ لین کہتے ہیں "جدت پسندی کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہوگا۔"

تحریر: الیزابیتھ ووئیک (Elizabeth Woyke)

Read in English

Authors
Top